امریکی فوج کی کمان کرنے والے سابق جرنیلوں نے افغانستان میں شکست قبول کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی پیشرفت کی خبروں پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان کی ہار وہ کڑوی گولی ہے جو نگلنا ہی پڑے گی۔سابق امریکی جنرل ڈان بولڈک جن کی افغانستان میں 5سالہ کمان کے دوران 69امریکی فوجی مارے گئے تھے‘ کا کہنا ہے کہ طالبان سے ان کی شرائط کے مطابق معاہدہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے جبکہ ایک اور سابق امریکی میجر جنرل جیف سکلوسر نے امریکی شکست کو غلط پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ صورتحال کچھ بھی ہو امریکی جرنیل یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں جنگ ہار چکے ہیں۔ لہٰذا اب امریکہ کو چاہیے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہوطالبان سے امن معاہدہ کر لے تاکہ طالبان کے تمام متحارب گروپ تباہ حال افغانستان کے مستقبل کے لئے مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل تیار کر سکیں۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ گومگو کی اور دوغلی پالیسی ختم کرے ‘ معاملے کو طوالت دیے بغیر طالبان کی شرائط کے مطابق سمجھوتے کی طرف توجہ دے۔اور افغانستان سے اپنا بوریا بسترسمیٹ لے۔ امریکی قیادت کو چاہیے کہ اپنے سابق جرنیلوں سے سبق حاصل کرے ‘ویت نام میں اپنے حشر کو یاد رکھے اور افغانستان کے عوام کے ہاتھ میں ان کا ملک دے کر وہاں سے نکل جائے۔ بعد میں کیا ہو گا‘ یہ سوچنا امریکہ کا کام نہیں‘ جن کا ملک ہے وہ خود ہی اسے سنوار لیں گے۔