صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خواتین کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لائے بغیر پاکستان کی معاشی اور مالی خود مختاری کا خواب سچ نہیں ہو سکے گا۔پاکستان کی آبادی کا 54فیصد خواتین پر مشتمل ہے بدقسمتی سے ہمارا سماجی ماحول معاشرے میں خواتین کی صلاحیتوں کے پنپنے میں بڑی رکاوٹ رہا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں گزشتہ ایک دھائی سے سبھی حکومتوں نے خواتین کو سماجی اور معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لئے کافی حد تک قانون سازی کی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ قوانین بھی غیر موثر ثابت ہو رہے ہیں آج بھی دیہی علاقوں کی تو دور کی بات شہروں میں معروف انڈسٹریز میں خواتین کی اجرت مردوں کے مقابلے میں کم اور اوقات کار زیادہ ہیں۔ حکومت نے بچیوں کو سکول داخل کروانے کی ترغیب دینے کے لئے سکالر شپ متعارف کروایا ہے مگر آج بھی بچیاں سکول جانے کے بجائے شہروں میں گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ صدر مملکت نے خواتین کو قوم دھارے میں لانے کی بات کی ہے جو یقینا لائق تحسین ہے مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت خواتین کے حوالے سے قواین پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بناتی۔ بہتر ہو گا حکومت بچیوں کی لازمی تعلیم کے ساتھ ملازمت کے مواقع بھی یقنی بنائے تاکہ خواتین کو حقیقی سماجی اور معاشی مساوات میسر ہو اور ملک ترقی کر سکے۔