اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق چین نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازع ہے ، یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر مناسب اور پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے ، ایک پرامن، مضبوط تعاون پر مبنی اور خوشحال جنوبی ایشیاء تمام فریقین کا مشترکہ مفاد ہے اور فریقین کو خطے میں تنازعات اور مسائل مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہاگیاکہ وزیراعظم عمران خان نے چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کی دعوت پر 8 اور 9 اکتوبر کو چین کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ اور نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین لی ژان شو سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم عمران خان نے چین کے کاروباری رہنمائوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔عمران خان نے بیجنگ ہارٹیکلچر ایکسپورٹ 2019ء میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جس کا مقصد نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی تعمیر کرنا ہے ۔دونوں ممالک کی جانب سے قرار دیا گیا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان میں صنعتی، سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا، سی پیک کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے نویں اجلاس سے جاری منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز ہو گی اور ایم ایل ون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ دونوں ممالک نے بجلی، پٹرولیم، گیس، زراعت، صنعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پاکستان کی جانب سے نشاندہی کئے گئے منصوبوں کی مشترکہ سٹڈی پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ نومبر 2019ء میں اسلام آباد میں ایک بڑا ایونٹ منعقد کیا جا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون اور عوامی رابطے مزید گہرے ہوں گے ۔ فریقین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے امور پر اپنی حمایت کے عزم کو دہرایا۔ چینی رہنمائوں نے پاکستان کی علاقائی خود مختاری، آزادی اور سلامتی کے تحفظ کیلئے یکجہتی کا اعادہ کیا۔ پاکستان کی طرف سے بھی ون چائنہ پالیسی کیلئے حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کیا گیا، ایک ملک دو نظام کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے اس امر کو دہرایا کہ ہانگ کانگ کے معاملات چین کا اندرونی معاملہ ہے اور تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیادی اقدار برقرار رکھنی چاہئے ۔ پاکستان کی قیادت نے چین کی قیادت کو جموں و کشمیر کی صورتحال، اپنے خدشات، موقف اور موجودہ فوری نوعیت کے معاملات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ چین نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازع ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر مناسب اور پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے ، چین نے کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی جن سے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہو۔ فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ ایک پرامن، مضبوط تعاون پر مبنی اور خوشحال جنوبی ایشیاء تمام فریقین کا مشترکہ مفاد ہے اور فریقین کو خطے میں تنازعات اور مسائل مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر تیز عملدرآمد سے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ بہترین دفاعی تعاون کا بھی جائزہ لیا اور فوجی مشقوں، تربیتی تعاون، عملے کے تبادلہ اور آلات و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ فریقین نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن اور استحکام علاقائی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے ۔ چین نے افغانستان میں امن کے فروغ اور مصالحتی عمل کے ضمن میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ فریقین نے کہا کہ افغانوں کی قیادت میں اور افغانوں کے ذریعے امن عمل افغانستان میں امن و استحکام کی کنجی ہے ۔ دونوں اطراف نے دہشت گردی خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا اور تمام ممالک پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کریں۔ چین نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کیلئے دی جانے والی زبردست قربانیوں اور انتھک کوششوں کو سراہا۔ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو واضح طور پر تسلیم کرے ۔ فریقین نے دونوں ممالک کے مابین مختلف فورمز پر قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تزویراتی رابطہ اور مشاورت کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم لی کی کیانگ اور وزیراعظم عمران خان نے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے ۔وزیر اعظم سے چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس لی شوان شو نے بدھ کو یہاں عوامی گریٹ ہال میں ملاقات کی۔وزیر اعظم نے چیئرمین لی کو عوامی جمہوریہ چین کی اکہترویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین قریبی دوست، شراکت دار اور آہنی برادرز ہیں۔عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں چینی ماڈل پر عمل پیرا ہو کر غربت میں کمی کرینگے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کی تکمیل موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔عمران خان نے پاکستانی قومی مفادات کے تمام معاملات پر چین کی بھر پور حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت کے 5 اگست کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران کی سنگین صورتحال پیدا اور خطے میں امن و سلامتی کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے ۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ دو ماہ سے زائد نافذ کرفیو کو فوری ہٹائے ۔چیئر مین لی شوان شو نے بنیادی قومی مفادات کے تمام معاملات پر حمایت سے متعلق چینی قیادت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ چین وزیر اعظم عمران خان کے تجویز کردہ اقدامات کی حمایت کریگا۔چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس نے وزیراعظم کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے اہم قومی مفاد میں کشمیر پر حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سے ہرممکن تعاون جاری رکھے گا۔وزیر اعظم نے چیئر مین این پی سی کو پاکستان کے دورہ کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا چین پاکستان کا ثابت قدم اتحادی، مضبوط شراکت دار اور آئرن برادر ہے ۔ وزیراعظم نے کہا چین نے بنیادی قومی مفادات پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی و قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سنگین انسانی صورتحال پیدا ہو گئی ۔صدر شی جن پنگ نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر چین کی طرف سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے حکومت کے ایجنڈے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ چین کی شراکت داری چٹان کی طرح مضبوط اور لافانی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلق مستقبل میں مزید گہرا اور وسیع ہوگا۔مشکل دور میں پاکستان کی طرف سے چین کی بے لوث حمایت کا ذکر کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا اب چین پرخلوص انداز میں ترقی اور بہتری کے لئے پاکستان کی مدد کرے گا۔چینی خبررساں ادارے کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ وہ کشمیر کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور بنیادی مفادات سے منسلک معاملات پر پاکستان کی حمایت کرینگے ۔انہوں نے کہا پاکستان کی اپنے حقوق کے تحفظ پر حمایت کرتے ہیں اور امید ہے متعلقہ فریقین مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کریں گے ۔چینی صدر نے وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات خسرو بختیار، وزیر ریلوے شیخ رشید، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید و دیگر موجود تھے ۔بعدازاں چین کے نائب وزیرخارجہ سمیت اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کوالوداع کیا، چین کی تینوں مسلح افواج کے چاق وچوبنددستے نے سلامی دی۔