کیا عجب اتفاق ہے کہ 13جولائی 1779ء کو فرانس کے دارلحکومت پیرس کے باشندوں نے باسطل کے زندان پر دھاوا بھول کر عوامی انقلاب کی جس طرح ابتدا کر دی، بالکل اسی طرح 152سال بعدیعنی 1931ء میں اسی دن سرینگر کی سینٹرل جیل کے باہر دبے کچلے کشمیری عوام نے آزادی کا الائو روشن کردیا ۔ کشمیر کی تاریخ میںیہ ایک انتہائی غیر معمولی اور اہم دن ہے اور پچھلے 89سالوں سے کشمیر کے سبھی طبقے چاہے بھارت نواز ہوں یا آزادی پسند ، اس کو ایک قومی دن کے بطور مناتے آئے ہیں۔ جس طرح ہندوستانی عوام 1857ء کی جنگ آزادی یا 31اپریل کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ کے قتل عام کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں، اسی طرح 13 جولائی 1931ء کا خون سے لت پت دن جموں وکشمیر میںبسنے والے تمام مظلوم وبے نوا طبقوں اور سارے علاقوں کے مظلوم عوام کی آزادی اور بیداری کا نقیب ہے۔ جموں کی معروف معمر شخصیت کرشن دیو سیٹھی کے بقول مفاد خصوصی رکھنے والے ایجنٹوں نے 1931ء سے لے کر آج تک یہ متواتر کوشش کی کہ اس تحریک کوفرقہ وارانہ رنگت میں پیش کریںا ور اسے ڈوگرہ عوام اور ہندوں کے خلاف بغاوت ظاہر کریں ۔ جبر و استبداد کی چکی میں کشمیری عوام قریباً ساڑھے چار سو سالوں سے پس رہے ہیں۔ مغل فرمانراو اکبر کے جنرل بھگوان سنگھ نے جب کشمیر کے آخری تاجدار یوسف شاہ چک کو دھوکے سے لاہور بلاکر اور پھر قید کرکے بہار جلا وطن کیا، تبھی سے ہی کشمیر پر گورنروں یا گماشتوں کے ذریعے حکومت کی جا رہی ہے۔ مگر اب کشمیری مسلم آبادی کو مزید احساس محرومی کا شکار کرنے کے لیے تاریخ مسخ کرکے یہ باورکرایا جارہا ہے کہ ریاست کے نجات دہندہ ڈوگرہ حکمران تھے اور 13جولائی کے شہیدوں کو فسادی اور غل غپاڑہ مچانے والے سے تشبیہ دی جارہی ہے ۔ نہ صرف اس سال اس دن کو سرکاری کیلنڈر سے خارج کردیاگیا، بلکہ اس کے بدلے مہاراجہ گلاب سنگھ کے جنم دن (7 اکتوبر)کو سرکاری تعطیل میں شامل کیا گیا۔ شعوری طورپر کوشش کی جارہی ہے کہ مہاراجہ گلاب سنگھ اوران کے جانشین راجوںکو ہیرو بناکر پیش کیاجائے۔اگر واقعی جموں کے ہیرو کا درجہ کسی کو دینا ہے تو میاںڈیڈو جموال، باوا جیتو ، کیسری سنگھ‘ دھنونتری بھاگ مل، پونچھ کے راجہ علی خان، سبز علی خان، شمس خان‘ بھمبرکے راجہ سلطان خان، بدھ سنگھ، چودھری غلام عباس وغیرہ اَن گنت لوگ ہیں جنہوں نے اس خطے کی ٓ آزادی کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کردیں یا زیادتیاں برداشت کیں ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد جب سکھ سلطنت کا زوال شروع ہوا اور انگریزوں نے پنجاب پر چڑھائی کی تو جموں کے یہ نام نہاد ہیرو لاہورکے دربار سے غداری کرکے انگریزوں سے مل گئے۔ اس خدمت خاص کے عوض اور 75 لاکھ روپے نانک شاہی کی رقم جو انگریزوںنے تاوان جنگ ڈالا تھا‘ کی ادائیگی کرکے ''بیع نامہ امرتسر‘‘ کے ذریعے کشمیر کا صوبہ راجہ گلاب سنگھ نے حاصل کیا۔ 1846ء سے 1947ء تک جموں کے ''ہیروئوں‘‘ کے اس خانوادے نے جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ میں رقم ہے۔ 13جولائی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ نے اپنی سوانح حیات آتش چنار میں درج کیا ہے کہ 29 اپریل کو عید کے دن جموں صوبہ میں نماز عید کے بعد جب امام منشی اسحاق نے خطبہ پڑھنا شروع کیا، تو ڈپٹی انسپکٹر جنرل چودھری رام چند کی ایما پر سب انسپکٹر بابو کھیم چندنے رعونت کے ساتھ خطبہ بند کرنے کیلئے کہا۔ اس کے خلاف کئی اجتماعات ہو ہی رہے تھے ، کہ جموں کی پولیس لائن میں کانسٹبل لبھو رام نے ایک دوسرے مسلمان کانسٹبل کے سامان سے قرآن پاک چھین کر اس کی بے حرمتی کی۔ اس کے ساتھ جموں سے 15میل دور ڈگھور میں مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے سے روک دیا گیا۔ ابھی تک کشمیر میں کوئی منظم تنظیم قائم نہیں ہوئی تھی۔ مگر ان واقعات پر احتجاج درج کرنے کیلئے اسکول ماسٹر شیخ عبداللہ سمیت کئی نوجوانوں نے پوسٹر چسپاں کرنے کا پروگرام بنایا۔ پوسٹر چسپاں کرتے ہوئے پولیس نے محمداسماعیل نامی ایک شخص کو گرفتار کیا اور جب اسکو تھانے لے جایا جارہا تھا تو ایک جم غفیر اسکے پیچھے چل دیا۔ بھیڑ کو دیکھ کر تھانے دار نے اسماعیل کو تو چھوڑ دیا، مگر ہجوم اس کو جلوس کی صورت میں سرینگر کی جامع مسجد لے گیا، جہاں 15ہزار افراد کے ہجوم کے سامنے شیخ عبداللہ نے پہلی عوامی تقریر کی۔ لحن داوٗدی میں قران کی تلاوت اور یہ شعر : آہ جاتی ہے فلک پر رحم کرنے کیلئے۔بادلوہٹ جاو، دے دو راہ جانے کیلئے ۔۔پڑھ کر ہجوم پر رقت طاری کروائی۔ ان حالات کے پیش نظر مہاراجہ ہری سنگھ نے سیاسی مشیر ای سی ویکفیلڈکے مشورہ پر ریاستی مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد طلب کیا، جو اپنی شکایات اور مطالبات پیش کرے۔ جموں سے مستری یعقوب علی، سردار گوہر رحمان، چودھری غلام عباس اور شیخ عبدالحمید کو نامزد کیا گیا۔ کشمیر سے نمائندوں کو طے کرنے کیلئے سرینگر میں میر سید علی ہمدانی کی درگاہ یعنی خانقاہ معلی کے صحن میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔(جاری ہے)