کراچی،اسلام آباد،لاہور (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک ) پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین و سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے سٹیٹ بینک سرکل میں پیش نہ ہوئے ،ان کی جانب سے ان کے وکیل نے تحریری بیان جمع کرا دیا،تحریری بیان ایف آئی اے سٹیٹ بینک سرکل میں جمع کرایا گیا ہے جس میں آصف زرداری اور فریال تالپور نے الیکشن کے بعد پیش ہونے کیلئے مہلت مانگ لی جس پر ایف آئی اے نے آصف زرداری اور انکی ہمشیرہ فریال تالپور کو مزید مہلت دینے سے انکار کردیا،ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ 23جولائی تک ہر صورت جوابات جمع کرانا ہوں گے ، 31اگست تک مہلت دینا ممکن نہیں اور اگر 23جولائی تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی،سابق صدرکے آج طلبی پر سپریم کورٹ پیش ہونے کاامکان ہے ۔تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں طلبی کے معاملے پر آصف زرداری نے فاروق ایچ نائیک، لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن اور نیئر بخاری سے مشاورت کی، تاہم سینئر وکلا نے آصف زرداری کو پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا جس کے بعد ان کی قانونی ٹیم ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئی،سینئر وکلا کی جانب سے سابق صدر کو پیش نہ ہونے کے مشورے کے بعد ان کی قانونی ٹیم ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئی اور آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے تحریری بیان جمع کرایا،بیان کے متن میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری پیپلزپارٹی پارلیمنٹیر ین کے صدر ہیں، 2014ء کا کیس ہے اور ہمارے کلائنٹ کو جولائی 2018 میں طلب کیا گیا ہے ، 2014ء کے معاملے پر ایک دن میں جواب دینا ممکن نہیں ، زرداری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 213 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، وہ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے مصروف ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو اس وقت طلب کیا جارہا ہے جب دو ہفتوں بعد انتخابات ہیں، کلائنٹ کو مقدمات میں مصروف رکھنے سے الیکشن مہم متاثر ہوسکتی ہے ، اس لیے وہ 25 جولائی کے بعد ایف آئی اے کے تمام سوالوں کے جواب دے دیں گے ۔بیان کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریال تالپور پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی سربراہ ہیں، جو پی ایس 10 لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور آج کل الیکشن مہم میں مصروف ہیں، الیکشن کی مصروفیت کی وجہ سے ریکارڈ جمع کرکے جواب دینا ممکن نہیں ، جواب داخل کرانے کیلئے 31 جولائی تک مہلت دی جائے ، اس وقت طلب کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، اٹھائے گئے سوالات کے جوابات 21سے 25 جولائی تک دے دیئے جائیں گے ۔ادھرپیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ زرداری اسلام آباد جارہے ہیں مگر عدالت پیش نہیں ہونگے ،سپریم کورٹ پیشی کا فیصلہ نہیں ہوا،وکلا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔بعدازاں نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں آصف زرداری نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا، اب بھی کروں گا، ہمیں ڈیڑھ کروڑ کا نوٹس ملا ، ڈھول 35 ارب کا بجایا جارہا ہے ،یہ الیکشن کا موقع ہے ، احتساب کا نہیں، احتساب الیکشن سے پہلے یا بعد میں ہونا چاہیے ، الیکشن کے بائیکاٹ کے بارے میں غور نہیں کر رہے ، بائیکاٹ کرکے کسی کو موقع نہیں دیں گے ،نواز شریف کی سیاست کا انحصار حالات پر منحصر ہے ، جسے بھی حکومت بنانی ہے ، جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے ، سنوں گا سب کی لیکن کروں گا وہی جو پیپلز پارٹی اور پاکستان کے لیے اہم ہوگا،حسین لوائی کو ٹارچر کیا جارہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں، میرے وکیل ایف آئی اے میں پیش ہونگے ،کسی کو 50لاکھ دے دیں تو واپس لینا مشکل ہوجاتا ہے ،عدالت کا نوٹس براہ راست ملا تو اگلے دن پیش ہوجائوں گا،حکومت چلانے کیلئے اپوزیشن کی ضرورت ہوتی ہے ، اب وقت بتائے گا کہ نوازشریف کی سیاست کا کیا بنتا ہے ،نوازشریف نے اپنے خلاف مقدمات کا سامنا اچھے طریقے سے نہیں کیا،ڈنگ مارنا نوازشریف کی فطرت ہے ،فوج پاکستان کا ایک مضبوط ادارہ ہے ، جس ملک کی فوج کونقصان ہو وہ ملک تباہ ہوجاتا ہے ، اپنے خلاف مقدمات کا دفاع عدالت میں کروں گا۔