لاہور ہائی کورٹ نے شجر کاری اور جنگلات کے حوالے سے دائر متعدد پٹیشنوں پر فیصلہ دیتے ہوئے پنجاب حکومت کے مختلف محکموں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شجر کاری کی جائے اور جنگلات کا تحفظ کیا جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے قوانین کو مزید سخت کیا جائے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کو اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے اور اس کا تدارک بڑے پیمانے پر شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ صحت مند ماحول کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی زمین کے 25فیصد حصے پر درخت موجود ہوں‘ اگرچہ موجودہ حکومت نے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کر رکھی ہے اور اس کے مفید نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں تاہم اس کے لئے ابھی مزید اقدامات ضروری ہیں۔ جیسا کہ عدالت عالیہ نے حکم دیا ہے کہ حکومت اس کے لئے میڈیااور دوسرے ابلاغی ذرائع سے لوگوں کے اندر شجرکاری و جنگلات کی اہمیت اور ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم شروع کرے۔ تمام متعلقہ وزارتوں ‘ محکموں‘ ڈویژنوں اور اتھارٹیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی طرف سے کی گئی کاوشوں اور کارکردگی کی سالانہ رپورٹ تیار کریں کہ انہوں نے شجر کاری اور جنگلات سے متعلق قوانین پر کس حد تک عملدرآمد کرایا ہے۔ لہٰذا ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب غیرقانونی طور پر جنگلات کاٹنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ نسلوں کو بہترین ماحول اورفضامہیا کی جا سکے۔