5 اگست 2019ء کو بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو توڑکر مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل منظورکیا جس کی رو سے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ ) میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف پاکستان نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو خط لکھے اور سفارتی محاذ پر تگ و دو کی۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سفارتی کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے کشمیر ونگ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ مودی حکومت نے یہ اقدام کشمیر میں کشمیریوں کی تعداد کم کر کے دیگر لوگوں کو بسانے ،کشمیریوں کو اقلیت اور غلامی میں لانے کیلئے کیا۔ بھارت کا یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کیخلاف تھا۔ شملہ معاہدے اور جنیوا کنونشن کے خلاف تھا۔اس کا مقصد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اب مزید دبانا ہے بھارتی حکمران انہیں اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے ۔ آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین کے تحت خصوصی اہمیت حاصل ہے اور اس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو اپنے لئے آئین سازی کا حق حاصل ہے ۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار علاقے کی حیثیت ختم ہو جائے گی لہذا غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکری حاصل کرسکیں گے ۔ مقبوضہ وادی کشمیر کی قیادت پہلے ہی بھارت پر یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ وہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا خواہاں ہے تاکہ وہاں کشمیری اقلیت میں ہو جائیں۔ بھارتی حکومت کے نئے ڈرامے کے بعد صورتحال یہ بنی کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ختم ، اقلیتیں خطرے میں اورامریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کی ثالثی بھی ختم ہوگئی۔ اسرائیل نے جو کچھ فلسطین میں کیا وہی اب بھارت کشمیر میں ہونے جارہا ہے۔ بھارت کا کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کرنے کا اقدام شرمناک ہے ۔ مودی کو آدھا بھارت قاتل مانتا ہے ۔کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ڈیڑھ ارب انسانو ں پر پاگلوں کا ایک جتھا حکومت کر رہا ہے۔ تین سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بیرون ملک ہی نہیں اپنے ملک میں بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے نئی دہلی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بری مثال قائم کرے گا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرکز صرف ایک صدارتی فرمان کا نفاذ کرکے ملک میں کسی بھی ریاست کی تنظیم نو کرسکتا ہے۔ بھارت کے آئین کو قانونی دفعات کی پیروی کیے بغیر دوبارہ لکھا گیا۔ اس طرح کے تاریخی فیصلے کو صوابدیدی انداز کے ذریعے نہیں لینا چاہیے تھا۔ صدارتی حکم نے موثر طریقے سے آئینی ترمیم کے لیے 2 تہائی اکثریت کی پارلیمانی ضرورت کو بائی پاس کیا۔بی جے پی نے اپنی اکثریت کو استعمال کرتے ہوئے جمہوری اور آئینی اقدا م کو منہدم کردیا۔ بھارت کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ کشمیری یا پاکستان کا کشمیر پر موقف کمزور ہوگا تو بہتر ہے وہ جلد از جلد اس غلط فہمی سے نکل جائیں۔ بھارت عسکری قوت رکھنے کے باوجود بالا کوٹ میں شکست سے دوچار ہوا اور ہم نے ان کا جہاز مار گرایا، یہ ایک مثال ہے ہمارے مضبوط ارادوں کی۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔ اسی بنیاد پرہمیشہ بھارت کو ایک قدم اٹھانے کی دعوت دی لیکن نئی دہلی نے امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا۔ گزشتہ تین سال سے پوری ایک ریاست شیرخوار بچوں، بوڑھوں، مرد و خواتین سمیت بھارت کے بد ترین مظالم برداشت کر رہی ہے۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس بدترین ریاستی دہشت گردی پر چیخ رہی ہیں۔ یورپی یونین کے اراکین بھی آواز بلند کر رہے ہیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ امریکہ و یورپ سمیت انسانی حقوق کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ عالمی بے حسی کی انتہا ہے۔عالمی برادری کو اس وقت بھی ہوش نہیں آیا جب دنیا بھر کو کورونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن کی اذیت سے گزرنا پڑا ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ کورونا وبا کے باعث اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ لاک ڈاؤن کی اذیت کیا ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم میں رتی برابر کمی نہیں آئی۔ مقبوضہ کشمیر میں جس کثیر تعداد میں بھارتی فوجی موجود ہیں وہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ بہانے بہانے سے وہاں کرفیو لگا دیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ آزادی کا جھنڈا اور آواز اٹھاتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی فرد چین سے نہیں بیٹھے گا۔ 30 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کیا گیا۔ بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں سے انسانیت سوز سلوک کر رہا ہے اور یہی سلوک کشمیریوں سے بھی کر رہا ہے۔ ٭٭٭٭٭