اسلام آباد(نامہ نگار)چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ کرپشن کا دیمک اور زہر ہے جو قوم کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے ، کرپشن کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرور ت ہے ، کرپٹ عناصر سے اُنکی کرپشن سے متعلق سوال کرنا سیاست نہیں ،عبادت سمجھتا ہوں ، کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جا رہی، الیکشن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، جس کام کی لاگت 5 ہزار ہواور اس پر 5 لاکھ اور جسکی لاگت 5 لاکھ ہو، اُس پر 5 کروڑ کا خرچہ کیوں آیا ،اگر کسی سے بدعنوانی سے متعلق سوال کرنا گستاخی ہے تو نیب قانون کے مطابق یہ گستاخی کرتا رہیگا، سب کا احتساب بلا تفریق ہو گا ، یا کسی کا نہیں ہو گا۔یہ بات انہوں نے نیب بلوچستان میں منعقدہ سیمینار اور بلوچستان حکومت کو بلوچستان خزانہ کیس میں اربوں مالیت کی جائیدادوں کی دستاویز اور چابیاں حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔چیئرمین نیب نے کہا اربوں کی کرپشن کرنے والوں پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں جبکہ کرپٹ عناصر کے خلاف حق بات کرنے والوں پر تنقید۔ انہوں نے بیور و کریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ بیورو کریسی آئین کے مطابق کام کرے ، ہم بیورو کریسی سمیت کسی کے خلاف بھی کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے اظہار افسوس کیا کہ اس ملک میں لوگوں کی بڑی تعداد کو ایک وقت کا کھانہ میسر نہیں جبکہ دوسری جانب وہ لوگ بھی ہیں جن کے بیرون ملک اربوں کے اثاثے ہیں، کیا ان سے سوال کرنا جائز نہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا جمہوریت تو عوام کی خدمت کا نام ہے ، اگر عوام کی خدمت کی جاتی تو ہم 90 ارب ڈالر کے مقروض نہ ہوتے ، کچھ لوگ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ اُن سے اُنکی کرپشن کے بارے میں پوچھا جائیگا۔ انہوں نے کہا اب عوام باشعور ہو چکے ہیں، وہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والوں سے سوال کر رہی ہیں کہ اُنکے مفادات کا کس قدر تحفظ کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا قوم کی لوٹی دولت کی کرپٹ عناصر سے واپسی کا عمل شروع ہو چکا، مشتاق رئیسانی کیس میں لوٹی گئی عوام کی دولت کی بلوچستان حکومت کو واپسی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔انہوں نے کہا 5 لاکھ کی جگہ پانچ کروڑ خرچ کرنیوالوں سے پوچھنے میں کیا گستاخی ہے ، ملک کی بربادی کا سبب بننے والے اب شاہانہ انداز میں نہیں رہیں گے ، اگر عوام کی خدمت کی جاتی تو ہم 90ارب ڈالر کے مقروض نہ ہوتے ،جن کے پاس 6 مرلے کا مکان نہیں ہوتا تھا، آج ان کے دبئی میں ٹاور ہیں، کیا ان سے پوچھا نہ جائے کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین نیب نے سابق صوبائی سیکرٹری بلوچستان مشتاق رئیسانی سے برآمد کئے گئے ایک ارب 30 کروڑ مالیت کے اثاثے بلوچستان حکومت کے سپرد کئے ۔