معزز قارئین!۔ پرسوں (5ستمبر کو ) روزنامہ ’’92 نیوز‘‘ میں صفحہ اوّل پر سنگل کالم میں ، امیر جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ) کا بیان شائع ہُوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ 7 ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ میں قادیانیت کے خلاف متفقہ آئینی ترمیم پاس کر کے امت ِ مسلمہ نے عظیم فتح حاصل کی تھی، اُس کی یاد میں مَیں پوری قوم سے اپیل کرتا ہُوں کہ’’7 ستمبر بروز ہفتہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ’’ یوم ختم نُبوّت ‘‘ پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہُوئے اجتماعات اور مظاہرے کئے جائیں اور اِس تاریخی دِن امتّ مسلمہ کی فتح کے طور پر منانے کا پوری طرح اہتمام کِیا جائے ‘‘۔ کل (6 ستمبر کو ) ایک اور روزنامہ میں صفحہ اوّل پر سنگل کالم خبر شائع ہُوئی ہے جس میں اُس کے نمائندے نے لکھا ہے کہ ’’کل (7 ستمبر کو) ملک بھر میں یوم ختم نبوت منایا جائے گا ۔ اِس سلسلے میں مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے تقریبات ، سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدتؔ پیش کِیا جائے گا، جن کے دورِ حکومت میں قادیانیوں کو اقلیت ( غیر مسلم ) قرار دِیا گیا تھا ۔ تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں 22 ویں عالمی کانفرنس 7 ستمبر کو ’’جامعہ عثمانیہ ختم نبوت ‘‘ مسلم کالونی چناؔب نگر میں ہوگی‘‘۔ ( ترمذی ، مسند ِ احمد ) کے مطابق سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمتّ مسلمہ سے فرمایا کہ ’’ اب مَیں آخری نبی ؐ ہُوں اور تُم آخری اُمتّ ‘‘۔ ( ترمذی، کتاب اُلمناقب ) کے مطابق آنحضرت ؐ نے فرمایا کہ ’’ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر بن الخطاب ؓ ہوتے ‘‘۔ (بخاری و مسلم ) کے مطابق حضور پُر نُور ؐ نے حضرت علی ؑ سے فرمایا کہ ’’ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو، موسیٰ ؑ کے ساتھ اُن کے بھائی ہارونؔ کی تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ‘‘۔ معزز قارئین!۔ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ قوم مُغل (برلاس) 1838ء میں متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گورداس پور ( موضع قادیان) میں پیدا ہُوئے اور 1908ء میں اُن کا انتقال ہوگیا ، پھر اُن کے کئی خُلفاء ہُوئے اور جب، 7 ستمبر 1974ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دَور میں آئین میں دوسری ترمیم کے بعد قادیانیوں ( اور لاہوری احمدیوں کو ) اقلیت ( غیر مسلم ) قرار دِیا گیا تو، اُن کے خلیفہ اپنا ’’ قصرِ خلافت‘‘ پاکستان سے باہر لے گئے؟۔ مرزا غلام احمد نے متحدہ ہندوستان میں پہلے مسیحت ؔاور پھر نبوّت ؔکا دعویٰ کِیا تو ، مختلف مسالک کے عُلماء اِسلام نے اُن کے خلاف کُفر کا فتویٰ دِیا لیکن، اُن کے پیروکاران قیام پاکستان کے بعد بھی مختلف شعبوں میں فعال رہے لیکن، 7 ستمبر 1974ء کے بعد (سرکاری طور پر ) اُن کی حیثیت غیر مسلم کی ہے ۔ ’’ مصّورِ پاکستان‘‘ علاّمہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ ’’ اجتہاد ‘‘ کا حق کسی عالمِ دین یا عُلماء کے بجائے کسی مسلمان ملک کی قومی اسمبلی کو ہے۔ (بے شک اُس اسمبلی میں منتخب عُلماء بھی موجود ہوں ؟) ۔ علاّمہ اقبالؒ کے اِس فلسفہ اجتہاد پر عمل کرتے ہُوئے ’’ اتا تُرک‘‘ مصطفی کمال پاشا نے تُرکیہ کی "Grand National Assembly"کے اجلاس میں خلافت کے ناکارہ ادارے کا خاتمہ کر کے 29 اکتوبر 1923ء کو تُرکیہ جمہوریہ بنا دِیا ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ، قادیانیوں ( اور لاہوری احمدیوں ) کو اقلیت ( غیر مسلم ) قرار دینے کا فیصلہ بھی علاّمہ اقبالؒ کے فلسفہ اجتہاد کے تحت کِیا ۔ شاید اِسی لئے بعض مذہبی طبقے بھی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو اِس فیصلے پر خراجِ عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں ۔ معزز قارئین!۔ مَیں جب بھی اپنے بیٹوں سے ملنے کے لئے لندن جاتا ہُوں تو، مَیں 1981ء سے اپنے دوست ’’ بابائے امن ‘‘ ملک غلام ربانی (اور پھر اُن کے دوستوں سے بھی ) ملاقات کے لئے گلاسگو جاتا رہتا ہُوں۔ وہاں مجھے کئی بار ’’ بابائے امن‘‘ کے ساتھ گلاسگو کی "Central Mosque" (مرکزی مسجد) میں نمازِ جمعہ پڑھنے کا موقع ملا ہے ۔ جمعہ کے خطبہ سے پہلے دو بار جب، مسجد کے خطیب مولانا حبیب اُلرحمن سے 7 ستمبر 2014ء کو قادیانیوں ( اور لاہوری احمدیوں ) کو اقلیت ( غیر مسلم ) قرار دینے پر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے نام کے ساتھ ۔’’ رحمتہ اللہ علیہ ‘‘ کہتے سُنا ۔ اب مَیں کیا کروں؟۔ کہ مجھے مختلف مسالک کے عُلماء کے مخالف مسالک کے عُلماء اور عقیدت مندوں کے خلاف فتوے بھی یاد آتے ہیں؟۔ تحریک پاکستان کے مخالف مذہبی لیڈروں ، ’’دار اُلعلوم دیو بند ‘‘ کے اُن عُلماء کی یاد آتی ہے جنہوں نے ’’ دو قومی نظریہ‘‘ کے علمبردار سرسیّد احمد خان، مصّورِ پاکستان ، علاّمہ اقبالؒ اور بانیٔ پاکستان، حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خلاف کُفر کے فتوے دئیے تھے لیکن، دار اُلعلوم دیو بند ہی کے مولانا اشرف علی تھانوی ؒ، علاّمہ شبیر احمد عثمانی اؒور مولانا مفتی محمد شفیع ؒنے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کِیا۔ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ معزز قارئین!۔ ’’جوابِ آں غزل ‘‘ کے طور پر 27 نومبر 1945ء کے عام انتخابات میں مولانا مفتی محمد شفیع ؒصاحب نے یہ فتویٰ دِیا تھا کہ ’’ کسی بھی مسلمان کا ’’ آل انڈیا مسلم لیگ ‘‘ کے مقابلے میں ’’ انڈین نیشنل کانگریس‘‘ کے امیدواروں کی حمایت ۔ ’’ کُفر کی حمایت‘‘ ہے۔ اُس کے بعد مختلف شہروں میں ’’ آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کے امیدواروں کی طرف سے اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں ، یہ فتویٰ پوسٹروں کی شکل میں چھپوا کر دیواروں پر چسپاں کِیا گیا تھا۔ اِس کے باوجود قیام پاکستان کے بعد ’’ کانگریسی مولویوں کی باقیات‘‘ کی طرف سے قائداعظمؒ کے خلاف ہرزہ سرائی جاری رہی۔ 1993ء میں ایک قومی اخبار کے ’’ سنڈے میگزین‘‘ کو انٹرویو دیتے ہُوئے فضل اُلرحمن صاحب نے کہا تھا کہ ’’ محمد علی جناحؒ کوئی پیغمبر نہیں تھے کہ ’’ اُن پر کوئی تنقید نہیں کی جاسکتی‘‘۔ بعد ازاں 31 مارچ 2013ء کو لاہور میں (علاّمہ اقبالؒ کے نام سے منسوب ) مینارِ پاکستان کے زیر سایہ ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہُوئے فضل اُلرحمن صاحب نے کہا تھا کہ ’’ ہندو اب بھی ایک قوم ہے لیکن، برصغیر کے مسلمانوں کو تین حصّوں میں یعنی ۔ ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تقسیم کردِیا گیا ہے ‘‘۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت کی کُرسی پر ( دراصل قائداعظمؒ کی کُرسی ) پر بیٹھنے والے میاں شہباز شریف نے اپنے ’’برادرِ بزرگ ‘‘ نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کے حکم سے ، 9 ستمبر 2018ء کے صدارتی انتخاب میں ، فضل اُلرحمن صاحب کو صدارتی امیدوار نامزد کِیا تھا۔ اُنہوں نے اِس بات کی پروا نہیں کی تھی کہ ’’ قیام پاکستان کے بعد فضل اُلرحمن صاحب کے والد مفتی محمود کا یہ بیان "On Record" ہے کہ ’’ خُدا کا شُکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گُناہ میں شامل نہیں تھے‘‘ ۔ معزز قارئین!۔ مجھے نہیں معلوم کہ ’’ آج ’’ یوم ختم نبوت ‘‘ یا ’’ یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ پر کس طرح کی تقاریر ہوں گی ؟لیکن، میری اُن تمام عُلماء اور مقررین سے گزارش ہے کہ ، وہ آج حکمرانوں اور دوسرے با اختیار لوگوں کو علاّمہ اقبالؒ کے حوالے سے یہ خُدائی پیغام ضرور پہنچائیں کہ … قُوّتِ عشق سے ، ہر پَست کو بالا کردے! دہر میں ، اِسم ِ محمدؐ سے ، اُجالا کردے! لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’کیا نوابوں اور جاگیرداروں کی سی زندگی بسر کرنے والے سیاسی عُلماء ، کسی کو بھی یہ خُدائی پیغام پہنچا سکتے ہیں؟۔