تین سال قبل 5اگست 2019ء کو آج ہی کے دن نام نہاد سیکولر بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے یہاں انسانی تاریخ کاطویل ترین کرفیو نافذ کیا‘ کشمیریوں کو تشدد اورمظالم کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا، کشمیریوں کاہر سطح پر ناطقہ بند کرکے انہیں گھروں کے اندر محبوس کر دیا گیالیکن دنیا بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں پر آج بھی خاموش ہے ۔بھارت کے شہر حیدر آباد کے علاقے شمشاد آباد میں سرکاری غنڈوں کی جانب سے مسجد کو شہید کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک مسلم رہنما سمیت درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔بھارت کی مودی حکومت نے اپنے پالتو غنڈوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے‘ وہ جب اور جہاں چاہتے ہیں مساجد ومقابر اور مسلم آثار اور یادگاروں پر دھاوا بول دیتے ہیں اور جب مسلمان ان حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے باہر نکلتے ہیں تو حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے مسلمان مظاہرین کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔بی جے پی کے یہ سرکاری غنڈے اب تک لاتعداد مسلمانوں کو قتل‘ لاتعداد مساجد کو شہید اور کئی مسلم عمارتوں اوریادگاروں پر ہندو ملکیت کا دعویٰ کرکے انہیں نشانہ بنا کر وہاں سے مسلمانوں کو بے دخل کرچکے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا محاسبہ کیا جائے اور دنیا کے امن پسند ممالک‘ ادارے اور تنظیمیں بھارت کا معاشی مقاطعہ کریں اور کشمیریوں کو بھارتی چنگل سے آزاد کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔