اسلام آباد(سپیشل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مشکل وقت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں، پاکستان وسائل سے مالا مال اور اﷲ کا تحفہ ہے ، 10 سالوں میں ملک کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ، قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک مشکل دورسے نکالوں گااور اچھا وقت آئے گا، جو اصلاحات ہم کررہے ہیں اس کے اثرات چھ ماہ بعد سامنے آئیں گے ، 18 ارب ڈالرخسارہ پچھلی حکومت سے تحفہ ملا ،منی لانڈرنگ کو روکا جاتا تو قرضوں کے پیچھے نہ جانا پڑتا، وزیراعظم نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کر تے ہوئے کہاکہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے پر 90 دن کے اندر کام شروع کیا جائے گا،میں خود مانیٹر کروں گا،ابتدائی طور پر سات اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ آج سے شروع ہوگا، 60 دنوں میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا، گھروں کیلئے اراضی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی کام نجی شعبہ انجام دے گا، بلا سود قرضے اورگھر فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم اخوت کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور اخوت کو ساتھ لیکر چلیں گے ، کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے ، ہاؤسنگ سکیم سے ملک میں خوشحالی آئے گی،عام آدمی کبھی گھر بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم آفس میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منصوبے سے غریبوں کو چھت میسر آئے گی، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، اقتصادی سرگرمی سے شرح نمو میں اضافہ ہوگا، پہلے مرحلے میں کم آمدنی والے وفاقی ملازمین کیلئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے ، فنانسنگ سے متعلقہ رکاوٹیں دور کرنے کیلئے 60 روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے ،غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لیے 5 سال کے دوران 50 لاکھ گھر بنانے کا ہدف ہے ، 40 انڈسٹریز براہ راست گھر منصوبے سے منسلک ہوں گی، نوجوان کنسٹرکشن کمپنی خود شروع کریں اور انڈسٹری میں شامل ہوں،ہماری کوشش ہے کہ بیروزگارنوجوان ہاؤسنگ سکیم سے روزگار حاصل کریں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے اور قرضے کی قسطیں ادا کرنے کے لیے ہمیں مزید قرضے چاہیئں ،دس سے بارہ ارب ڈالر کی کمی پوری کرنے کے لیے دو راستے ہیں،دوست ممالک یا آئی ایم ایف،ہم نے ان دونوں پر کام کیا،ماضی کی حکومتوں نے بے دردی سے قرضہ لیا اور اس وقت ملکی قرضہ 30ہزار ارب ہے ، ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اگریہ روک دی جاتی تو آج ہمیں ڈالر کی کمی سامنا نہ ہوتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ان کیلئے بھی ہم ایک پروگرام شروع کر رہے ہیں، یہ شعبہ ہمارے منشور کا بنیادی جزو ہے ۔دریں اثناوزارت سمندر پار پاکستانیز اور ہیومین ریسورسز ڈویلپمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی اور بیرون ملک لیبر ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں ، محنت کشوں کی فلا ح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔اجلاس میں سیکرٹری سمندر پار پاکستانیز اور ہیومین ریسورسز ڈویلپمنٹ ڈویژن نے وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیر اعظم نے معاون خصوصی برائے سمندر پارپاکستانیز سید ذوالفقاربخاری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی، کمیٹی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور لیبر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کرے گی، کمیٹی سٹیٹ بینک ، نادرا اور ایف آئی اے سے مل کر بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو ملک میں ترسیلات زر بھیجوانے کے طریقہ کار کو وضع کرے گی تاکہ حوالہ اور ہنڈی کی بجائے سرمایہ قانونی اور جائز طریقے سے ترسیل کیا جاسکے ،وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں بیرون ملک مزدوری کرنے والے پاکستانیوں کے لیے نادرا NICOP کی شرط ختم کرنے پر غورکیاگیاجبکہ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی منتقلی کااصولی فیصلہ کیاگیا۔