برطانیہ آج بھی اپنی اسی پالیسی پر گامزن ہے جب 1947ء میں کشمیر کے مہاراجہ نے اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن سے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ ضم ہونے کی بجائے ریاست کو آزاد مملکت رکھنا چاہتے ہیں لیکن وائسرائے چونکہ نہرو کے ساتھ مشورہ کر کے آئے تھے، انہوں نے مہاراجہ کو ہندوستان کے ساتھ الحاق پر آمادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ریڈکلف کمیشن نے پہلے ہی راستہ صاف کر دیا تھا جب گورداسپور کو ہندوستان کے کھاتے میں ڈال کر پاکستان اور کشمیر کے درمیان تمام زمینی رابطوں کو ختم کرنے کا نیا نقشہ بنایا تھا۔ برطانیہ آج بھی کشمیر کو ہندوستان سے الگ نہیں دیکھنا چاہتا جو اس کے تھنک ٹینکس کے تجزیاتی مطالعوں میں واضح لکھا ہے۔ ظاہرہے کہ برطانیہ کی پالیسی امریکی پالیسی کی نقل ہوتی ہے وہ چاہیے فلسطین ہو، کشمیر ہو، افغانستان ہو یا عراق ہو۔امریکی اور یورپی تھنک ٹینکس کی رپورٹوں کے مطابق جو چیز عالمی برادری کو سب سے زیادہ پریشان کررہی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کشمیر کو آزادی دی جاتی ہے تو اس کے انتہا پسندوں کے لیے ’محفوظ پناہ گاہ‘ بننے کا خطرہ ہے۔عالمی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ ہندوستان کے کنٹرول سے آزاد ہونے کی صورت میں ہندوستان کی سرحدوں پر ایک اور اسلامی ریاست وجود میں آ سکتی ہے یا اگر الحاق پاکستان کی حمایت کی گئی تو اس سے اسلامی مملکت مضبوط ہو جائے گی جو آس پاس کے غیر مسلم ملکوں کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔مغرب کے اکثر دانشور یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کی صورت میں طالبان اس خطے میں پھیل کر اپنا اثر رسوخ قائم کر سکتے ہیں جو پورے خطے کی نظریاتی سوچ کو موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر تھنک ٹینکس کشمیر کے لیے کسی نہ کسی حل کیلئے ہندوستانی آئین کے دائرہ کار میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ہندوستانی موقف کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی وجہ بھی صحیح سمجھتے ہیں کیونکہ بھارت نے ان پر واضح کیا ہے کہ مسلم ریاست رہنے سے بھی اس خطے میں ’اسلامی دہشت گردی‘ میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی تصدیق کے لیے وہ روزانہ ’اینکاؤنٹرز‘ میں مارے جانے والے ’دہشت گردوں‘ کی لسٹیں فراہم کرتا رہا ہے۔بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق ہندوستان آزاد کشمیر پر چڑھائی کرنے کی آڑ میں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ وہ اصل میں پاکستان میں ’دہشت گرد اڈوں‘ کو ختم کرنا چاہتا ہے، مگر بالاکوٹ میں ناکامی کی وجہ سے مزید کارروائی سے رک گیا ہے۔ پھر لداخ میں چین کی بار بار مداخلت نے لڑائی کا دوسرا محاذ کھولا ہے، اس لیے پاکستان سے توجہ فی الحال ہٹ گئی ہے۔چین بھی جموں و کشمیر کو آزاد مملکت کے روپ میں دیکھنے کا حامی نہیں ہے لیکن ریاست کی اندرونی خودمختاری ختم کرنے کا بالکل حامی نہیں ہے جس کی بڑی وجہ لداخ کی ساتھ ملنے والی اس کی سرحد ہے اور دوسری وجہ آزاد کشمیر میں سی پیک کا اس کا منصوبہ۔چین سمجھتا ہے کہ لداخ کے یونین ٹیریٹری بننے سے بھارت ایک تو سرحدی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا دوسرا وہ تبت میں نئی شورش کی وجہ بن سکتا ہے اور پھر شمالی پاکستان کے علاقوں سے گزرنے والی سی پیک راہداری بھارت کی فوجی ترجیحات میں سر فہرست رہے گی۔لداخ سے ملنے والی حالیہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر لیا ہے اور ان میں وہ علاقے بتائے جاتے ہیں جو سی پیک راہداری کے تحفظ کیلیے انتہائی اہم ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری کو بتایا گیا ہے کہ ’آزادی کی تحریک‘ صرف وادی کے مسلم علاقوں تک محدود ہے جہاں بیشتر مسلح تنظیمیں ایک ماڈل اسلامی ریاست کے قیام کے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں جس کی عالمی طاقتیں مخالف ہیں کیونکہ یہ طاقتیں افغانستان اور پاکستان میں اسلامی عناصر کو پسماندہ کرنے کی بھر پور کوشش کرر ی ہیں تاکہ بقول ان کے یہ خطے القاعدہ یا طالبان جیسے ’انتہا پسندوں‘ کے ٹھکانے نہ بن جائیں۔ عالمی حمایت کے اس نتیجے میں بھارت نے پہلے لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کیا اور خیال ہے کہ جموں کو بھی الگ صوبہ بنا کر کشمیر کو محض وادی تک محدود رکھا جائے گا تاکہ ’دہشت گردی‘ کی آڑ میں ایک تو تحریک آزادی کو ختم کیا جا سکے اور دوسرا وادی کے مسلم کردار پر شب خون مارنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔عالمی سفارت کاری اور نظریاتی سوچ کے اس پس منظر میں کشمیر کی آزادی کے لیے حمایت کیسے حاصل ہو، اس پر کشمیریوں، پاکستان اور حامی ملکوں کو شاید ایک نئی اور مربوط حکمت عملی ترتیب دینی ہو گی۔ (ختم شد)