عوام پر ریاستی اداروں کا تشدد نہ صرف ان اداروں کی عزت و توقیر کو عوام میں کم کرتا ہے بلکہ ریاست بجائے خود اس سے متاثر ہوتی ہے اور اس طرح کی حکومتیں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بدنام ہوتی ہیں۔سیاسی فلسفے کے مطابق انقلاب کا حق عوام کا وہ حق ہے بلکہ ان پر فرض ہے کہ وہ ایسی حکومت کو تبدیل یا ختم کریں جوان کے مشترکہ عوامی اور قومی مفادات کے خلاف کام کرتی ہو اور بغیر کسی وجہ کے لوگوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتی ہو۔تاریخ کے مختلف ادوار میں عوام نے اپنے اس حق کو کسی نہ کسی طرح استعمال کیا ہے خواہ وہ امریکی انقلاب ہو‘ فرانسیسی انقلاب ہو روسی انقلاب ہو یا ایران کا انقلاب ہو۔ چین میں ژوہو خاندان(1122-256) قبل از مسیح نے جب اپنے سے پہلے حکمران خاندان شانگ کا تختہ الٹا تو ’’مینڈیٹ آف ہیون‘‘ کا تصور دیا جس کے مطابق جنت انصاف پسند حکمرانوں کے اختیارات کو برکت دے گی۔اگر ناخوش ہو گی تو مطلق العنان حکمران سے اپنا مینڈیٹ واپس لے لیگی اور اس کے بعد جنت کا حکم ان لوگوں کو منتقل کر دیا جائے گا جو بہترین حکمران ہوں گے۔چین کے مورخین نے مائوزے تنگ کے انقلاب کو جنت کے حکم کے عین مطابق قرار دیا۔چین کی پوری تاریخ میں حکمران خاندانوں کی مخالفت کرنے والے باغیوں نے یہ دعویٰ کیا کہ جنت کا مینڈیٹ گزر چکا ہے اور انہیں بغاوت کا حق مل گیا ہے۔پاکستان میں بھی جنت کا مینڈیٹ حکمرانوں سے چھنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔کنفیویشین فلاسفر مینین (372-289) قبل از مسیح کی تحریروں کو حکمران اکثر دبایا کرتے تھے جن میں وہ اعلان کرتا تھا کہ عوام کو ایک ایسے حکمران کا تختہ الٹنے کا حق ہے جو ان کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔پاکستان میں عوام نے بارہا ایسے حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلائیں۔جدوجہد کی‘ بغاوت کی‘ ان حکمرانوں کا کئی بار جنت کا مینڈیٹ ختم ہوا مگر ان طبقات نے پھر اس مینڈیٹ پر قبضہ کیا اور پاکستان کو عوام کے لئے جہنم بنائے رکھا۔جنت کا مینڈیٹ بالآخر ان حکمرانوں کے پاس جاتا ہے جو عوام کی ضروریات پوری کر سکیں وگرنہ جدوجہد بھی ہوتی رہے گی اور بغاوتیں بھی جنم لیتی رہیں گی ۔یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام جہنم میں رہیں اور اسی ملک کے حکمران اس ملک کو اپنے لئے جنت بنائے رکھیں۔عوام کے حقوق کو ہمیشہ کیلئے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ جدید جمہوری ریاستوں میں عوامی بغاوت ووٹ کے ذریعے ہوتی ہے اور عوام دشمن حکمرانوں کا عموماً ووٹ کے ذریعے تختہ الٹا جاتا ہے بشرطیکہ انتخابات آزاد‘ منصفانہ اور شفاف ہوں۔ووٹ اور ووٹر کی خریدوفروخت کا عمل اس میں شامل نہ ہو‘ میڈیا ہائوسز اور کارپوریٹ کیپیٹل اتنا طاقتور نہ ہو کہ حکومتیں بنانا اور بگاڑنا اس کے اختیار میں ہو۔جیسا کہ روپرٹ رڈوگ جو کہ فاکس نیوز‘ سکائی نیوز‘ وال سٹریٹ جرنل‘ نیوز آف دی ورلڈ‘ سن ٹائمز اور سنڈے ٹائمز‘ ڈائریکٹ ٹی وی‘ بی سکائی بی وغیرہ وغیرہ کا مالک ہونے کے ناطے مغربی دنیا کی سیاست میں یہ کام کرتا رہا۔ 2016ء میں اس کے صرف ایک ادارے سکائی کی مالیت 18.5 بلین تھی برطانیہ میں سیاسی اسکینڈلز میں ملوث ہونے کی بنیاد پر اس کا نیوز آف دی ورلڈ بند کر دیا گیا تھا۔اس کے ایڈیٹرز اینڈی کولسن اور کلائیو گڈمین‘ نیل داس اور ربیکا بروکس کو حراست میں لیا گیا تھا اور سزائیں سنائی گئی تھیں پھر ٹائمز اور سنڈے ٹائمز میں مداخلت پر پابندی لگا دی گئی تھی جو کہ اب اٹھا لی گئی ہے سنا ہے پاکستان کے ایک آدھ میڈیا ہائوسز بھی روپرٹ مرڈاک بننا چاہ رہے ہیں اور پاکستان میں حکومتیں گرانے اور بنانے میں وہی کردار دینا چاہتے ہیں جو کہ مغرب کے کارپوریٹ کیپیٹل کی طاقت پر چلنے والے میڈیا ہائوسز کرتے ہیں مگر سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں اس طرح کے میڈیا ہائوس کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور غیر موثر کر دیا ہے۔اب یہی میڈیا ہائوسز سوشل میڈیا پر بھی اپنا کھیل کھیلانا چاہتے ہیں مگر عوام میں اب تک ان کی پذیرائی نہیں ہو سکی۔ عوام کے احتجاج کے حق کی وجہ سے قدیم روم ہو قرون وسطیٰ کا یورپ ہو یا ابتدائی جدید یورپ‘ کئی بار عوام دشمن حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے قدیم روم میں کئی ٹری بیون کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا کہ وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے تھے جن کو نبھانے کیلئے انہیں ٹری بیون منتخب کیا جاتا تھا ان میں ووٹریبون نہایت اہم تھے رائے دہندگان کا ٹری بیون ‘ اور ملٹری کا ٹری بیون رائے دہندگان کے ٹری بیونز کی تعداد دس تھی جو سینٹ اور سالانہ مجسٹریٹس کے اختیارات کی جانچ پڑتال کرتے تھے جس میں نامناسب قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار بھی ان کے پاس تھا فوجی ٹریبیون فوج کے حصوں کی کمان کرتے تھے اور اعلیٰ مجسٹریٹس کے ماتحت تھے کوئی بھی ٹریبیون جو عوام کے حقوق پر حملہ کرتا اسے ٹری بیون کے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔اسی طرح قرون وسطیٰ کے یورپ میں عوامی احتجاج اور انقلاب کے حق میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں ایک مثال 1018ء میں سویڈن کے بادشاہ کے خلاف قانون ساز سپیکر کی ہے جس نے موقف اختیار کیا کہ سویڈن کا بادشاہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے اور اگر بادشاہ نے ناروے کے ساتھ اپنی غیر مقبول جنگ جاری رکھی تو عوام اس کا تختہ الٹ دیں گے دوسری مثال میگنا کارٹا ہے جو 1215ء میں جاری ہونیوالا ایک انگریز چارٹر تھا جس میں بادشاہ کو کچھ حقوق ترک کرنے اور یہ تسلیم کرنے کا پابند کیا گیا تھا کہ بادشاہ کی اپنی مرضی قانون کے تابع ہے میگنا کارٹا نے پارلیمانی جمہوریت اور بے شمار آئینی دستاویزات اور قانون کی بالادستی میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ کے آئین کو بنیاد فراہم کی۔اسی طرح 1222کا Golden Bullہنگری کے بادشاہ اینڈریو دوئم کی طرف سے جاری کردہ ایک سنہری بل تھا جس میں ہنگری کے نوبل مین کو اختیار دیا گیا تھا کہ اگر بادشاہ قانون کے خلاف کام کرتا ہے تو ان کو بادشاہ کی نافرمانی کرنے کا حق ہے گولڈن بل کا موازنہ اکثر میگنا کارٹا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ بل ہنگری قوم کی پہلی آئینی دستاویز تھی جبکہ میگنا کارٹا انگلینڈ کا پہلا آئینی چارٹر تھا اسی طرح جدید یورپ کے ابتدا میں جب یورپ بادشاہت اور چرچ کے کنٹرول میں تھا اور مذہبی تعلیمات کی روشنی میں بادشاہ کی مرضی کو خدا کی مرضی قرار دیا جاتا تھا‘ انگریز فلاسفر سان لاک ایف آر ایس (1632-1704) اور ان کے بعد آنے والے جین جیکسن روسو‘ ڈیوڈ ہیوم اور ایمونیئل کانٹ جیسے فلاسفرز نے جہاں انسان کی شناخت ‘ شعور اور نفس کے جدید تصورات کو پروان چڑھایا وہاں پر ظالم حکمرانوں کے ظلم و تشدد کے خلاف انسان کے احتجاج کے حق کو بھی فروغ دیا عوام کے احتجاج کے حق کی وجہ سے پچھلی صدی میں کالونیاں آزاد ہوئیں۔نئے نئے ممالک معرض وجود میں آئے اور پاکستان نے بھی 1947ء میں آزادی حاصل کی۔نو آبادیاتی نظام اور جدید نو آبادیاتی نظام اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے دنیا بھر کے عوام اپنی نسلوں کو اور اپنی سرزمین کو عالمی سامراجیت اور استحصالی نظام سے پاک اور آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں اور انکے سرپرستوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ زمانہ نہ تو قدیم روم کا زمانہ ہے اور نہ ہی قرون وسطیٰ کا۔انسان نے احتجاج کا حق جو ہزاروں سال کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کیا ہے اس کو نہ تو سلب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تشدد کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے۔ پرامن احتجاج ایک متحرک اور روادار جمہوریت کا اہم حصہ ہے۔اگست 2022ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احتجاج کو تحفظ دو کی مہم کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں احتجاج کے حق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا ہے آج پاکستان کے حکمرانوں نے نہ صرف ایمنسٹی انٹرنیشنل بلکہ دنیا بھر میں اپنے پرتشددعمل کے ذریعے اپنا فسطائیت کا چہرہ بے نقاب کیا ہے جس کا انہیں کبھی نہ کبھی حساب دینا پڑے گا۔