لاہور(قاضی ندیم اقبال)1سال5ماہ گزر گئے ۔ جہیز کمیٹی داتا دربار کا اجلاس ہی نہ ہوسکا۔ جس کے سبب غریب اور مستحق گھرانوں کی بچیاں جہیز فنڈ لینے سے محروم ہو گئیں۔ اور ان کا کوئی پرسال حال نہیں ۔دوسری جانب محکمہ اوقاف نے رواں مالی سال 2019-20کے سالانہ بجٹ میں جہیز کمیٹی داتا دربار کیلئے 1کروڑ92لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔مگر 3ماہ10دن گزر جانے کے باوجود ایک پائی بھی اس مد میں داتا دربار انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہیں کی گئی۔ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کے خود مختار ادارے کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ صوبہ بھر کے وقف مزارات پر کھے گئے کیش بکسز ہیں ۔ دوسرے نمبر پر محکمہ کو وقف املاک، زمینوں کو سالانہ پٹہ پر دینے ، کرایہ داری پر دینے کی مد میں آمدن ہوتی ہے جبکہ پنجاب بھر سے زون کی سطح پر بھی آمدن کا سب سے زیادہ آمدن داتا دربار سے ہوتی ہے ۔محکمہ اوقاف پنجاب کو دربار حضرت سید علی بن عثمان الہجویری ؒ سے گزشتہ مالی سال 2018-19میں یکم جولائی2018سے 30جون 2019تک مجموعی طور پر سالانہ36کروڑ15لاکھ98ہزار388روپے آمدن ہوئی جن میں سے کیش بکسز کی مد میں 27کروڑ39لاکھ84ہزار16روپے موصول ہوئے ۔ حفاظت پاپوش کے ٹھیکہ سے 5کروڑ52لاکھ66ہزار662روپے وصول ہوئے ۔متفرق مدات میں2کروڑ45لاکھ60ہزار326، ماہانہ رینٹ کی مد میں62لاکھ90ہزار806 روپے ، قدیمی بقایات کی مد میں 5لاکھ62ہزار578روپے جبکہ لیز منی کی مد میں9لاکھ34ہزار روپے وصول ہوئے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف پنجاب نے داتا دربار سمیت پنجاب بھر میں زونل سطح پر جہیز کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں۔ جہاں پر درخواست جمع کروانے والے مستحق شہریوں کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں جہیز فنڈ کی مد میں چیک جاری کئے جاتے ہیں۔تاہم پنجاب بھر کے زونوں میں سب سے زیادہ جہیز فنڈ داتا دربار جہیز کمیٹی کو جاری کئے جاتے ہیں۔2014-15 میں جہیز کمیٹی داتا دربار کو 54لاکھ روپے سالانہ ادا کئے گئے ۔ جبکہ 2015-16میں یہ رقم بڑھا کر 96لاکھ روپے سالانہ کی گئی، جو تاحال برقرار رہے ۔ذرائع کے مطابق داتا دربار جہیز کمیٹی کا باضابطہ آخری اجلاس 9مئی2018 کو ایک سال 5ماہ قبل ہوا۔جس کی صدارت اس وقت کی چیئر پر سن بیگم ذکیہ شاہ نواز نے کی تھی۔