سندھ: مساجد میں نماز عید سمیت مذہبی اجتماعات کی اجازت؛ پنجاب : اوقاف کے زیرانتظام 544 مزارات کھولنے کا فیصلہ

جمعرات 21 مئی 2020ء





کراچی( سٹاف رپورٹر ،نیٹ نیوز ،ایجنسیاں ) دینی جماعتوں اورمذہبی حلقوں کے شدید دباؤ کے بعدحکومت سندھ نے شبقدر،جمعۃ المبارک اورعیدالفطرکی نمازکے لیے وفاقی حکومت کے 20 نکات کے تحت اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے محکمہ داخلہ سندھ کے قواعد وضوابط میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزرا سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی،وزیراعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کی عبادات کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے بیس نکات پر عمل کیاجائے گا اور شب قدر کی عبادات کی بھی اجازت ہوگی اور جمعہ کی نماز اورعید کی نماز کے اجتماعات بھی ہوں گے ۔ وزیر اطلاعات و مذہبی امور ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ اجتماعات اور عبادات میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ ہمیں ٹائیگر فورس کے نام پر اعتراض ہے ، ٹائیگر فورس نے کرنا کچھ نہیں بس باتیں بناتے ہیں،گورنرراج کے حوالے سے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ ان کی پرانی خواہش ہے ، میئر کراچی کو ہٹانے یا معطل کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں،میئر اسلام آباد کو ہٹانے پر تشویش ہے ۔سعید غنی نے کہا کہ نماز عید کے لیے کھلے میدان پارکس کی نشاندہی کی جائے گی،اگر نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوگی تو ایک ہی جگہ ایک سے زائد مرتبہ نماز ہوگی۔ بازاروں میں لاپروائی کی جارہی ہے اور بڑے پیمانے پر مجمع لگانے کی اجازت مل گئی ہے اس لئے اب درست نہیں ہوگا کہ عید اور مساجد میں نماز پر پابندی لگائی جائے ۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ صوبے کے ایک اور مسئلے پر وفاق نے غیر قانونی کام کیا ہے اور ارسا میں صوبے کی مشاورت کے بغیر ممبر کا ردوبدل کردیا ہے ، سندھ حکومت وفاق کو خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کرے گی اور تحفظات دور نہ کیے گئے تو عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔دوسری طرف حکومت سندھ نے جمعہ کولاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تاجروں کے مطالبہ پرمارکیٹوں کا وقت بڑھانے پرآمادگی کا اظہارکردیا ہے ،حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹوں کے اوقات بڑھانے کے لیے سندھ حکومت وفاقی حکومت کے فیصلے کی منتظر ہے ۔ اس ضمن میں چیف سیکر ٹری سندھ وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اورانہوں نے اپنی رپورٹ وزیراعلی ٰ کوپیش کردی ہے ۔ لاہور(نمائندہ خصوصی سے ،خصوصی نمائندہ )پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر نے محکمہ اوقاف کے زیر انتظام 544مزارات کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ، یہ فیصلہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس میں جمعۃ الوداع، شب قدر، یوم القدس اور عیدالفطر کے موقع پرکورونا ایس او پیز اور سکیورٹی انتظامات سمیت حساس اداروں کو دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کی موصولہ اطلاعات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر محنت انصر مجید خان اور وزیر کھیل وسیاحت تیمور احمد خان نے بھی شرکت کی جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا، آئی جی پنجاب شعیب دستگیر، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ اور دیگر افسران نے بریفنگ دی، صوبہ بھر کے ڈویژنل کمشنرز اور پولیس افسران کو ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ میں بتایا گیا کہ عید اور دیگر ایام کے حوالے سے سکیورٹی اور کورونا لاک ڈاؤن کے ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے موثر پلان ترتیب دیے گئے ہیں۔راجہ بشارت نے ہدایت کی کہ جب تک نئے ایس او پیز نہیں آتے اس وقت تک مارکیٹس اور مساجد میں موجودہ ایس او پیز بالخصوص مقررہ اوقات کی سخت پابندی کرائی جائے ، چاند رات کوپبلک مقامات اور رہائشی علاقوں میں سٹریٹ کرائم پر کڑی نظر رکھی جائے اور سکیورٹی ادارے ممکنہ تخریبی کارروائیاں ناکام بنائیں،دربار کھولنے کیلئے حکومتی ہدایات پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔ انہوں نے راولپنڈی انتظامیہ کو تاکید کی کہ عید کی تعطیلات کے دوران مری جانے والے سیاحوں پر ایس او پیز کا اطلاق یقینی بنایا جائے ۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں