راولپنڈی (نامہ نگارخصوصی)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہاہے کہ اسمبلی میں وزیر اعظم کو مبارکباد دینے نہیں احتجاج کرنے جائیں گے ،حلف کے بعد پہلا مطالبہ دھاندلی کی تحقیقات کا ہوگا،14اگست کی خوشیوں کے ساتھ ہم الیکشن میں دھاندلی کی خوشی نہیں منا سکتے ۔جمعرات کو اڈیالہ جیل میں قید اپنے بھائی نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا حق ہے ،نواز شریف پرعزم اور حوصلے میں ہیں۔بدھ کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج میں عدم شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ کوئی آخری احتجاج نہیں، آئندہ بھی احتجاج ہو نگے ۔انہوں نے کہا اسمبلی کے اندر حلف اٹھائیں گے اور تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ،ہم اسمبلی میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ لیکر جائیں گے ۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا الیکشن کو ملک کے اندر اور باہر دھاندلی زدہ قرار دیا جارہا ہے ، نواز شریف انتشار کی سیاست نہیں چاہتے لیکن جو ناانصافی ہوئی ہے اس کے خلاف آواز اٹھانا تمام جماعتوں کا حق ہے ، اس حق کے لئے ہم اپنی آواز آئینی اور قانونی طریقے سے اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی کمیشن کو ٹاسک دیدیا ہے کہ وہ اس بات کا کھوج لگائے کہ الیکشن والے دن کس طرح آر ٹی ایس بندہوا ،پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکالا گیا اور ان کی غیر موجودگی میں کیوں گنتی کرائی گئی،ووٹرز کی لائنوں میں کیوں سست روی ہوئی ،ان تمام چیزوں کے حقائق قوم کے سامنے لائیں گے ۔شہباز شریف نے کہامذاکرات ایک حقیقت، مذاکرات کا مطلب این آر او نہیں،مذاکرات کے بغیر کبھی سیاسی جماعتیں زندہ نہیں رہیں، این آر او کوئی لینا چاہتا ہے نہ ہی دینا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا الیکشن سے قبل بھی بدترین پر ی پول دھاندلی کی گئی ،ہمارے ایک امیدوار کے خلاف رات کی تاریکی میں فیصلہ سنایا گیا۔پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے انہوں نے کہا سب عوام کے سامنے ہے ، کیسے جہازوں میں پیسے بھر کر لوگوں کی خرید و فروخت ہوئی اور منڈی لگائی گئی، ہم نے تو اس کا لے دھندے کی بات نہیں کی تھی۔