سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے بڑی اہم اور قابل غور گفتگو کی جبکہ ان کے خلاف ایک مذہبی جماعت تن تنہا دھرنا دیے بیٹھی ہے اور اس کے دوسرے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ برسبیل تذکرہ باوثوق ذرائع کے مطابق عائشہ گلالئی پشاور موڑ پہ ہی دھرنا دینے کا ارادہ باندھے بیٹھی ہیں جو مبینہ طور پہ اس ماہ کے آخری عشرے میں شروع ہوگا۔یہ یاد رہنا چاہیے کہ عائشہ گلالئی نے وزیر اعظم پہ اخلاقی حوالے سے الزامات عائد کئے تھے اور ان کی کردار کشی میں قابل ذکر حصہ ڈالا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ ان سناری چوٹوں سے عمران خان کا کچھ بگڑتا نہیں ہے لیکن اہم بات یہ ہے اس وقت جبکہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی قسمت کا فیصلہ ہوچکا ہوگا،عائشہ گلالئی کو میدان میں آنے کا اشارہ کس نے دیا ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ مبینہ دھرنا عمران خان کی بجائے صدر عارف علوی کے خلاف دیا جائے گا جن کے پے درپے صدارتی آرڈیننس پہ متحدہ اپوزیشن چراغ پا ہے اور ایوان زیریں و بالا کو تہہ و بالا کرکے رکھا ہوا ہے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ اب کی بار توپوں کا رخ صدرکے صوابدیدی اختیارات کی سمت ہوگا۔اس اشارے میں مزید رمز یہ پہناں ہے کہ جس صدارتی نظام کے متعلق ماضی قریب میں چہ مگوئیاں ہوتی رہی ہیں اس کا خطرہ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہے۔ مجھے تو بس یہ کہنا ہے کہ بات اب عائشہ گلالئی پہ آگئی ہے تو نا امیدی ان کی دیکھا چاہئے۔ بات وزیر اعظم کے سیرت کانفرنس میں خطاب سے شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مدینہ کی ریاست کا نعرہ انہوں نے انتخابات جیتنے کے بعد لگایا تاکہ ان پہ مذہب کارڈ کے استعمال کا الزام نہ لگایا جاسکے۔ انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ مملکت خداداد میں انتخابات جیتنے کے لئے مذہبی کارڈا ستعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مسند اقتدار تک پہنچنے میں تو یہ کارڈ ممد و معاون نہ ہوسکا البتہ حکومتیں الٹنے میں اس کا استعمال خاصا سود مند رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں مذہب گزشتہ چند دہائیوں سے حساس مسئلہ رہا ہے،اس کارڈ کے استعمال کی کافی گنجائش موجود ہے۔مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکا ء سے بات کرکے دیکھئے۔ تقریبا نا خواندہ اور بمشکل اردو بول سکنے والے دریدہ لباس اور پھٹی جوتیاں پہننے والے آپ کو پوری شرح صدر اور خلوص دل سے یہ بتاتے ملیں گے کہ وہ اس دھرنے میںا س لئے موجود ہیں کیونکہ عمران خان یہودی ایجنٹ ، قادیانیوں کا سہولت کار اور نعوذ بااللہ گستاخ رسول و صحابہ ہے۔وہ بڑی معصومیت سے یہ بھی بتائیں گے کہ ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں البتہ ان کے قائدین ایسا کہتے ہیں لہٰذا ان کے یقین کے لئے یہی کافی ہے۔انہیں علم نہیں کہ ثبوت ان کے قائدین کے پاس بھی نہیںا ور انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ اندھی تقلید کرنے والے جس ذہن کو انہوں نے پیچھے لگا رکھا ہے وہ ثبوت نہیں مانگتا۔ اسی مذہبی ذہن ، کو جو خالصتا عوامی ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد رکھتا ہے ، مذہبی برافروختگی کے ذریعے کسی بھی حکومت کے پیچھے لگایا جاسکتا ہے بالخصوص اس وقت جب ملک کا سربراہ ماضی میں پلے بوائے کی شہرت رکھتا ہو، اس کی سابقہ بیوی یہودی ہو اور وکی لیکس والا وکی اس کا کزن بھی ہو۔ عمران خان کا جرم یہ ہے کہ ان کا ماضی پوری صراحت کے ساتھ ہمارے سامنے کھلا ہوا ہے۔ وہ خود بار ہا ایک گہنگار مسلمان، جو پشیمان عصیاں بھی ہے،کی حیثیت سے اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں اور کسی کو بھولنے نہیں دیتے کہ وہ کیا تھے اور کیا ہوگئے ہیں۔ ایسی خالص پشیمانی اور خود شناسی کی ہماری قوم کو کہاں عادت ہے جہاں ہر فرد ایسا ولی کامل ہے جو دامن نچوڑ دے تو فرشتے وضو کریں۔عائشی گلالئی کا اچانک منظر عام پہ آنا اسی ذہنیت کا اظہار ہے۔ یہودی ایجنٹ اور قادیانیوں کا سہولت کار ایک سکہ بند پلے بوائے بھی تو ہے۔ہماری عزتیں اس کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ایمان تو وہ کب کا بیچ چکا۔عمران خان نے بڑا جرم کیا کہ مدینہ کی ریاست کے ذکر کو گویا وظیفہ بنا لیا۔ ہارے ہوئے جواریوں کے ہاتھ میں ترپ کا ایک پہ پتا تھا، اسے بھی لے اڑے۔ ہمیں اب تک مذہبی جماعتوں نے اس اسلامی انقلاب کے خواب دکھائے تھے جو بھٹو کو پھانسی لگوانے کے بعد بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔اسے یوں سمجھ لیجئے جیسے کراچی میں پانی کی قلت کا بڑا سبب ٹینکر مافیا ہے۔جس دن پانی کی قلت دور ہوگئی یہ مافیا اپنی موت آپ مر جائے گا۔ مذہبی جماعتیں، جنہوں نے اسلامی انقلاب کے آنے تک تعلیم، انصاف، صحت اور شرف انسانی کو موخر کر رکھا تھا اور مزے سے اقتدار کے کیک میں اپنا حصہ لئے شاداں و فرحان بیٹھی تھیں، اچانک ہڑبڑا کر جاگ اٹھی ہیں کیونکہ ماضی کے پلے بوائے نے مدینہ کی ریاست کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔وہ جب تک اقتدار سے باہر تھا،سب کی خیر تھی۔ اب جب کہ اس گناہوں کی پوٹلی کے ہاتھ سلیکٹڈ ہونے کے باوجود قوت نافذہ آگئی ہے تو یہ تو بڑے خطرے کی بات ہے۔ اس پہ وہ ببانگ دہل کہتا ہے کہ وہ ریاست مدینہ ایک ایک اصول کو بتدریج نافذ کرتا چلا جائے گا۔وہ ظالم یہ بھی کہتا ہے کہ جب انسان عظیم بننا چاہے تو اسے چاہئے کہ انسان کاملؐ کی پیروی کرے اور اگر کوئی ریاست عظیم ہونا چاہے تو اسے چاہئے کہ ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنا لے۔ اس پہ مستزاد وہ یورپ میں کھل کھیل کر آیا ہے اور اس نظام کے حسن کو اسلامی اصولوں کا مرہون منت سمجھتا ہے اور اس کے قبح کو ان کی اپنی تہذیب کا شاخسانہ۔ یعنی وہ اس سے جس حد تک واقف ہے شاید کوئی اور نہیں ہے۔ اس کے منہ پرشرعی داڑھی ہے نہ ٹخنوں سے اونچی شلوار۔وہ تو رحمۃ اللعالمین اور خاتم النبین کا درست تلفظ کرنے سے بھی معذور ہے۔ جب وہ اس قدر معذور ہے تو اسے چاہئے کہ ریاست مدینہ کا نام لے کر بیک وقت مذہب کارڈ کھیلنے والوں اور مذہب بیزاروں کے پیٹ پہ لات مارنے سے باز رہے ورنہ اس کی کردار کشی تو نہایت آسان ہے کہ اس کا ماضی کسی سے چھپا ہے نہ حال۔ وہ اتنا گناہگار اور سیاہ کار ہے کہ اسے ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ ہاں کرپشن کے خلاف اس کا ایک ہی موقف ہے۔ اسے حرام کا پیسہ کمانے اور اس کے ڈھیر لگانے سے اتنی نفرت ہے کہ وہ اسے بت پرستی قرار دیتا ہے۔اگر وہ اس موقف سے ہی دستبردار ہوجائے تو شاید قابل قبول ہوجائے۔ تب وہ حرم پاک کا غلاف تھامے اچھا لگے گا اور تسبیح گھماتے بے حد دلکش۔ لیکن یہ کیا کہ وہ اس نظام کو ہی مدینہ کی ریاست کی بنیادوں تلے ملیا میٹ کرنا چاہتا ہے جہاں خلیفہ کے کرتے کی لمبائی عامی کی زبان دراز کردیتی ہے۔یہ تو حد سے بڑھنے والی بات ہوگئی۔