گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب نے ، صوبے بھر کی مقتدر دینی اور مذہبی شخصیات کو، رواں ماہ یعنی محرم الحرام میں بین المسالک ہم آہنگی کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کے لیے ، مدعو کر رکھا تھا ، امن اور استحکام کی تو سوسائٹی اور سٹیٹ کو ہمیشہ، ہی ضرورت ہوتی ہے ، قمری سال کے آغاز پر اس اہتمام کے اثرات ، مابعد بھی جاری رہتے ہیں ، سب سے بڑھ کر یہ کہ اس اجلاس میں عمائدینِ حکومت، بالخصوص چیف سیکرٹری ، آئی جی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ)و دیگر ،شرکأ اجلاس اور بالخصوص علماء اس موقع پر دستیاب ہوجاتے ہیں ، اور ان کے روز مرہ کے مسائل جیسے کوئی عالمِ دین اور خطیب شعلہ نوأ ، جو گورنمنٹ کا ہمیشہ معاون بھی ہو ، لیکن دوردراز کسی ضلع میں کسی کارروائی کے نتیجہ میں،اس کو ضلع بندی جیسا معاملہ درپیش ہوجاتا ہے، اسی طرح بعض کی زبان بندی کے مسائل اور ہمارے اہل تشیع حضرات کے تعزیہ کے جلوس، ان کے روٹ لائسنس اور ماتمی سنگتوں کے امور اور ان میں اوقات و معمولات کے چھوٹے چھوٹے مسائل، اس مجلس میں طے پا جاتے ہیں۔ مزید براں تمام مکاتب ِ فکر کے علماء کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھتے ہیں، تو عامۃُ الناس کے لیے از خود یہ ایک بہت بڑا پیغام ہوتا ہے، جس کے تحت بہت سے رخنے اور فتنے رفع ہوجاتے ہیں ،ا تحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب کی تاریخ، یقینا اب نصف صدی کے قریب آن پہنچی ہے، اور اس کے بانی ممبران میں سے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے، اس موقع پر ہمیشہ کی طرح بڑی جامع گفتگو کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات کہی کہ گزشتہ صدی کی اَسّی کی دھائی کے اوائل میں، یہ فورم اس وقت تشکیل پایا ، جب فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے سبب حالات سنگین اور خطرناک تھے ، امن و امان کے قیام اور محبت و رواداری کی فضا کی تشکیل کے لیے ان علماء نے اپنے عمامے لوگوں کے قدموں پہ رکھے ، آگ کے شعلو ں میں، ایک دوسرے کے اداروں اور مساجد و مدارس میں پہنچے ،افہا م و تفہیم کی فضا قائم کی ، جس کے عملی مظاہر اور مناظر آج قوم کو نظر آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ ہوچکا ، جس کا کریڈٹ دینی طبقات کو جاتا ہے ، لیکن " سیاسی انتہا پسندی"اور درجہ حرارت از حد نقصان دہ حد تک بڑھ گیا ہے ، ہم علماء اور دینی و مذہبی پیشوا اس میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے حاضر ہیں ۔ بہر حال خیر کے جذبے کے تحت باتیں ہو ئیں اوراچھی اور خوب باتیں ہو ئیں ، چوہدری پرویز الہٰی ا پنی روایتی وسعت، کشادگی اور عالی حو صلگی کے ساتھ، ایک ایک ممبر سے ملے،طبیعت میں قرار اور ٹھہرائو تھا، 90 ، شاہرا ہ قائد اعظم ، لاہور کا مرکزی میٹنگ ہال خوب آراستہ تھا ، ان کے دائیں جانب راجہ بشارت اور حافظ عما ر یاسر جبکہ بائیں طرف چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس متمکن تھے ، اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی ، جناب وزیر اعلیٰ پنجاب نے،میری والدہ مرحومہ و مغفورہ کے ایصال ِ ثواب کے لیے دُعا و فاتحہ کا اہتمام فرمایا ، جس پر راقم ممنون ہوا۔ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر اجلاس کی کارروائی کو آگے بڑھانے اور بالخصوص " مشترکہ اعلامیہ" پیش کرنے کا اعزاز راقم کو میسر آیا ، جس کے چند نکات، قارئین سے بھی شیئر کرنا فائدہ مند ہیں : پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام میں علمائے کرام اور دینی شخصیات کا کردار ہماری تاریخ کاایک روشن باب ہے ۔ وطن عزیز کے معروضی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ علماء کرام اور مذہبی ودینی شخصیات قومی یکجہتی ، ملکی استحکام ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مجموعی امن وامان کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنا اساسی اور کلیدی کردار ادا کرتے رہیں ۔ ہم حکومت پنجاب کی وساطت سے پوری قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ محراب ومنبر دفاع وطن اور قومی وملی سلامتی کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ہم ضرورت پڑنے پر، پوری قوم کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ومتفق کھڑے ہوں گے ۔ جملہ مکاتب فکر کے علماء /خطباء اور ذاکرین اپنے خطبات میں میانہ روی اور مثبت رویہ اختیار کریں گے ،تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا نہ ہو ۔مزید براں اسلام اپنی تعلیمات میں اہل کتاب او رغیر مسلموں سے بھی رواداری کا سبق دیتا ہے ۔ لہٰذا علماء کرام اپنے خطبوں میں رواداری اور اتحاد امت پر بھی خصوصی زور دیں گے اور باہمی افتراق سے مکمل احتراز کریں گے ۔ بالخصوص محرم الحرام کے دوران امن وامان کے قیام کے لیے انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں گے ۔ تمام مکاتب فکر کے علماء ا س امر پر بھی متفق ہیں کہ کسی مسلمان کی دل آزاری نہ کی جائے ،جس کے لیے ہم سب "اپنے مسلک کو چھوڑ و نہ اور دوسروں کے مسلک کو چھیڑو نہ "کی پالیسی پر سختی سے کار بند رہیں گے ۔ ہم ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گری اور قتل وغارت گری کو خلاف اسلام سمجھتے اور اس کی پرزو ر مذمت کرتے ہیں ۔ ایسی ہر تقریر اور تحریر سے گریز اوراجتناب کریں گے جوکسی بھی مکتبہ فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہو۔ امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے تدارک کے لیے پاک فوج، پنجاب پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی خدمات لائقِ تحسین ہیں، نیز سیلاب کی حالیہ تباہ کاریوں سے انسانی بستیوں کو محفوظ بنانے کے لیے جو بھی ادارے سرگرم عمل ہیں، ان کی خدمات کا اعتراف اور بالخصوص ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی افسران اور جوانوں کی جرأت اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یقینا وطنِ عزیز اس وقت اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے ۔مشکل کی اس گھڑی میں ہم صبر،حوصلے اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، وطنِ عزیز کو امن وسلامتی کا گہوارہ بنا کر اسے مضبوط او ر مستحکم کرنے کا عزم کرتے ہیں ۔ خدائے بزرگ وبرتر سے دعا ہے کہ وہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط کرنے کی ہماری ان کوششوں کو ثمر بار فرمائے۔(آمین ) اجلاس کی کارروائی اور گفت و شنید کے نتیجہ میں حسب، ذیل اہم امور بھی طے پائے ۔ i۔محرم الحرام کے دوران تمام علماء کرام ،مشائخ عظام ، ذاکرین اور واعظین مذہبی رواداری اور اتحادو اتفاق کی فضاء کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں رہیں گے ۔ ii۔محرم الحرام کے دوران بعض اوقات ایسے علماء اور مذہبی شخصیات بھی "زبان بندی "وغیرہ کی زَد میں آ جاتے ہیں ،جو اتحاد واتفاق کے قیام کے حوالے سے حکومت کے دَست وبازو ہوتے ہیں ۔ایسی فہرستوں کی تیاری میںحکومت کو احتیاط سے کام لینا چاہیے ، اور ماضی میں زبان بندی کی فہرست میں درج اُن اشخاص کے ناموں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ،جو وقت کے ساتھ قابلِ قبول اصلاح کرچکے ہیں ۔ iii۔ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ، محرم الحرام کے دوران علماء کرام سے خصوصی رابطہ رکھے ۔ iv۔لا اینڈ آرڈر کو مانیٹر کرنے کے لیے راجہ محمد بشارت کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے ، جو روزانہ کی بنیاد پر اُمور کا جائزہ لے۔ v۔ سوشل میڈیا پرہونے والی اشتعال انگیزی ، تشدّد آمیزی اور فرقہ وارانہ منافرت کے حوالے سے خصوصی تشویش کاا ظہار کیا گیا۔گمراہ کن پراپیگنڈہ اور منفی سرگرمیوں پر محکمہ داخلہ اور کائونٹر یئر رازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مؤثر گرفت کر نے کامطالبہ ہوا ۔