پشاور(نیوز رپورٹر)جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئین ایک مقدس صحیفہ ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا،یہ ملک تب ہی مضبوط اور مستحکم ہوگا جب آئین پرصحیح معنوں میں عملدرآمد ہوگا آج پاکستان کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کرنی کی کوشش کی جارہی ہے ، ملک میں عدم استحکام کی فضاء موجود ہے برطانیہ آج بھی سوچ رہا ہے کہ پاکستان انکی کالونی ہے اور انکی سوچ کے مطابق فیصلے ہونگے ۔ پشاور کے نشتر ہال میں جے یو آئی ف خیبر پختونخوا کے سابق امیر مرحوم مولانا امان اﷲ کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین پر عمل کرکے ملک کو مضبوط اور مستحکم بنایا جائے ، آج پاکستان کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، بین الاقوامی لابی چھوٹے چھوٹے معاملات پر ہمیں حکم دیتی ہیں ،انہوں نے کہا کہ آسیہ مسیح کیس میں نظرثانی کی اپیل کرنے کا حکومت نے کہا تھالیکن ابھی تک نظرثانی کی اپیل پر بھی حکومت خاموش ہے ، مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج اس پارٹی کو حکمران بنایا گیا ہے جو کل تک کہتے تھے ہم قرضہ نہیں لیں گے ، پانچ مہینوں میں روزانہ کے حساب سے 15 ارب روپے یومیہ قرضہ لیا گیا، فضل الرحمٰن نے کہا کہ امریکہ ہمارے ملک میں چائنہ کو برداشت نہیں کر رہا ،کرپشن کو ہتھیار بنا لیاگیا، جس کو چاہو کرپشن میں پکڑ لو یہ سب کچھ ہم نے بہت پہلے دیکھا ،مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کوموقع ملا تھا نیب کو ختم کرنے کا مگر نہیں کیا گیا اب بھگت رہے ہیں ،اگر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں اپنا احتساب کمیشن ختم کرسکتے ہیں تو وفاق میں نیب کیوں ختم نہیں ہوسکتا،سیاسی انتقام کے لئے نیب کو استعمال کیا جارہاہے ، پہلے مودی کا جو یار تھا وہ غدار تھا اب کرتار پور راہداری کھولی جا رہی ہے ،تعزیتی ریفرنس سے ن لیگ کے صوبائی صدر امیرمقام ، مفتی عبدالغفورنے ،اے این پی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار نے بھی خطاب کیا۔