جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو ہدایت کی ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں لاک ڈائون، کرفیو میں نرمی لائے اور عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی ممکن بنائے۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں 38 روز سے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ جارح بھارتی فوج نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر ظالمانہ غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور وادی میں مسلسل کرفیو کے باعث انسانی المیہ کے جنم لینے کاخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 38 روز کے لاک ڈائون کے باعث غذائی قلت یہاں تک کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات تک دستیاب نہیں۔ بھارتی سکیورٹی فورسزنے نہ صرف ذرائع مواصلات معطل کررکھے ہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو اپنے عزیز رشتہ داروں کی خبرگیری کے لئے سفر کی بھی اجازت نہیں یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی کو بھی اپنی ماں سے ملنے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا تھا۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو مسلسل نہ صرف آگاہ کرتا رہا ہے بلکہ عالمی رہنمائوں کو متنبہ بھی کرتا رہا ہے۔ مودی حکومت کی ہندوتوا برتری اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے توسیع پسندانہ عزائم سے خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے بھارت میں انتہا پسندی کے فروغ کے الزامات کی تائید تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشن کے حالیہ سروے رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جس میں بھارت کو انتہا پسندی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیتے ہوئے 182 ممالک کی فہرست میں بھارت کا شمار 5 ویں خطرناک ترین ملک کے طور پر کیا ہے۔ اب جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے کرفیو اٹھانے، گرفتار سیاسی رہنمائوں کی رہائی اور انسانی حقوق کی فراہمی سمیت بنیادی انسانی ضروریات کی رسائی ممکن بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کشمیریوں کے مستقبل کے کسی بھی فیصلے کے لئے کشمیریوں کی رائے لینے کا بھی کہا ہے۔ پاکستان کا بھی روز اوّل سے عالمی اداروں سے یہ اصولی مطالبہ رہا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دلوائے بلکہ عالمی نگرانی میں کشمیر میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کروائے اور رائے شماری کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ انسانی حقوق کونسل کی طرف سے پاکستانی موقف کی تائید بلاشبہ پاکستان کی عالمی سطح پر نمایاں کامیابی ہے۔ بہتر ہو گا پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوانے کے لئے نہ صرف اپنی سفارتی کوششیں مزید تیزکرے بلکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ کے جنم لینے کے خدشے سے آگاہ کرکے سلامتی کونسل کو مسئلہ کے حل کیلئے قابل عمل کردار پر آمادہ بھی کرے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا بنیادی حق خود ارادیت حاصل ہوسکے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کی صورت میں جنوبی ایشیا میں امن و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکے۔