دھوپ اتری اشجار سے بھی دھوکہ کھایا یار سے بھی حسن کا جادو چلتا ہے دریا کے اس پار سے بھی یہ دھوپ گرمیوں کی دھوپ ہے کہ مجموعی طور پر شجر سے سایہ وابستہ ہے اور اشجار دھوپ میں جلتے ہیں ’’سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے، ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے‘‘ سردیوں کی دھوپ تو اپنی جگہ ایک نعمت ہے کبھی ہم نے یونیورسٹی دور میں کیا تھا۔ سردیوں کی اس دھوپ میں جانا کون کلاسیں پڑھتا ہے۔ میرے معزز و محترم قارئین آج ہمارا موضوع سخن حکومت کا بلین ٹری منصوبہ ہے جسے عدلیہ نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ حکومت بھی تو کب سے قوم کو سبز باغ دکھا رہی ہے اربوں درخت لگانے کے دعوے۔ درخت مگر ہوا میں تو نہیں لگتے۔ اس منصوبے کا نام اصل میں’’ــ بلین ٹری سونامی ‘‘ہے ۔سونامی تو پھر ہنا تھا،بجائے اربوں درخت لگانے کے جنگل کاٹے گئے۔ جج صاحب کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے درخت کٹتے دیکھے ہیں۔ ہر کام میں یوٹرن ہی نظر آتا ہے ہر کام الٹ ہونے لگتا ہے: میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں ویسے سپریم کورٹ کے ریمارکس اچھا خاصہ ادبی پیرایہ ہے ،خاص طور پر اسلام آباد میں لگنے والے 5لاکھ درخت کسی کو نظر نہیں آتے۔ یاد آیا کہ والد صاحب نماز کا پوچھتے اور ہم بتاتے کہ مسجد میں پڑھ کر آیا ہوں تو وہ کہتے کیا تم نے سلمانی ٹوپی پہنی ہوتی ہے کہ کسی کو نظر نہیں آتے۔ غالباً ان گنت درخت عقلمندوں ہی کو نظر آتے ہیں۔ صرف بادشاہ ہی دیکھ سکتا ہے یا اس کے حواری پھر بچے تو شور مچائیں گے کہ بادشاہ کے کپڑے کہاں گئے؟ سندھ کا حال تو سب سے سوا ہے کہ لاڑکانہ اور سکھر کے درمیان جنگل اس بنا پر کاٹ لئے گئے کہ یہاں ڈاکو چھپتے ہیں عوام کو کیا معلوم کہ یہ تو ڈاکوئوں کو بھی ڈاکو پڑ گئے ہیں۔ یعنی چوروں کو مور اور موروں کو ’’ہور‘‘ ڈاکو کوئی انہوں نے نہیں پکڑا۔ یہ جنگل جو کاٹے گئے ہیں اور فرنیچر کی صورت ڈرائنگ رومز میں پہنچے ہیں کسی کو کیا معلوم کہ یہ جنگل کسی ملک کے موسموں کو برقرار رکھنے میںکتنے ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔یہ سیلابوں کو بھی روکتے ہیں۔ یہ سبزہ یہ ہریالی ویسے بھی آنکھوں کی طراوٹ ہے اور ماحول کی خوبصورتی۔ مجید امجد یاد آتے ہیں کہ جب ساہیوال کی نہر سے درخت کاٹے تو انہوں نے باقاعدہ نوحہ لکھا: بیس ہزار میں کٹ گئے سارے ہرے بھرے اشجار اس نظم کے آخر میں وہ یہ بھی کہتے ہیں مجھ پر بھی اک کاری ضرب اک ہے آدم کی آل۔ اب تو درخت کاٹ کاٹ کر شہروں کو برباد کر دیا گیا۔ لاہور کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔ جہاں ہوٹلوں میں گدھے کھلا دیے جائیں گے تو دماغ کیا کام کرے گا۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کہ دس بلین درخت آخر نظر کیوں نہیں آتے۔ سپریم کورٹ کے فضل ججز انگشت بدنداں ہیں تو غلط نہیں۔ شایدحکومت کے اس منصوبے میں شامل درخت صرف منصوبے ہی میں یعنی کاغذ پر لکھے ہوں یا پھر تعداد بیجوں سے اخذ کی گئی ہو کہ ہر بیج ایک درخت ہی تو ہوتا ہے۔ اب بیج کون گن سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ ماحولیات کے متعلقہ افسر اعلیٰ کو تو شاید جیل جانا پڑے۔ عدالت ایک ماہ بعد سارا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔سچی بات یہ کہ حکومت کی کسی بات کا بھی کوئی اعتبار نہیں رہا۔ بلکہ کبھی کسی نے اعتبار کیا ہی نہیں۔ ان کے قول و فعل میں یکسر تضاد ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبہ فنڈز کا حساب تو دینا ہو گا۔ ذرا سا عقل و شعور ہو تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اشجار پر صرف انسان ہی کا اجارہ نہیں۔ پرندوں کی ایک دنیا ان سے وابستہ ہے کبھی یہ لوگ فطرت کے قریب آئے ہی نہیں ۔ کبھی آپ گلہری کو پھدکتے اور درخت پر چڑھتا دیکھیں‘ پرندوں کے غول درختوں پر اترتے کیسے بھلے لگتے ہیں۔ یعقوب پرواز یاد آئے: رہین آب و دانہ ہی سہی آوارگی اپنی گھروں کو لوٹ آتے ہیں پرندے شام سے پہلے آپ نے پچاس لاکھ انسانوں کے لئے لگانا تھے وہ تو ایک طرف آپ نے لاکھوں پرندوں کو بھی بے گھر کر دیا ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ 10بلین درختوں کی شاید ہمارے پاس جگہ ہی نہ ہو۔ اسی لئے یہ خلا میں کہیں لگائے گئے۔ ایک جج صاحب نے سندھ حکومت کی فعالیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈاکو تو کیا ایک تتلی بھی نہیں پکڑی۔ بہرحال اس بات پر میرے تحفظات ہیں کہ تتلی جیسی خوبصورت مخلوق کو آپ کیوں پکڑیں گے۔ اپنا دوست جمشید مسرور سامنے آگیا: ایک شاعر ابھی جہان میں ہے ایک تتلی ابھی اڑان میں ہے ہم نے وائلڈ لائف ہی ختم کر دی۔ مکمل طاقت مکمل تباہ کر دیتی ہے اب یہ کوئی تماشہ ہے کہ اپوزیشن کاوجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔شکر ہے فواد چودھری کہہ رہے ہیں ڈائیلاگ ضروری ہے۔ یہ بھی کہا کہ نیب مکمل ثبوت کے ساتھ ہاتھ ڈالے وگرنہ ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔ کیا سنہرا دور تھا کہ ریڈیو لاہور کے عقب والے چھوٹے سے قطعہ اراضی میں ہمارے بڑے بڑے فنکار اپنے نام کا ایک پودا لگتے تھے۔ گویا یہ اشجار تو یادیں ہیں بڑے بڑے لوگ ویسے بھی باغبانی کو پسند کرتے آئے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں: میں ایک گھنا پیڑ سرراہ گزر ہوں دشمن بھی جو چاہے تو مری چھائوں میں بیٹھے دیکھا جائے تو یہ ایک پیغام بھی ہے کہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ آپ ٹھنڈے دل سے معاملات کو دیکھیں کہ آپ طویل ترین دھرنا دیا۔ اب جلسے روک رہے ہیںایسے وزراء ُ آپ کے اردگرد ہیں۔ انہیں خود معلوم نہیں کہ کیا کہنا ہے اور کیا کرنا ہے۔ ایک بات کرتا ہے تو دوسرا اس کی تردید کر دیتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لادوا۔ ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو(صوفی تبسم) گزارش صرف اتنی ہے کہ اپنی کمزوریوں کو ختم کرو دشمن کی طاقت خود ہی ختم ہو جائے گی۔ آخر میں اسلم کولسری کی درختوں کے حوالے سے کہی گئی غزل کا مقطع: میں نے اتنی باتیں کی ہیں لیکن تم نہیں بولے ہاں ہاں کیا اسلم کیا اسلم کی اوقات درختو!