آج بھی میرا نہیں اور میرا کل بھی نہیں سچ تو یہ ہے کہ میرے ہاتھ میں اک پل بھی نہیں وہ کہ تسلیم تو کرتا ہے محبت میری میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں مجھے پہلے تو عید قربان کی بات کرنی ہے۔ سب دوست قربانی کے جانور خرید رہے ہیں یا گائے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ گلی محلوں میں بچے بکرے اور چھترے لیے پھرتے ہیں جن کے گھنگرو ڈھونڈنے نکلے تو بکروں کی ہوش ربا قیمتیں سن کر کانوں کو ہاتھ لگا آئے کیونکہ بکرے تو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ ایک دوست نے کہا عید تک تو برف گھر کی تھی اور گوشت باہر سے آتا تھا اور عید کے بعد برف باہر سے آیا کرے گی اور گوشت گھر کی فریج سے برآمد ہوا کرے گا۔ مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ قصاب اتنے پسے ذبح کرنے کے مانگتا ہے جتنے میں کچھ سال پہلے بکرا آ جایا کرتا تھا۔ ویسے بھی عید کے روز بکرے کم اور قصاب زیادہ ہوتے ہیں کہ نائی‘ دھوبی سب اوزار اٹھا لیتے ہیں ایسے ہی ایک شعر یاد آ رہا ہے۔ شاید کچھ اس طرح سے ہے: یہ عجیب ماجرہ ہے کہ بروز عید قرباں وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا قربانی میں کھال کی بہت اہمیت ہے اور تو اور سب سے پہلے جماعت اسلامی کو اس حوالے سے شہرت ملی۔ اب تو ہر ادارہ ہی جانوروں کی کھال پر نظر رکھتا ہے۔ کھالیں جمع کرنا ویسے بھی ایک فن ہے۔ کراچی میں تو ایک تنظیم زندہ جانور کی کھال پر نشان لگا آتی تھی کہ اگر کھال نہیں پہنچی تو کھال کھینچ لی جائے گی۔ یونہی میں پرویز مشرف بھی یاد آئے کہ جب انہوں نے کہا کہ وردی ان کی کھال ہے تو لوگوں نے بال کی کھال اتارنے کے لیے کیا کیا مضمون باندھے۔ چوہدری شجاعت نے کہا کہ وردی پر مٹی ڈالو۔ حافظ حسین احمد نے کہا وردی وچوں اپنا بندہ تے کڈھ لوو۔ بہرحال الخدمت‘ ایدھی ٹرسٹ‘ شوکت خانم‘ غزالی ٹرسٹ‘ اخوت اور کتنے ہی ادارے کھال کے مستحق ہیں۔ اب آتے ہیں قربانی کے اساسسی فلسفے کی جانب۔ اللہ بھی تو کہتا ہے کہ اس کو جانوروں کا خون یا گوشت نہیں پہنچتا بلکہ قربانی دینے والے کا اخلاص اور جذبہ پہنچتا ہے کہ یہ عمل نبی پاکؐ کو بہت پسند تھا کہ ان کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور ہر مسلمان صاحب نصاب پر واجب ہے۔ مجھے ملک شفیق بتا رہے تھے کہ قربانی کے لیے صاحب نصاب صرف پچتر ہزار روپے رکھنے پر ہو جاتا ہے۔ غالباً 51 تولے چاندی کی قیمت ہوگی۔ یہ ایسا تہوار ہے کہ جس میں ان غریبوں کو بھی گوشت کھانے کا موقع مل جاتا ہے جو بے چارے کئی کئی مہینے اس کی گنجائش نہیں پاتے۔ اگرچہ ایک حصہ اپنا ایک عزیزو اقارب کا اور تیسرا بانٹنے کے لیے ہوتا ہے اگر آپ زیادہ بانٹ سکیں تو کیا مضائقہ ہے فریج اور فریزر بھرنے سے گریزہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہی ہوتا ہے کہ گوشت ایک دوسرے کے گھروں ہی میں ایکسچینج ہوتا رہتا ہے۔ یقینا یہ زیادہ اچھا ہے کہ ان لوگوں کے گھر قربانی کا گوشت بھیجا جائے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ قربانی کی اصل روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ بڑے بڑے بکروں کی نمائش ضروری نہیں تاہم خوبصورت جانور اور اس کی ٹہل سیوا کرنے میں تو کوئی حرچ نہیں۔ بات تو ساری نیت کی ہے۔ بعض تو اپنے بکروں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر اپ لوڈ بھی کرتے ہیں۔ دنیا داری میں لوگ کیا کچھ کرتے ہیں۔ قربانی کے جانور کی چانپیں اور دستیاں افسروں کو بھی لوگ پہنچاتے ہیں اور تو اور سیاسی لوگ گوشت خاص طور پر اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو بھیجتے ہیں۔ ظاہر ہے ووٹ کو عزت دینا پڑتی ہے۔ قربانی میں تو ایک پیغام ہے کہ اللہ کی راہ میں قربانی دینے کا حوصلہ اسی لیے جانور خرید کر رکھتے ہیں۔ انس ہونے کے بعد اسے قربان کرنے کا اور ہی ثواب ہے۔ اقبال نے قربانی کے حوالے سے کیا خوب کہا تھا: غریب و سادہ و رنگین ہے داستاں حرم نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیل ؑ جانور خریدتے وقت بہت مستعد ہونا پڑتا ہے۔ قربانی کے لیے جانور میں نقص نہیں ہونا چاہیے۔ بعض اوقات کسی کا سینگ ٹوٹ جاتا ہے تو جانور بیچنے والے وہ سینگ الفی سے بھی جوڑ دیتے ہیں۔ بعض اوقات جانور کی عمر غلط بتا دیتے ہیں اس سے بھی آگے کے فراڈ ہیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ میرے کزن محمود نے کراچی کی مارکیٹ سے دو بکرے خریدے۔ بکرے والے نے بڑے تابعدارانہ انداز میں بکرے گاڑی میں لوڈ کئے۔ جب محمود نے گھر آ کر دیکھا تو بکروں کی جگہ بھیڑیں تھیں۔ اسی لیے محتاط لوگ کسی تنظیم کی گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں اس حوالے سے جماعت اسلامی سرفہرست ہے۔ وہ واقعتاً فی سبیل اللہ کام کرتے ہیں اور بہت سائنٹیفک انداز میں حساب رکھتے ہیں۔ سب پڑھے لکھے لوگ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو سہولت پہنچاتے ہیں۔ ویسے تو جگہ جگہ اشتہار لگے ہوتے ہیں۔ پوش ایریاز کی گائیں مہنگی ہیں اور وہ حصہ مہنگا ہوتا ہے۔ نماز عید کے بعد قربانی شروع ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ گندگی کا خیال نہیں کیا جاتا کہ قصاب اکثر ہی باہر محلے میں جانور ذبح کرتے ہیں اور فالتو گندبلا وہیں محلے میں پڑا رہتا ہے۔ گویا اس کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بعض کالونیوں والے تو اچھے ہیں کہ انہوں نے انتظام کر رکھا ہے کہ وہ یہ گند اٹھوا لیتے ہیں۔ مثلاً میں نے اپنی مرغزار کالونی میں دیکھا ہے کہ ہمارے صدر چوہدری شہزاد چیمہ باقاعدہ ٹریکٹر ٹرالی بھیجتے ہیں کہ باہر پڑی اوجڑی وغیرہ اٹھا لی جائے۔ ویسے اس دفعہ تو مہنگائی کے باعث لوگوں نے جانور کم ہی خریدتے ہیں۔ کچھ جانور بیچنے والوں پر ایس او پیز کی پابندیاں تھیں۔ مارکیٹ میں مال گزشتہ برسوں کی طرح نہیں آیا۔ لگتا ہے ہمارے سیاستدانوں کی یہ عید قربان تو کشمیر کے الیکشن کی تیاریوں ہی میں گزرے گی۔ تینوں پارٹیاں بری طرح ایک دوسرے سے الجھ رہی ہیں۔ تینوں اپنی اپنی قربانیوں کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے پاس بھی قربانیوں کی داستان ہے۔ ن لیگ اور پی ٹی آئی والے بھی اپنے اپنے کام گنوا رہے ہیں۔ لگتا ہے۔ مقابلہ بہت سخت ہے۔ اپنے قارئین کو بہت بہت عید مبارک۔