BN

سپریم کورٹ ججز کیخلاف بیان حکومت نے اٹارنی جنرل سے استعفیٰ لے لیا

جمعه 21 فروری 2020ء





اسلام آباد(خبرنگار،92نیوز رپورٹ) حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف بیان دینے پر اٹارنی جنرل کیپٹن (ر)انور منصور خان سے استعفیٰ لے لیا جس کے بعد انور منصور نے باقاعدہ طور پر صدرمملکت کو اپنا استعفی بھجوا دیا ۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے صدر مملکت کو بھجوائے گئے استعفی میں کہا گیا کہ افسوس ہے کہ جس پاکستان بار کونسل جس کا میں چیئر مین بھی ہوں، اس نے اس نے اپنی پریس ریلیز میں مجھ سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ، چونکہ میں سپریم کورٹ بار ، سندھ بار اور کراچی بارکاتاحیات ممبر ہوں اس کے علاوہ سابق ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور سابق جج ہونے کے ناطے اپنی برادری اور بھائیوں کے ساتھ ہوں اس لئے میں اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفی دے رہا ہوں۔ لہٰذا صدر پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ میرا استعفی منظور کیا جائے آئندہ آنے والے اٹارنی جنرل اور اپنے ملک وقوم کیلئے دعا گو ہوں ۔واضح رہے اٹارنی جنرل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں ججز کے حوالے سے دیئے گئے متنازعہ بیان کے بعدتنقید کے زد میں آئے تھے اور پاکستان بار کونسل کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن نے بھی اٹارنی جنرل سے استعفی طلب کیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا تھا کہ یا تو اپنے موقف کے حوالے سے شواہد لائیں یا پھرتحریر ی معافی مانگیں۔دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ انور منصور خان سے استعفیٰ مانگا گیا تھا جس پر انہوں نے استعفیٰ جمع کرا دیا ۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دو دن پہلے انور منصور خان نے سپریم کورٹ میں جو بیان دیا وہ کسی کے علم میں نہیں تھا اور اس میں حکومت کی منشا شامل نہیں تھی جس پر حکومت نے ان سے استعفیٰ لے لیا۔ادھر وفاقی حکومت نے عدالت عظمی میں اٹارنی جنرل کے بیان سے لا تعلقی کا اعلان کردیا ہے ۔ اس ضمن میں وزارت قانون و انصاف نے دو صفحات پر مشتمل اپنا موقف عدالت عظمی میں پیش کردیا ہے ۔ وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف خشیح الرحمن نے صدر ، وزیر اعظم عمران خان ،وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبراور ضیا مصطفیٰ کی طرف سے تحریری جواب جمع کرایا گیا ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصورخان نے فاضل بنچ کے سامنے جو زبانی بیان دیا تھا وہ حکومت کی ہدایت اور اجازت کے بغیردیا گیا ہم اس سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں ۔حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ واضح کیا جاتا ہے وفاقی حکومت اور دیگرفریقین اعلیٰ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور آئین و قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں ۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں