ایوان صدر میں معذوریوں کی درجہ بندی کے فریم ورک اور فالو اپ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سرکاری و نجی شعبوں میں خصوصی افراد کے لئے ملازمتوں کے کوٹہ پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی 10سے 12فیصد آبادی کو مختلف قسم کی معذوریوں کا سامنا ہے۔ یہ سرکاری و نجی ادارں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہم افراد کو ان کی مہارت اور قابلیت کے مطابق ملازمت دیں تاکہ انہیں مالی اعتبار سے با اختیار بنایا جا سکے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں قریباً ایک کروڑ 60لاکھ سے زائد افراد معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں، جن میں 90لاکھ خواتین ہیں لیکن ان میں سے 90فیصد خصوصی افراد کو روزگار کے مواقع حاصل نہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں معذور افراد کے حوالہ سے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی شرح صفر ہے۔ متعدد بار اعلیٰ عدالتوں کو معذوروں کے حقوق ان کی ملازمتوں کے حوالے سے مداخلت کرنا پڑی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ناصرف خصوصی افراد سے متعلق موجود قوانین ترامیم کی جائیں بلکہ ان پر عمل بھی کرایا جائے، سرکاری و نجی اداروں میں ان کے ملازمتوں کے کوٹہ پر تعیناتیوں کو یقینی بنایا جائے، خصوصی افراد کے تعلیمی اداروں میں اضافہ کیا جائے جہاں ان کو مختلف ہنروں پر مبنی تعلیم دی جائے اوران کے حقوق کے مطابق انہیں معاشی‘ معاشرتی اور مالی سہولتیں اور فراہم کی جائیں تاکہ وہ معاشرے میں متحرک شہری کا کردار ادا کر سکیں۔