کاش چین کی طرح 500 کرپٹ افرادکو جیل بھیج سکتا: وزیراعظم

بدھ 09 اکتوبر 2019ء





بیجنگ(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی بڑی وجہ کرپشن کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے 4 ہزار وزرا کو کرپشن کے الزام میں جیل بھیجا، کاش میں 500 کرپٹ افراد کو جیل بھیج سکتا،چین نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا، ہم بھی سیکھیں گے ۔ منگل کو چائنہ کونسل فار پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ چین دنیامیں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے ، چین نے اپنے عوام کو غربت سے نکالا، دنیا بھر کیلئے کاروبار کے مواقع پیدا کئے ، موجودہ وقت چین سے سیکھنے کا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کرپشن کے باعث ملک کی ترقی کی رفتار کم ہوتی ہے ، دنیا وہیں سرمایہ کاری کرتی ہے جہاں کرپشن نہ ہو۔ انہوں نے کہا ماضی میں پاکستان دنیامیں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت تھی، ملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی بڑی وجہ کرپشن ہے ، چینی صدر نے کرپشن کے خلاف جنگ کی، چین نے 4 ہزار وزرا کو کرپشن کے الزام میں جیل بھیجا،کاش چینی صدر کی تقلید میں 500 افراد کو جیل بھیج سکتا۔وزیراعظم نے کہا پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی، وزیراعظم ہائوس سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت فراہم کی۔ انہوں نے کہا سی پیک کے تحت گوادر پورٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ، مسائل کے حل کے لئے سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی، چینی ورکرز کے تحفظ کے لئے خصوصی فورس بنائی گئی ،حکومت سپیشل اکنامک زونز پر توجہ دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہاپاکستان چاہتا ہے کہ چین کوئلے اور سونے کی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کرے ، پاکستان کو اس وقت ایک کروڑ گھروں کی ضرورت ہے ،ہائوسنگ شعبے میں چین کے تعاون کے خواہش مندہیں۔انہوں نے کہا پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہیں، چاہتے ہیں چین ٹیکسٹال، آئی ٹی، فنانس، زراعت، سیاحت، میں سرمایہ کاری کرے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم سے چیئرمین چائنہ گیزوبہ گروپ لی یوزیشیانگ، چیئرمین اورینٹ ہولڈنگز گروپ جیانگ ژومنگ، چیئرمین میٹلرجیکل گروپ کارپوریشن گائو وین کنگ اورسی ای او لانگ مارچ ٹائر کمپنی لی کنگ ون نے بھی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب گریٹ عوامی ہال میں ہوئی۔ وزیراعظم کا ان کے چینی ہم منصب لی کی کیانگ نے پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے اور چین کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی پیش کی۔وزیر اعظم کی چینی ہم منصب سے ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیرکی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیرکی صورت حال سے آگاہ کیا اور اقوام متحدہ میں حمایت پرچینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزرائے اعظم کی ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفودکی سطح پرمذاکرات ہوئے ۔مذاکرات میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی سمیت وفاقی وزرائ،آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ بھی شریک ہوئے ۔ پاک چین تعلقات،سی پیک اورخطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا۔دونوں وزرائے اعظم کی موجودگی میں مختلف مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو گریٹ پیپلزہال آمد پر 19توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان اور ان کے چینی ہم منصب کی ملاقات میں سی پیک سمیت اہم منصوبوں، مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں حمایت پر چینی وزیراعظم کاشکریہ اداکیا اور مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وفاقی وزرا، آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس آئی ،ڈی جی آئی ایس پی آربھی شریک تھے ۔اعلامیہ کے مطابق چینی وزیراعظم نے سی پیک منصوبوں باالخصوص گوادرپرتیزی سے جاری کام کو سراہا۔وزیراعظم سے چینی سرمایہ کاروں کی ملاقات کااعلامیہ بھی جاری کردیاگیا۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم سے تیل،گیس،کان کنی کمپنیوں کے سربراہان نے ملاقاتیں کیں اور نئے منصوبوں پرتجاویزدیں۔چینی کمپنیوں نے وزیراعظم کوٹیکسٹائل اورتوانائی منصوبوں سے آگاہ کیا ۔ وزیراعظم نے چینی صنعتوں کوپاکستان میں فروغ دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی سے روزگارکے مواقع پیداہوں گے ۔ دریں اثنا پاکستان اورچین کے درمیان معذورمعمرافرادکی ددکے آلات تک رسائی کے معاہدہ پردستخط ہوگئے ،پاکستان کی جانب سے معاون خصوصی صحت ظفرمرزانے دستخط کیے ،وزیراعظم عمران خان بھی اس موقع پر موجودتھے ،ڈاکٹرظفرمرزاکے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان چین میں صحت کے شعبے میں معاون آلات تک رسائی سے استفادہ کرے گا،چین اس شعبے میں تحقیق اورٹیکنالوجی سے متعلق پاکستانی ماہرین کی تربیت بھی کرے گا،پاکستانی ماہرین چینی تحقیق، طریقے کاراورٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کر سکیں گے ،معاون آلات معذور،معمراورغیرمتعدی امراض کے شکارافرادکے زیراستعمال آئیں گے ۔ اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا منتظر ہے لیکن اصولوں یا قومی وقار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ چین کے دوران بیجنگ میں چینی فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں جس کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ایل اے ہیڈکوارزٹر آمد پر آرمی چیف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔جنرل باجوہ نے پیپلزلبریشن آرمی کے ہیڈ کوارٹرزکا دورہ کیا اورکمانڈرپی ایل اے جنرل ہان ویگو اورسینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل ژو کلیانگ سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال ٹھیک نہ ہونے کے مضمرات سے چینی فوجی قیادت کو آگاہ کیا۔آرمی چیف نے کہا بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کا احترام کرے ، پاکستان امن کا منتظرہے لیکن اصولوں یاقومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔چینی فوجی قیادت نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کی اور امن کے مفاد میں پاکستان کے ذمہ دارانہ طرز عمل کی تعریف بھی کی۔آئی ایس پی آرکے مطابق طرفین نے اتفاق کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے خطے میں امن اوراستحکام کے لئے سنگین مضمرات ہوں گے ۔ دونوں اطراف نے خلیج کی تغیر پذیر صورتحال اور افغانستان میں امن کے لئے کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں