اسلام آباد(خبر نگار)عدالت عظمیٰ نے 18سال سے غیر حاضر خیبر پختونخوا حکومت کے ملازم کو پنشن اور دیگر مراعات دینے کا سروسز ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کرکے آبزرویشن دی ہے کہ جبری ریٹائرمنٹ کے لئے بھی 25سال لازمی سروس ہے ۔چیف جسٹسگلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے ملازم محمد ریاض کو جبری ریٹائر منٹ کے بعد پنشن اور دیگر مراعات خلاف صوبائی حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 18سال غیر حاضر ملازم کو واپس کیسے لیا جاسکتا ہے ؟ ریاض کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل نے 14سال ملازمت کی اس عرصے کا فائدہ انہیں ملنا چاہئے ۔ چیف جسٹس نے کہا 14 سال سروس کا درخواستگزار کو کوئی فائدہ نہیں۔عدالت نے کے پی کے حکومت کی اپیل منظور کرکے سروسز ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کردیا ۔