اسلام آباد (خبر نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے فیصلے نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی،جن بوتل سے نکل چکا ہے ،اب کوئی نہیں سوچے گا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے ،کوئی بھی حکمران اب قانون سے ہٹ کر نہیں چل سکتا، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، سب کو قانون کے دائرے میں لانے کا کام سپریم کورٹ نے شروع کیا اور وہ کام کیے جو جمہوری حکومتوں کو کرنے چاہیے تھے ،حکومت ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے بخوبی آگاہ ہے اس مسئلے پر موثر انداز میں قابو پانے کیلئے بالخصوص علما کرام ، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، ہم گھر گھر، مساجد، سکولوں میں مہم چلائیں گے ، میڈیا کو بھی اس ضمن میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے ، حکومت نے 100 دنوں میں چھ قوانین کے مسودے تیار کئے ،نئے قوانین جلد پارلیمنٹ میں پیش کرینگے ۔لا اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات بھی ہوتے رہے تاہم قانون کی حکمرانی کا تصور اصلی معنوں میں پنپ نہ سکا، پاکستان میں آمر جمہوریت پسند اورجمہوریت پسند آمر بننا چاہتا تھا، ، جمہوری حکومتیں صرف پانچ سال کا سوچتی تھیں تاکہ اگلا الیکشن جیت جائیں اسی محدود سوچ کی وجہ سے ہم پانی کی کمی کے مسائل سے دو چار ہوئے ،عمران خان نے چیف جسٹس کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے وزیراعظم ہیں جسے انھوں نے دعوت دی، شکر ہے کورٹ نمبر ایک میں نہیں بلایا۔ چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پانامہ کا فیصلہ اہم تھا آپ نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی، جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہ آگے جاتا ہے ، ہم مدینہ جیسی ریاست بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے ،وزیراعظم نے جسٹس ثاقب نثار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس کے دور میں مہذب معاشرے کی بنیادیں رکھی گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے سی ڈی اے انکے نیچے ہے اس کے باوجود سی ڈی اے والے عدالت کو میرے حوالے سے تفصیلات بتا رہے ہیں اس سے پہلے اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا، اب ادارے آزاد اور خود مختار ہیں ، پاکستان کو اس وقت مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے ، پاکستان پر قرضوں کا بوجھ ہے ، ہم ان مسائل سے نکل جائیں گے ، عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کام ہو رہا ہے ، آبادی سے متعلق مسائل پر حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے ، ہم نے کئی ٹاسک فورس بنائی ہیں جس میں وزرااعلیٰ کو بھی شامل کیا گیا ہے ، اس ضمن میں رابطہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس میاں ثا قب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا پارلیمنٹ سپریم ہے اور قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ قوانین میں اصلاحات لائی جائیں کیونکہ سول جج کو روزانہ 60مقدمات سننے پڑتے ہیں،موجودہ صورتحال کے پیش نظر ججز کی تعداد بڑھانا ہوگی، عدالتی نظام میں بہت بہتری کی ضرورت ہے ، تعلیم ، بہتر گورننس ، انصاف کی فراہمی ترقی کا اہم جزو ہے ، مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے شانہ بشانہ چلنے کیلئے تیار ہیں، ریاست مدینہ کا خواب پورا کرنے کیلئے ساتھ دیں گے ،اتنا وقت گزر گیا، ہم نے قوانین کو اپ ڈیٹ نہیں کیا، آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دبائو کا شکار ہیں لیکن گزشتہ 60 برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،ہمارے وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہیں، بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلیے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا ہے اب ہمیں آبادی پر قابو پانے کے لیے آگاہی پھیلانی ہے اور اس حوالے سے عملی کام کرنے کا وقت ہے ، تیزی سے بڑھتی آبادی بڑا خطرہ ہے ،ہم نے اس معاملے پر ٹاسک فورس قائم کی ہے ۔قبل ازیں وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی، عمران خان بڑھتی آبادی سے متعلق سمپوزیم میں شرکت کے لیے مقررہ وقت سے تقریباً 40 منٹ پہلے سپریم کورٹ پہنچے اور تقریب میں شرکت سے پہلے وہ چیف جسٹس پاکستان کے چیمبر گئے جہاں ان کی جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات ہوئی۔ملاقات کے بعد وزیر اعظم اور چیف جسٹس ایک ساتھ سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں پہنچے ۔معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا آبادی میں اضافے کی وجہ معاشرتی دباؤ اور غربت ہے ،دیہات میں لوگ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ بچے ہوں گے اتنا ہی اچھا ہوگا کیونکہ ایک باپ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی مزدوری بڑھے گی ، ان ساری چیزوں کے پیچھے سبب جہالت ہے ،مولانا طارق جمیل نے سمپوزیم سے خطاب کے دوران وزیراعظم کی تعریف کردی، انہوں نے کہا کہ یہ پہلا حکمران ہے جس نے مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کیا اس لیے میں اس کو سلام پیش کرتا ہوں اور یہ کام کرنے والا تو اﷲ ہے لیکن حکمران کی نیت کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے ،وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنے پر عمران خان بھی مسکرا اٹھے ۔

وزیراعظم،چیف جسٹس