بھارت مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہا، مسئلہ کشمیر کا حل وقت کا اہم تقاضا ہے : پاکستان

جمعه 17 جنوری 2020ء





نیویارک،اسلام آباد( ندیم منظور سلہری سے ،سپیشل رپورٹر،وقائع نگار خصوصی،92 نیوزرپورٹ،نیٹ نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) پاکستان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل وقت کا اہم تقاضا ہے اور بھارت مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہا ہے جبکہ وزیراعظم کی زیرصدارت مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پراعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کو امن کیلئے خطرہ قرار دیا گیا اور مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے جاری غیرانسانی لاک ڈائون کی شدید مذمت کی گئی۔ گزشتہ روزسماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں وزیر اعظم عمرا ن خان نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے دوبارہ جائزے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اہل کشمیر کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع کی حیثیت میں سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے ۔سلامتی کونسل میں کامقبوضہ وادی کی صورتحال پر غور سنگین حالات کی عکاسی ہے اورصورتحال کی نزاکت کے اعتراف و احساس کا مظہر ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی تدبیر وقت کا اہم تقاضا ہے ، ہم اہل کشمیر کی حمایت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں انکا بنیادی حق خود ارادیت نہیں مل جاتا۔علاوہ ازیں وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ وادی کی صورتحال اوربھارتی رویہ سے خطے کے امن و استحکام کو درپیش خطرات کے تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔شرکا نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 165 روز سے زائد جاری 8 لاکھ کشمیریوں کے غیر انسانی لاک ڈاؤن ، اور 9 لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالیوں اوربی جے پی حکومت کی جانب سے اشتعال انگیز بیان بازی اور جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی۔ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ آر ایس ایس کے نظریہ سے متاثرہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی ہندوتواذہنیت ، مسلم دشمن سوچ اور کشمیری مخالف جنون ،متشدد و اشتعال انگیز بیانات اور جارحانہ اقدامات کے باعث علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے جس کی ذمہ دار ی مودی حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ شرکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 15 جنوری کو مسئلہ کشمیر پر غور کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر غور صورتحال کی سنگینی کا عالمی سطح پر اعتراف ہے ۔اجلاس میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس، صدر جنرل اسمبلی تجانی محمد بندے اور صدرسلامتی کونسل انکمبینٹ ویزلی نیبنزیا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم بھی ملاقاتوں میں موجود تھے ۔ بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا جان لے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، عالمی برادری اس وقت خاموش ہے تو کیا ہوا ایک وقت آئیگا کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا ۔مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے ۔ پاکستان مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے لیکن بھارت نہیں ۔ دو طرفہ مذاکرات کیلئے پاکستان سنجیدہ اور مخلص ہے لیکن بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹ رہا ہے ۔ ہم تنازع کا نہیں بلکہ امن کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ جنرل اسمبلی کے صدر کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ہمیں سخت تشویش ہے کشمیر میں نسل کشی ہو رہی ہے ، بھارت وہاں بیجا طاقت کا استعمال کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دورہ ایران اور سعودی عرب کے دوران دونوں کے حکام کیساتھ ہونیوالی بات چیت پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال سنگین ہے اورخطہ مزید کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان خطے میں کسی محاذ آرائی کا حصہ دار نہیں بنے گا تاہم قیام امن کیلئے متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے ۔ انہیں کہا کہ عالمی برادری کشمیریوں کو بھارتی جبر سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ بھارت کمیونیکیشن بلیک آوٹ کے ذریعے دنیا کے سامنے حقائق چھپا رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ عوام 5 اگست سے کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے پانچ ماہ کے دوران کشمیر پر سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں کے انعقاد پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، صدور جنرل اسمبلی اورسلامتی کونسل نے وزیر خارجہ کو کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرہم نے بھارت کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے ۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی جبکہ مسئلہ کشمیر پرفریقین کو کشیدگی سے بچنے اور تمام تصفیہ طلب امور مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ۔ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے ، پاکستان اس بحران میں فریق نہیں بنے گا بلکہ پائیدار امن کیلئے بے لوث کوششیں جاری رکھے گا۔ اقوام متحدہ میں کشمیر ایشو پر پاکستان کی حمایت کرنے پر ہم چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔شاہ محمود قریشی نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران پاکستان کی درخواست پر چین کی حمایت کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو دوسری مرتبہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔ادھر ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان کی درخواست پر ہوا جس میں ویٹو ممالک نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پربحث ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں تمام 15 اراکین نے حصہ لیا اور 5 اگست کے بھارتی اقدامات کو تنائو میں اضافہ کی وجہ قرار دیا ۔ سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بار پھر متنازعہ تسلیم کرتے ہوئے بھارت سے کرفیو اٹھانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے پر زوردیا ۔ ترجمان نے بتایا کہ اس وقت 28ممالک میں 10ہزار پاکستانی قید ہیں۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں