کورونا عالمی چیلنج، مشترکہ حکمت عملی اپناناہو گی: وزیر اعظم

جمعرات 21 مئی 2020ء





اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر ،وقائع نگار، 92 نیوز رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوزایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے عالمی اقتصادی فورم سے ویڈیو لنک خطاب میں کہا ہے پاکستان اور مغربی ممالک کی صورتحال بہت مختلف ہے ۔ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے حالات یکسر مختلف ہیں۔ یورپی ممالک کی طرح پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش میں وائرس زیادہ تیزی سے نہیں پھیل سکا۔ ہم کورونا کی صورتحال میں حالات کو متوازن رکھنے کیلئے قومی نیشنل کمانڈاینڈ کنٹرول سینٹرقائم کیا۔اس کے باوجود کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں 25ملین یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگ ہیں۔لاک ڈاوَن کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو غربت کا سامنا تھا۔یہ لوگ لاک ڈاوَن کی وجہ سے اپنے خاندانوں کی کفالت نہیں کرسکتے تھے ۔لاک ڈاوَن ختم کرنے کافیصلہ کیا تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے ۔پاکستان میں کورونا کیساتھ غربت کا چیلنج بھی درپیش ہے ۔ ہم نے غریب لوگوں کیلئے احساس کیش پروگرام شروع کیا۔احساس کیشن پروگرام کے ذریعے لوگوں کی مدد کی گئی ۔ ابتک ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کی مدد کرچکے ہیں۔کیش پروگرام اس مسئلے کا قلیل المیعاد حل ہے ۔کورونا کے باعث اڑھائی کروڑ لوگ بیروزگار ہوئے ۔ معیشت نہ کھولی تو لاکھوں لوگ بھوک کا شکار ہوجائیں گے ۔لوگوں کو غربت اور بھوک سے بچانے کیلئے صنعتی سیکٹر کھولا۔ انتظامیہ کی مدد کیلئے 10لاکھ نوجوانوں پر مشتمل رضا کار فورس بنائی ہے ۔کورونا کے باعث تمام دنیا کو چیلنجز کا سامنا ہے ۔ متاثرہ ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا پڑے گی۔ رواں سال ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کورونا کے باعث دنیا بھر میں ایکسپورٹ کم ہوئیں، آئل قیمتیں کریش ہوئیں۔ ترقی پذیر ممالک کو ادائیگیوں میں ریلیف ملنا چاہئے ۔ہمیں اپنے وسائل نظام صحت کی طرف موڑنا ہونگے ۔پاکستان جیسے ممالک عالمی قرضوں کی وجہ سے صحت پر زیادہ خرچ نہیں کرپا رہے ۔ہم نے نہایت مشکل اصلاحات کے بعد جاری کھاتوں کا خسارہ کم کیا۔جی 20 ممالک نے غریب ملکوں کیلئے قرضوں میں رعایت کی پالیسی کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا اجرا کر دیا۔ا نہوں نے کہا ٹیلی ہیلتھ کی ضرورت ہمیں کورونا کے بعد بھی رہے گی، ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم اب دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں، میں تانیہ ادرس کو اس اقدام پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ٹیلی ہیلتھ پورٹل کے اجرا کے بعدمیڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ٹیلی ہیلتھ پورٹل میں لیڈی ڈاکٹرز کو خاص طور پر رجسٹرڈ کرنا چاہئے ،آپ گھر بیٹھے ایسے لوگوں کی مدد کرسکتی ہیں جو دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں،ٹائیگرفورس میں بہت زیادہ تعداد میں ہیلتھ ورکرز نے رجسٹرڈ کیا ہوا ہے ،انگلینڈ نے جب رضاکار مانگے تو اڑھائی لاکھ کے قریب لوگوں نے رجسٹرڈ کیا،پاکستان میں 10لاکھ سے زیادہ رضاکاروں نے رجسٹریشن کرائی۔کورونا وائرس کا اصل حل ویکسین ہے ،جن ممالک کے پاس بے تحاشہ دولت ہے ان کا بھی کورونا کی وجہ سے برا حال ہے ، بدقسمتی سے پاکستان میں ہیلتھ کے شعبے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اسلئے یہ پاکستان کیلئے زیادہ بڑا چیلنج ہے ۔اگر ہم مغربی ممالک سے اپنا مقابلہ کریں تو اللہ کا شکر ہے ابھی تک پاکستان میں ویسا حال نہیں۔ اس سال ہمیں وائرس کیساتھ ہی گزارا کرنا ہے ، اگلے سال انشاء اللہ ویکسین آجائے گی،ویکسین آنے تک ہمیں اس کیساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم نے سینٹ کا اجلاس بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہمارے لئے فیڈریشن سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔سکوک بانڈز پر عالمی برادری اور سرمایہ کاروں کا مثبت ردعمل موجودہ حکومت پر اعتماد کا مظہر ہے ۔ کورونا وبا کے تناظر میں آنے والے وقت کی مکمل منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔عوام ایام عید کے دوران حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کے دوران کیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے نوجوان پارلیمنٹیرینز کی تربیت سازی کا منصوبہ وزیر اعظم کو پیش کیا ۔وزیراعظم نے کہا تحریک انصاف قومی اداروں کو مضبوط اور فعال بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔اس ضمن میں وزارت پارلیمانی امور کا کلیدی کردار ہے ۔وزیر اعظم سے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری برائے مذہبی امور پیر سید حبیب عرفانی اور دیگر علمائے کرام نے ملاقات کی۔ علمائے کرام میں پیرسید اسرار الحق نظامی، پیر توصیف النبی مجددی، علامہ عظمت حسین شاہ اور علامہ اصغر شامل تھے ۔ ملاقات میں کوروناوبا کے تناظر میں خصوصاً عوام میں حفاظتی تدابیر کے فروغ میں علما کے کردار کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔مسجدوں ، درگاہوں اور خانقاہوں کے معاملات کے بہترانتظام کے حوالے سے بھی بات چیت اور علمائے کرام کی جانب سے مختلف تجاویز وزیرِ اعظم کو پیش کی گئیں ۔وزیرِ اعظم نے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کورونا کے حوالے سے آگاہی پھیلانے خصوصاً عوام کو حفاظتی تدابیر اختیار کرانے کی ترغیب دینے میں علمائے کرام کا کلیدی کردار ہے ۔ حکومت نے ہر اہم معاملے میں علماء و مشائخ سے رہنمائی حاصل کی ہے اور علماء کرام کی مشاورت اور رہنمائی سے ہی معاملات میں پیشرفت کرنے پر یقین رکھتی ہے ۔ وزیراعظم نے سندھ کی ایک لاکھ 54 ہزار ٹائیگر فورس کے معاملات کے انتظام کی ذمہ داری گورنر سندھ کو سونپنے کی منظوری دیدی۔ یہ منظوری انہوں نے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار سے ملاقات کے دوران دی۔ معاون خصوصی نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی ہفتہ وار رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے مارگلہ ہلز پر درختوں کی کٹائی پر نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی جبکہ کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق تحقیقات پر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ۔ دریں اثناء وزیراعظم نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر اداروں کی جانب سے شکایات میں کوتاہی برتنے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق شہریوں کی شکایات پر متعلقہ اداروں کے بیانات میں تضاد ہے ، وزیراعظم کی ہدایت پر 1 لاکھ 6 ہزار شکایات کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا، یکم جنوری سے 30 اپریل تک حل کی جانے والی شکایات کو مرحلہ وار کھولا جائے گا۔وزیراعظم آفس کے مطابق شہریوں کی شکایات کے حل سے متعلق اداروں نے غلط بیانی کی، شہری اداروں کی جانب سے شکایات کے حل پر مطمئن نہیں تھے ، شکایات کو دوبارہ کھول کر ان کا میرٹ پر حل یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم آفس کے مطابق پنجاب سے 17 ہزار661، سندھ سے 3 ہزار 256 شکایات کھلیں گی، خیبرپختونخوا سے 5 ہزار 346 شکایات دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ہوا ، وفاق سے 12 ہزار 340 جبکہ بلوچستان سے 482 شکایات دوبارہ کھولی جائیں گی۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں