سندھی لینگویج اتھارٹی حیدر آباد کے احسان خان لغاری اور مہر سرمد حسین سندھی ملتان آئے۔ جھوک سرائیکی میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، ظہرانے میں پیر آف کوٹ مٹھن شریف خواجہ غلام فریدکوریجہ‘ ماہر لسانیات پروفیسر شوکت مغل اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ میزبانی کے فرائض راقم الحروف نے سر انجام دیئے۔ احسان خان لغاری نے سندھ اور وسیب کے تاریخی‘ جغرافیائی‘ ثقافتی‘ لسانی و تہذیبی روابط کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کہا کہ سندھ میں سیلاب کا خطرہ ہے۔مگر وسیب پانی کے مسئلے کا سب سے بڑا فریق ہے اور سب سے زیادہ نقصان بھی وسیب اٹھا رہا ہے اور اب بھی جو سیلاب آیا ہوا ہے اس میں سب سے بڑا متاثرہ فریق وسیب ہے۔ پانی کے حوالے سے وسیب کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سندھ کی ارسا میں نہ صرف نمائندگی موجود ہے بلکہ دوسرے صوبوں کی نسبت دوہری نمائندگی موجود ہے۔ جبکہ وسیب کی صورتحال یہ ہے کہ وسیب کا صوبہ نہ ہونے کے باعث ارسا میں بھی نمائندگی نہیں ہے اور وسیب سے جو لوگ منتخب ہو کر حکومتی ایوانوں اور اسمبلیوں میں جاتے ہیں‘ انہوں نے کبھی وسیب کے حقوق کیلئے بات نہیں کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انگریز دور سے لے کر آج تک وسیب کے لوگ کسی نہ کسی شکل میں حکومت کا حصہ بنتے آ رہے ہیں۔ مگر ان کی خاموشی وسیب کے تمام مسائل کا موجب ہے۔ وسیب کے لوگوں کو ہمیشہ یہ طعنہ ملتا ہے کہ تمہارے خطے کے لوگ ہمیشہ بر سر اقتدار رہے۔ انہوں نے مسئلے کیوں حل نہ کئے؟ اب بھی جس قدر حکومتی ایوانوں میں اس خطے کی نمائندگی موجود ہے تو اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ طعنوں کی فہرست میں ایک نئے طعنے کا اضافہ ہو گا اور مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ سندھ کے دوست شکوہ کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ چلیں، ڈی جی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، رحیم یارخان اور لیہ وغیرہ کے اضلاع میں اب بھی سیلاب آیا ہوا ہے۔ دریائے سندھ اور دریائے چناب کے کٹاؤ سے سینکڑوں بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ سیلاب وسیب میں ہو، سندھ میں ہو یا ملک کے کسی بھی حصے میں اسسے بچاؤ کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں اور کسی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیلاب کے دنوں میں سندھ سے بھی زیادہ نقصان وسیب کا ہوتاہے اس سے بڑھ کریہ کہ جب سیلاب نہیں ہوتا تو وسیب کو پانی کا حصہ نہیں ملتا، یہ تکلیف دہ امر ہے کہ پانی کے معاملے میں وسیب سے مسلسل نا انصافی ہوتی آ رہی ہے۔ 1999 ء میں پانی کے معاہدے کے موقع پر وسیب کے پانی کا حصہ سندھ کو زیادہ دے دیا۔ وسیب میں پانی کی قلت بارہ مہینے موجود ہے لیکن فصل خریف اور فصل ربیع کی کاشت کے وقت وسیب کو پانی نہیں ملتا۔ وسیب کے کاشتکار مجبور ہو کر زمینوں کی آبیاری کیلئے اپنی ہی زمینوں کا خون نچوڑتے ہیں۔ مہنگے ڈیزل سے ٹیوب ویل چلاتے ہیں۔ پانی کے مسئلے پر سندھ کے اپنے تحفظات ہیں، وسیب اور سندھ ٹیل کے علاقے ہیں، لیکن یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ دریائے سندھ کی گذر گاہ وسیب ہے اور پانی کے معاملے میں حق تلفی سندھ سے زیادہ وسیب سے ہو رہی ہے۔ ہمارے سندھی دوست اس کو بخوبی سمجھتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وسیب تہذیبی، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر الگ ہے۔سندھیوں کا اپنا صوبہ ہے وہ اپنے حق کیلئے احتجاج تو کر سکتے ہیں واٹر کمیشن ”ارسا“ میں سندھ کو دوگنا ممبر شپ حاصل ہے۔ سندھ طاس معاہدے کا سب سے زیادہ نقصان وسیب کو ہوا، ستلج کی فروختگی کے بدلے میلسی سیفن کے ساتھ ایک اور سیفن بنانے اور ایس ایم بی ”کو وسعت دینے کا منصوبہ تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا جس کے باعث چولستان میں ایک اور چولستان وجود میں آ رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے بعد وسیب میں تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ ایوب خان کی ماتحتی میں پاکستان نے دریا انڈیا کو فروخت کر کے دو جھیلیں بنائیں۔ ایک کا نام منگلا اور دوسری کا نام تربیلا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دونوں جھیلوں کے متاثرین کو وسیب میں رقبے الاٹ کئے گئے اور چولستان میں آج بھی منگلا ڈیم متاثرین اور تربیلا ڈیم متاثرین کے چکوک موجود ہیں۔تاریخ ارضیات کی بد ترین جعلسازی کر کے تھل کے پانچ اضلاع بھکر، خوشاب، میانوالی،لیہ اور مظفر گڑھ کے دو تہائی رقبے ڈویلپمنٹ چارجز کے طور پر ہتھیا کر کس طرح لوگوں کو دیئے گئے۔ اسی طرح راجن پورکی دھندی سٹیٹ میں جائیں یا پھر ریاست بہاولپور کے چولستان کو لے لیں، جہاں آج بھی ناجائز الاٹمنٹوں اور زمینوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ کا ایسا طوفان آیا ہوا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ سب کچھ سندھ طاس معاہدے کے بعد بننے والی کینالز اور بیراجز کی شکل میں سامنے آیا ہم زمینوں کیلئے پانی مانگ رہے تھے انہوں نے زمینیں ہی چھین لیں۔ اس مسئلے پر نئے سرے سے غور کی ضرورت ہے کہ کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہئے اور ناجائز الاٹمنٹوں کی بجائے زمینیں خطے کے اصل حقداروں کو ملنی چاہئیں۔ کوئی بھی دریا محض نام کی وجہ سے کسی کی ملکیت نہیں بن جاتا۔جیسا کہ دریائے جہلم ہے یا دریائے سندھ کو اوپر دریائے اٹک کہا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف وہ مالک ہیں۔بلکہ اصول کے مطابق دریا جہاں جہاں سے گزرتا ہے، ان سب کا اس پر برابر حق ہوتا ہے۔ہم بتانا چاہتے ہیں کہ سندھ کا لغوی معنی دریا ہے اور دریائے سندھ ایک نام نہیں، اس کے بہت نام ہیں۔ دریا کے آغاز سے اختتام تک۔ اس کے کئی نام مثلاً جہاں سے شروع ہوتا ہے، وہاں اس کا نام اباسین ہے۔ ”ابا سئیں“ سرائیکی لفظ ہے جس کا مطلب ”دریاؤں کا باپ“، آگے یہ بہت بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا نام ”مہو ڈھنڈ“ ہے۔ یہ بھی سرائیکی لفظ ہے، سرائیکی میں ”ڈھنڈ“ ڈیم کو کہتے ہیں۔ مہو یا ”موہانڑیں“ مچھلیاں پکڑنے والے کو کہتے ہیں۔ وسط میں اس دریا کا نام ”نیلاب“ ہے۔ آگے آکر یہ دریائے اٹک ہے۔ سرائیکی خطے میں اس کا نام سندھ ہے۔ سب سے اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں دریائے سندھ نہیں بلکہ ”مہران“ ہے۔اس مکالمے اور مباحثے کا حاصل یہ ہے کہ پانی کے مسئلے پر پاکستان کے تمام صوبوں اور تمام خطوں کو نئے سرے سے مکالمے کی دعوت دی جائے، سب کا نکتہ نظر سنا جائے اور پانی کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے کہ پانی کا نام زندگی ہے اور زندگی کا نام پانی ہے۔