BN

ن لیگ پر پانی چوری کا الزام: قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ،چور چور کے نعرے ، فیصل واوڈا، شاہد خاقان میں تلخ کلامی

جمعرات 08 نومبر 2018ء





اسلام آباد(سپیشل رپورٹر، اے پی پی) وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کی پچھلی حکومت پر سندھ کا پانی چوری کرنے کے الزام پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ ہو گیا، ایوان میں چور چور کے نعرے لگائے گئے ، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ فیصل واوڈا اورشاہد خاقان عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،اجلاس میں سندھ کو پانی کا جائز حصہ نہ ملنے سے متعلق پیپلز پارٹی کے توجہ دلاؤ نوٹس پر فیصل واوڈا نے سندھ کے پانی کی چوری کا ذمہ دار پچھلی نواز شریف حکومت کو قرار دیا۔ فیصل واوڈا نے کہاکہ ماضی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دوسرے صوبے کے حق پر ڈاکہ ڈالا اور ان کا پانی چوری کیا، انہوں نے مالی چوری کے ساتھ ساتھ پانی کی حصے داری میں بھی چوری کی، ایوان کو بتانا چاہتا ہوں گزشتہ دور میں کی گئی پانی چوری پکڑ چکا ہوں، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو حل کروں گا اور معاملے پر سندھ حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلوں گا، پیپلزپارٹی کے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ وزیر آبی وسائل کی باتوں کو سراہتے ہیں۔فیصل واوڈا کے الزام پر مسلم لیگ(ن) کے شاہد خاقان عباسی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر آبی وسائل نے الزام لگایا سندھ اور بلوچستان کا پانی چوری کر کے پنجاب کو دیا گیا ان الزامات پر ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے یا معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے ، پھر معلوم کریں کہ کس کے احکامات پر سندھ اور بلوچستان کا پانی چوری کر کے پنجاب کو دیا گیا۔ جواب میں فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اس ایشو پر کمیٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں، شاہد خاقان عباسی کے دور میں بھی صوبوں کا پانی چوری کیا گیا اور چور کہنے پر اب ن لیگ والے آپے سے باہر ہورہے ہیں،آپ کے خلاف غیر پارلیمانی ایکشن بھی ہوں گے اور ہم کر کے دکھائیں گے ۔آپ کے ساتھ اب کسی چوری کسی ڈاکے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر مجھے چور کہیں گے تو میں آپ کو اور آپ کے والد کو چور کہوں گا۔جو ایک لفظ بولے گا وہ دس الفاظ سنے گا۔اس پرفیصل واوڈا نے کہا کہ آپ کی پرورش ہو گی کہ آپ میرے والد کو چور کہیں گے مگر میں جواب میں ایسا کچھ نہیں کہوں گا۔میں شاہد خاقان عباسی کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں مجرم نہیں یا میں کٹہرے میں نہیں کھڑا۔میاں نواز شریف ،ان کی بیٹی مریم نواز ،داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور سمدھی اسحاق ڈار یار تو مفرور ہیں اور عدالت کے کٹہرے میں ہیں ۔ رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ وزرا ملکی مسائل پر بات کرنے کی بجائے ایوان میں شور شرابہ کرتے ہیں، وزرا ابہام پیدا کرنے کیلئے ڈاکو کا شور کر رہے ہیں۔ ان کو شرم کرنی چاہئے ، اگر نہیں کی تو پھر ہم بھی نہیں کریں گے ، حکومتی بنچز پر وزرا کو جعلی مینڈیٹ کے ذریعے بٹھایا گیا ہے ،شہباز شریف کی طرف سے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا گیا لیکن جواب نہیں آیا، یہ الزام تو لگاتے ہیں مگر عدالت میں پیش نہیں ہوتے ۔ بار بار عدالت کے بلانے پر بھی عمران خان پیش نہیں ہوئے ،سب سے بڑے ڈاکو کہلانے والے کو سپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا گیا، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جو تنخواہ نہیں لی اس پر انہیں سزا دی گئی۔جبکہ اس وقت تحریک انصاف کے بابر اعوان، پرویز الٰہی، علیم خان پر نیب کے مقدمات ہیں انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ رانا ثناء اﷲ نے مزید کہا کہ یہاں پر بعض وزرا ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں ریحام خان نے اپنی کتاب میں تحریر کیاہے ۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے رانا ثناء اﷲ کے الفاظ تقریر میں سے حذف کر دئیے ۔وزیر مملکت مواصلات مرادسعید نے کہاکہ کوئی جتنا بھی شور مچائے ،سرٹیفائیڈ چور ڈکیت کون ہے سب کو پتہ ہے ، جنہوں نے پاکستان کولوٹا ان کا احتساب ہوگا، روک سکوتوروک لو، کسی میں دم خم ہے تو کل قرارداد لاتا ہوں،ملک کو لوٹنے والوں کو ڈی چو ک میں لٹکایا جائیگا ۔اپوزیشن ارکان کے تمام سوالوں کے جواب دیں گے ۔ میری تربیت ایسی نہیں کہ گالی کا جواب گالی سے دوں ،پنجاب کی 56کمپنیوں کا سکینڈل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل بن چکا ہے ۔جے یوآئی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت آسیہ مسیح کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرے ۔وزیر مملکت ہائوسنگ شبیر علی نے بتایا کہ 1992ء سے اب تک فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کی شروع کردہ تمام ہائوسنگ سکیموں کے اراکین کی جانب سے جمع کردہ رقوم پر 2 ارب 62 کروڑ 22 لاکھ 94 ہزار روپے سے زائد منافع کی مد میں حاصل ہوئے ۔ وزارت صنعت و پیداوار نے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی تفصیلات پیش کردیں۔اجلاس آج شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ 

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں