مسلم لیگ ن نے میاں شہبازشریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کوسیاسی انتقام قرار دے کرپنجاب اسمبلی اورپارلیمنٹ ہائوس کے باہر اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ بدھ کے روز مسلم لیگ ن کے ارکان بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پنجاب اسمبلی کے باہر جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ یہ منظر پاکستان کے عوام کے لیے نیا نہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنی قیادت کے کسی غیرقانونی عمل کو جرم تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتیں حالانکہ ان جرائم کے ثبوت اور حالات و واقعات سامنے ہوتے ہیں۔ میاں شہبازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے ہیں، اس وقت بھی وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ طویل سیاسی کیریئر میں ان کے خلاف جعلی پولیس مقابلوں، سانحہ ماڈل ٹائون، 56 کمپنیوں کے ذریعے کھربوں روپے کے ضیاع، سستی روٹی، خودروزگار سکیم، سرکاری اداروں میں بھرتیوں، پولیس میں سیاسی مداخلت سمیت درجنوں الزامات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ ایل ڈی پلازہ سمیت لاہور میں سرکاری ریکارڈ کو جلائے جانے کے واقعات ان کی حکومت کے دوران ہوئے یا ان کے حامیوں کی کارستانی ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کے مطابق استوار نہیں اور ان کا نظم و ضبط بھی جمہوری انداز میں کام نہیں کرتا اس لیے اس شخص کو جماعت میں جلد اہم حیثیت مل سکتی ہے جو قیادت سے وفاداری کا ثبوت دیتا رہے۔ وفاداری کی اس شرط میں یہ بھی شامل ہے کہ قیادت کے خلاف جب کوئی قانونی کارروائی شروع ہو تو سارے وفادار اس عمل کو غیرقانونی اور ناانصافی پرمبنی قرار دینے کا غوغا کریں۔ اس طرز کی سیاست نے قانونی معاملات اورسیاسی معاملات میں موجود امتیاز کو ختم کردیا ہے۔ ریاستی ادارے اس طرز عمل کے باعث کمزور ہوئے ہیں۔ اداروں کے اختیارات فرد واحد کے سامنے حقیر ثابت ہوتے رہے۔ قانونی عمل کو کس طرح مذاق بنا دیا جاتا ہے اس کا ثبوت ان سیاستدانوں کی دوران قید لکھی گئی کتابیں ہیں جو ایک طرف جیل مظالم اور سختیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور دوسری طرف جیل میں حاصل آزادیوں، کھانے کی سہولتوں اور چہل قدمی و گپ شپ کے قصے بھی مزے سے بیان کرتے ہیں۔ طاقتور افراد کے لیے جیلیں عقوبت خانہ نہیں بلکہ آرام گاہیں ہیں۔ حالیہ دنوں مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں نوازشریف و دیگر افراد کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک تصویر لیک ہوئی۔ حنیف عباسی اس جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے۔ انہیں اپنی بیرک یا سیل میں ہونا چاہیے تھا مگر وہ جیل کے لباس کی بجائے ذاتی کپڑوں میں جیل کے دفتر میں سیاسی امور پر صلاح و مشورے میں شریک نظر آئے۔ میاں شہبازشریف کی گرفتاری سے قبل نیب نے خاصا طویل تفتیشی عمل مکمل کیا۔ اس وقت نیب میں میاں شہبازشریف کے خلاف متعدد معاملات میں تحقیقات جاری ہیں، صاف پانی کمپنی اور آشیانہ سکیم سکینڈل سرفہرست ہیں۔ ان دونوں سکینڈلز میں سابق وزیراعلیٰ، ان کے دونوں فرزند، خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے علاوہ کئی سرکاری افسران اور نجی کمپنیوں کے ذمہ دار ملوث ہیں۔ میاں شہبازشریف کو جس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے اس کا تعلق غریب اور بے سہارا لوگوں کے لیے سستے گھر فراہم کرنے کی سکیم آشیانہ سے ہے۔ وزیراعلیٰ نے لاہور لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کہہ کر میرٹ پر دیا گیا ٹھیکہ منسوخ کردیا۔ یہ ٹھیکہ بعدازاں بولی میں چوتھے پانچویں نمبر پر آنے والی فرم بسم اللہ انجینئرنگ کو دے دیا گیا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ بسم اللہ انجینئرنگ خواجہ سعد رفیق کی کمپنی پیراگون کی ذیلی کمپنی ہے۔ اس کمپنی کو خلاف قانون ٹھیکہ دیتے ہوئے پیرا گون سٹی نے اس معاوضے میں ملنے والی زمین پر تعمیراتی کام شروع کردیا۔ اس وقت یہاں زمین کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہے لیکن جس کام کے معاوضے میں یہ زمین پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی کو دی گئی تھی وہ کام اب تک مکمل نہیں ہوسکا۔ اختیارات کا ناجائز استعمال واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، اسی طرح اس مقدمے میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کی طرف سے میرٹ پر آنے والی کمپنی سے ٹھیکہ چھین کر اپنے سیاسی رفقاء کو ٹھیکہ دینے اور مالی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ پورے معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لیں تو کہیں سیاسی انتقام کا شائبہ نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف قانون کاموں کی پہلی بار تفتیش کی جا رہی ہے جس کے خلاف سیاسی طاقت دکھا کر مزاحمت کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اراکین پنجاب اسمبلی نے صوبائی اسمبلی کا دروازہ زبردستی کھلوا کر اور دیواریں پھلانگ کر اسمبلی کے احاطے میں دھرنا دیا۔ گزشتہ دس سال میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا مسلم لیگ ن کو ابھی تک شاید اس درد کا احساس نہیں۔ لیگی حکومت اپنی اکثریتی طاقت کے زعم میں اپوزیشن کی بات سننے کو تیار نہ تھی۔ کئی بار تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے مل کر احتجاجاً اسمبلی کی سیڑھیوں پر اجلاس کئے۔ سابق سپیکر پنجاب اسمبلی اکثر اپوزیشن ارکان سے لڑنے پر اتر آتے۔ ان کے اس سلوک کا نشانہ میاں اسلم اقبال بن چکے ہیں۔ اسمبلی کی حرمت یہی ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی کی بات کی جائے۔ اراکین اسمبلی کا فرض ہے کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین و قانون کے ساتھ وفاداری یقینی بنائیں۔ موجودہ حکومت متعدد بار کہہ چکی ہے کہ کسی سیاستدان کے خلاف مقدمات یا تحقیقات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ شہبازشریف کے معاملے میں موجودہ حکومت کو اس لحاظ سے بھی ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کہ انہیں جن مقدمات میں تحقیقات کا سامنا ہے وہ ان کے اپنے دور حکومت میں قائم کئے گئے تھے۔ جب تک مسلم لیگ ن کی حکومت رہی شہبازشریف اور دوسرے لیگی رہنما نیب کے طلب کرنے پر حاضر نہ ہوئے۔ اب کہا جارہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کو صاف پانی کیس کی تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا مگر انہیں آشیانہ سکیم سکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ اعتراض برائے اعتراض والی بات ہے جو لوگ ان دونوں معاملات پر قانونی پوزیشن سے آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ جب کسی کے خلاف گواہ یا ثبوت میسر آ جائیں تو پھر اس شخص کو کسی وقت اور کہیں سے بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ ن اس حالت میں نہیں کہ حکومت کے خلاف کوئی موثر تحریک چلا سکے۔ ملک پہلے ہی سابق حکومت کی نالائقیوں سے پیدا ہوئے بحرانوں سے دوچار ہے۔ بہتر ہوگا کہ نیب اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ کسی جرم کی پاداش میں گرفتار شخص کے لیے قانونی رعایت حاصل کرنے کا مناسب پلیٹ فارم عدالتیں ہوتی ہیں۔ اسمبلیوں اوران کے احاطوں میں ایسے معاملات کو نہیں لایا جانا چاہیے۔قومی اسمبلی کے سپیکر نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے ہیں۔ شہباز شریف اگر اپنی گرفتاری کے متعلق ایوان کو تفصیل بتانا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔