اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)وفاقی دارلحکومت میں یقینی سکیورٹی ، جرائم میں کمی ، امن وامان یقینی بنانے اور ٹریفک نظام میں بہتری کیلئے 15ارب 86کرو ڑروپے کی لاگت سے نصب کیا گیا جدید ترین سیف سٹی منصوبہ غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے ،منصوبے کا آپریشن اور دیکھ بھال کرنے والی کمپنی کیساتھ سافٹ وئیر سپورٹ سمیت دیگر سروسز کا معاہدہ 28مئی 2019کو ختم ہوگیا۔ سیف سٹی کے تحت 1ہزار900کیمروں میں سے 1500کیمرے مکمل طور پر غیر فعال اور 400کیمروں سے صرف لائیو ویڈیو دیکھ جاسکتی ہے ۔ غیرملکی کمپنی کی جانب سے سافٹ وئیر سہولت ختم اورسرور شٹ ڈاؤن ہونے کے باعث ویڈیو ریکارڈنگ، کسی مشتبہ شخص یا سرگرمی کو ٹریس کرنے اور دیگر ریکارڈ کا حصول ختم ہوچکا۔ پنجاب حکومت کی ایک شخصیت اسلام آباد کے سیف سٹی منصوبے کا آپریشن پیپرا رولز کے منافی بغیر ٹینڈر نجی کمپنی کے سپرد کرنے میں مصروف عمل ہے ۔ منصوبے کے تمام فیچرز بحال اور سافٹ وئیر کے ذریعے جرائم میں 80فیصد کمی جبکہ ٹریفک نظام سے ماہانہ خطیر ریونیو کمایا جاسکتا ہے ۔ سرکاری دستاویز کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری 11نومبر 2011ئکو دی گئی جس کا تخمینہ لاگت 11ارب 86کروڑ 5لاکھ مقرر کیا گیا اور اسے جون 2011 سے مئی 2013 تک 2سال کے عرصے میں مکمل ہونا تھا۔ایکنک نے 30دسمبر 2015ئکوپراجیکٹ کی دوبارہ نظر ثانی کی اور منصوبے کیلئے 15ارب 86کروڑ 5لاکھ کی منظوری دی ۔نظر ثانی کی بنیادی وجہ حکومت کی ڈیوٹیز اور ٹیکس کی مد میں 4ارب روپے شامل کرنا تھا۔PC-IV کے مطابق سیف سٹی منصوبہ اکتوبر 2018ئمیں 60ماہ کی تاخیر سے مکمل ہوا۔ منصوبے میں ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا قیام بھی شامل تھا جس میں جی آئی ایس، جی پی ایس،آئی وی ا یس اورایف ای ایم ایس شامل تھے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے منصوبے کے مکمل ہونے کی رپورٹ PC-IV)مزید کارروائی کیلئے وزارت منصوبہ بندی وترقی کو جمع کروائی گئی ۔ ایویلویشن سیکشن نے تکمیلی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مندرجہ ذیل تجاویز دیں ۔ منصوبے کی سرگرمیاں عام نوعیت کی ہیں، سیف سٹی کیلئے کی جانے والی سرمایہ کاری کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ منصوبے کی سرگرمیوں کو 159 اسامیوں میں سے 61 اسامیوں کو غیر ترقیاتی بجٹ میں منتقل کر دیا جائے ۔اسامیوں کے سکیل اور خطابات کو مندرجہ ذیل اسامیوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔تجویز دی گئی کہ وزارت داخلہ منصوبے کے مقاصد کو احسن طریقے سے حاصل کرنے کیلئے نادرا اور ہواوئے کے ساتھ کیے گئے 26دسمبر 2017 کے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل کرے ۔ منصوبے کے ڈیٹا میں پاکستانی شہریوں کی حساس معلومات شامل ہیں اس لئے سکیورٹی کے نقطہ نظر سے تمام آلات کا آڈٹ نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی بورڈ سے کرایا جائے ۔ ایگزم بینک آف چائنہ نے رعایتی قرضے کے ذریعے منصوبے کی فنڈنگ کی ۔منصوبے کے تحت2900سکوائر فٹ کا سٹیٹ آف آرٹ ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سیکٹر H-11/4میں قائم کیا گیا جس میں کال سینٹر ، ڈیٹا سینٹر،ایچ وی اے سی سسٹم،، جنریٹرز،یوپی ایس بیٹریز کی تنصیب کی گئی۔پولیس کیلئے نئے کمیونیکیشن سسٹم کیلئے سمارٹ ڈرائیور لائسنس کے بجائے ای ایل ٹی ای نیٹ ورک قائم کیا گیا۔