اس وقت ملک میں ہزار مسئلے ہیں، مگر ریاست کے میزبانوں کو اس وقت ایک ہی تو مسئلہ نظر آرہا ہے اور وہ یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست کو کیسے ختم کیا جائے؟اس کے لیے ہر ہر کوشش کی جا رہی ہے، کبھی ریاستی تشدد کیا جا رہا ہے تو کبھی عدالتی کارروائیاں۔ ان دنوں میں شاید ہی کوئی دن گزرا ہو جب خان صاحب پر مقدمہ درج نہ کیا گیا ہو۔ کیا سمجھائیں کہ عوامی جذبوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور جس کے لیے جن جماعتوں اور ہرکاروں کا انتخاب ہوا ہے، وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ عوام کی آواز بھی کبھی دبی ہے؟ لیکن شاید ہمارے حکمرانوں کی ماضی میں رہنے کی عادت راسخ ہو چکی ہے۔ ’’سب ٹھیک ہے‘‘ کی رپورٹیں زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ آنکھیں بند کرنے سے کبھی حالات تبدیل نہیں ہوتے۔ آخری حد تک انہوں نے انتخابات کو رکوانے کی کوشش کی‘ اور اب بھی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ انتخابات ملک کے مسائل کا حل نہیں۔ اس پر کیا تبصرہ کریں، کیا کہیں؟ نوشتہ دیوار سے ڈر اتنا لگنا شروع ہو جائے کہ شاید تمنا یہ ہو جائے کہ جمہوریت نہیں‘ موروثی سیاست کو بچانے کا کوئی طریقہ تلاش کریں۔ آپ یقین مانیں تقریباً ایک سال ہونے کو ہے۔ اس دوران جو کچھ اس ملک‘ معاشرے اور معیشت کے ساتھ ہوا‘ ہماری تاریخ کے بدترین ادوار میں بھی کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ بہت سے بحران دیکھے‘ ملک کو دولخت ہوتے‘ آمروں کو آتے جاتے اور حکومتوں کو بنتے بگڑتے دیکھا لیکن جس انوکھے انداز میں تیرہ جماعتی اتحاد مسلط ہوا اور جس دھونس دھاندلی کے ساتھ وہ سب حکومت کررہے ہیں‘ شاید ہی اس کی کوئی مثال ملے۔ قوانین میں تبدیلیاں کرکے پرانے کھاتے ایسے بند کیے گئے کہ دنیا کا کوئی ماہر دھوبی اور طاقتور محلول بھی ایسی صفائی نہ کر سکے۔ اب تو نئے کھاتے کھول دیے گئے ہیں۔ چن چن کر ایسے لوگوں کو کمائو اداروں میں لگا دیا گیا ہے کہ سب کی دیہاڑیاں لگی رہیں۔ جو سن رہے ہیں‘ دیکھ رہے ہیں اور جو اپنا مشاہدہ ہے‘ منظم طریقے سے لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ اب تو کسی افسر کے خلاف آپ شکایت بھی نہیں کر سکتے۔ کریں گے تو آپ کا جو جائز کام انہوں نے بے جا روک رکھا ہے‘ سمجھیں کہ جوتوں کے کئی جوڑوں کے تلوے گھس جائیں گے مگر وہ کام نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ کوئی سرکاری خط موصول ہوجائے گا کہ انکوائری ہورہی ہے اور آپ کو مطلع کردیا جائے گا۔ مبادا آپ سوچ رہے ہوں کہ میں سنی سنائی باتیں ضبطِ تحریر میں لا رہا ہوں تو ایسا ہر گز نہیں۔ یہ جو نوے دنوں کے اندر صرف انتخابا ت کرانے کے لیے پنجاب میں آئے تھے‘ آتے ہی راتوں رات پورے صوبے کی نوکر شاہی تبدیل کردی۔ فہرستیں تو اوپر والوں نے پہلے ہی بنا رکھی تھیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ کون‘ کیوں اور کہاں فٹ ہو ا ہے۔ اتنا معلوم ہوا ہے کہ جائز سرکاری کاموں کے لیے بھی مٹھائی مقرر ہے اور بہت سی زبانیں اس کی حلاوت سے آشنا ہیں۔ ہر ضلع میں یہ سرکاری کاروبار کروڑوں میں ہر ماہ ہو رہا ہے۔ ہر محکمے میں نیچے سے لے کر اوپر تک حصے مقرر ہیں۔ یقینا یہ کوئی نئی بات نہیں مگر جس ڈھٹائی اور کھلم کھلا طریقے سے کرپشن کا بازار گزشتہ گیارہ ماہ سے گر م ہے‘ بزدار صاحب اور ان کے حواری شاید پچھتا رہے ہوں کہ وہ موقع سے صحیح فائدہ کیوں نہ اٹھا سکے۔خیر پنجاب کے اقتدار میں بھی اپنے ہی صحافی بھائی ہیں تو اُن سے شکوہ کیسا! لیکن اسی طرح کا ماحول وفاق میں بھی بنا ہوا ہے جہاں موسمِ اقتدار کے کچھ اندھے لیکن ہر طرف ہریالی کا پرچار کر رہے ہیں۔ پرچار بھی اس جوش و خروش سے کہ جیسے 22کروڑ لوگوں کو تو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ آپ اندازہ لگائیے‘ کیا آپ اس ایوان کو پارلیمان کہیں گے‘ جہاں سینکڑوں ارب کے ٹیکس کا بوجھ براہِ راست ملک کے شہریوں کو منتقل کیا جارہا ہو اور ان کے نمائندے بڑی ڈھٹائی سے ڈیسک بجائیں؟ 342ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی کے صرف 60لوگوں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔ جس کے بارے میں حبیب جالب نے بہت پہلے کہا تھا: پھول شاخوں پہ کھلنے لگے‘ تم کہو جام رِندوں کو ملنے لگے‘ تم کہو اس کھلے جھوٹ کو‘ ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا‘ میں نہیں جانتا بہرکیف یہ ہزار مسئلے ایک طرف مگر عمران خان کو پکڑ کر جیل میں ڈالنے، اُس کے ساتھ ضد پوری کرنے اور اُس کی سیاست ختم کرنے کا مسئلہ ایک طرف ہے۔ یعنی ایک طرف کپتان اور پاکستان کے عوام کی بھاری تعداد ہے اور دوسری طرف تیرہ روایتی جماعتیں اور ان کے حامی ہیں۔اور رہی بات ریاستی مشینری کی تو عملی طور پر اس وقت ساری ریاستی مشینری اپوزیشن کی صرف ایک جماعت کے خلاف جھونک دی گئی۔ جس کے لیڈر کو ہر روز نئی ایف آئی آر‘ نئی طلبی‘ نئے مقدمے کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ حکمرانوں نے جو نئی ایف آئی آ ر درج کی ہے اُس کے مطابق 3000سے زائد نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اب یہ لوگ اُس ایف آئی آر کے مطابق ہر اُس شخص کو ’’نامعلوم‘‘ گردان کر گرفتار کریں گے، جسے یہ جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم کرہ ارض پر پہلی ریاست ہیں جس کے منیجرز کی سوچ ہے کہ ملک میں اختلافی آوازیں‘ بے لاگ صحافت اور فنکشنل نظامِ قانون و انصاف قابو کرکے سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا کون سا منیجر ہے جو دنیا بھر میں بین البراعظمی کشکول لے کر گدائی کی صدائیں نہیں دے چکا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا‘ آپ نے دیکھ لیا۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ یہ توازن فطری ہو۔ اس کو مصنوعی سہاروں سے چلانے اور برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی تو یہ تضاد مزید بڑھے گا اور اس کا نقصان کسی ایک طرف محدود نہیں رہے گا۔ ملک اور ریاستی اداروں کا نقصان‘ جو پہلے بھی بہت ہو چکا‘ اس سے پرانی طرز کے عقلمندوں پر سے اعتبار اٹھ رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اعتبار کبھی بھی نہیں تھا‘ بس خاموشی کو عافیت گردانتے تھے۔ مگر اب اتنا کچھ دیکھنے کے بعد بھی عرض گزاری نہ کریں تو کیا کریں۔ہم ہر گزیہ نہیں کہتے کہ کپتان ہی ملک کا واحد لیڈر اور اس کی جماعت سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آنی ہے؟ ہماری روایت تو یہ ہے کہ انتخابات کا مقصد مثبت نتائج ہوتے ہیںجس سے ملک میں ہیجان‘ ابہام اور نظام کے بارے میں شکوک و شبہات ختم کرنے کے لیے سیاسی استحکام کا ماحول پیدا کرنا ہوتاہے۔ بھارت‘ برطانیہ‘ امریکہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ ملائیشیا‘ جنوبی کوریا‘ فلپائن‘ انڈونیشیا سمیت ساری دنیا کے جمہوری معاشروں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جہاں بھی ادھر بے یقینی پیدا ہوئی‘ اْدھر قوم کو نئی لیڈر شپ منتخب کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان ملکوں میں حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دینا اور قوم کو نئے مواقع کی راہ دینا کوئی احسان نہیں بلکہ روٹین کا کام ہے۔یعنی انتخابات ناگزیر ہیں اور فیصلہ آئین اور جمہوریت کے مطابق ہو تو ملک میں طاقت کا توازن شاید ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو جائے۔ یہ ہر گزنہ سوچا جائے کہ عمران خان کی سیاست کو کیسے ختم کرنا ہے!بلکہ یہ سوچا ہے کہ اسی طرح کی عوامی سیاست کو آگے لے کر کیسے چلنا ہے!