لاہور(نمائندہ خصوصی سے )حضرت سید علی بن عثمان الہجویری ؒ المعروف حضرتداتا گنج بخش ؒ کے 976ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات رات گئے خصوصی ختم شریف(ختم الانبیا، ختم غوثیہ، ختم خواجگان) اور درود و سلام سے اختتام پذیر ہو گئیں۔ خطیب جامع مسجد داتا دربار مولانا مفتی محمد رمضان سیالوی نے اختتامی دعا کرائی جس میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ، ہزاروں کی تعد اد میں شریک فرزندان اسلام نے نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ، اہل بیعت ؑ، شہیدان کربلا ؑ اور حضرت داتا گنج بخش ؒ کو وسیلہ بنا کراﷲ تعالی کے حضور اپنے گناہوں کی معافی طلب کر، آئندہ برائیوں سے باز رہنے کا وعدہ کرتے ہوئے اﷲ تعالی سے گڑ گڑا کر انہیں سیدھے راستے پر چلانے ، ملک و ملت کی سلامتی، سر بلندی، اس کی نظریاتی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ، ملک و قوم کی جان دہشتگردی ، فرقہ واریت سے چھڑانے کی بابت دعا کی ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے ،کشمیریوں کی بھارتی مظالم، مصائب، مسائل سے نجات اور آزادی کیلئے خصوصی دعا کی بھی کی گئی ۔رات گئے 2بجے شروع ہونیوالی دعا تقریباً آدھ گھنٹہ سے زائد دیر تک جاری رہی۔ عرس کے آخری روز قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے پہلے دو روز سے زیادہ سخت حفاظتی انتظامات کئے جانے کے باوجود داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضری دینے والوں کا رش زیادہ دکھائی دیا۔اختتامی دعا میں متعدد اراکین اسمبلی،عدلیہ سے وابستہ شخصیات اور امور مذہبیہ کمیٹی داتا دربارکے ذمہ داروں کیساتھ اوقاف حکام بھی شریک ہوئے جبکہ نماز فجر کی با جماعت ادائیگی کے بعد بیرون شہر سے آئے ہوئے زائرین نے واپسی کیلئے رخت سفر باندھ لیا۔3 دنوں میں مجموعی طور لاکھوں عقیدت مندوں نے حضرت داتا گنج بخش ؒ کی چوکھٹ پر حاضری دی، منتیں مانگیں، پوری ہونے والی منتیں اتاریں، مسلسل72 گھنٹے زائرین ڈھولوں کی تھاپ پر دیوانہ وار دھمال ڈالتے چادریں چڑھانے کیلئے دربار کا رخ کئے ہوئے دکھائی دئیے جبکہ مخیر حضرات کی جانب سے لنگر کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہا۔ عرس کے آخری روز روحانی محافل میں مجموعی طور پر240 جید شخصیات نے شرکت کی جن میں30آستانوں کے سجادہ نشین،مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی105 شخصیات،علماء مشائخ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ صبح 8بجے سے دوپہر 1 بجکر15منٹ تک جاری رہنے والی نشست کی صدارت پروفیسر سید مظہر سعید کاظمی سجادہ نشین درگاہ حضرت غزالئی زماں ملتان نے کی۔ نماز ظہر سے نماز عصر تک جاری رہنے والی نشست کی صدارت دیوان سید آل حبیب علی خان، سجادہ نشین اجمیر شریف انڈیانے کی جبکہ دیوان احمد مسعود چشتی ولی عہد سجادہ نشین درگاہ عالیہ پاکپتن شریف نے مہمان معظم کے طور پر شرکت کی ۔پیر محمد نقیب الرحمٰن نقشبندی، سجادہ نشین عید گاہ شریف راولپنڈی کی زیر صدارت تیسری نشست نماز عصر سے نماز مغرب تک ہوئی جس میں صاحبزادہ سید حسام القیوم سجادہ نشین بھلیر شریف، پیر سید عارف حسین شاہ بخاری آستانہ پیر بخاری نارنگ شریف سمیت37 علماء مشائخ،شخصیات نے بطور مہمانان گرامی شرکت کی۔ نماز مغرب سے نماز عشا ء تک چوتھی اور آخری نشست کی صدارت پیر محمد کبیر علی شاہ ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ چورہ شریف کے حصے میں آئی ۔ چاروں روحانی نشستوں میں جامع مسجد داتا دربار کھچا کھچ بھری رہی، اور مسجد کے اندر تل دھرنے کی گنجائش دکھائی نہ دی۔روحانی محافل کے اختتام پر’’ختم الانبیائ، ختم غوثیہ، ختم خواجگان، اور درودوسلام‘‘ کی محفل ہو ئیجس میں صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ سید سعیدالحسن شاہ ،سیکرٹری اعجاز احمد، ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ، ایڈمنسٹریٹر سکندر ذوالقرنین کھچی،ایگزیکٹو ایڈیٹر بابر سلطان گوندل، منیجرز شیخ جمیل ،طاہر مقصود،نعمان سیفی ، شفقت عباس و دیگر بھی موجود تھے ۔مقررین سنی تحریک کے مر کزی رہنما محمد شاداب رضا اور دیگرنے روحانی اجتماعات سے خطاب اور کیمپ آفسز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ اور دھرنا غیر سیاسی اور بھارتی ایجنڈے کی تکمیل ہے ۔کشمیر کے بغیر پاکستان کی آزادی نا مکمل ہے ۔معاشرے سے برائی اورجرائم کو ختم کرنے کیلئے نوجوان میں بزرگان دین کی تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اس موقع پر درگاہ حضرت سلطان باہو کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر خالد سلطان ،محمد زاہد حبیب قادری،علامہ شریف الدین قذافی،غلامی محی الدین،افتخار احمد خان ،محمد نعمان شاکر،شیخ محمد نواز و دیگر بھی موجود تھے ۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مرکزی رہنما خطیب ختم نبوت مولانا محبوب الحسن طاہر، اور مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم نے بھی خطاب کیا۔علاوہ ازیں 3روزہ سالانہ قومی محفل نعت بھی ختم ہو گئی، آخری روز محفل نعت کی صدارت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی زیب آستانہ عالیہ علی پور شریف نے کی،آغاز قاری سید صداقت علی نے تلاوت کلا م پاک سے کیا۔ قاری نعمت رشید، صاحبزادہ قاری محمد اکرم فیضی، نور محمد نے بھی تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ قومی محفل نعت میں پروفیسر عبد الرئوف روفی، سید زبیب مسعود قادری، سید ریاض شاہ پارٹی،محمدعمر چشتی پارٹی، بشیر پارٹی، میاں غلام محمد پارٹی نے بھی اپنی حاضری لگوائی اور نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کیا۔جس پر وہاں موجود شرکاء عش عش کر اٹھے ۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم نے وفد کے ہمراہ مزار پر انوار حضرت سید علی بن عثمان الہجویری ؒ پر حاضری دی، ملک و قوم ، کشمیریوں کے علاوہ اخباری صنعت سے وابستہ کارکنوں کیلئے بھی دعا کی ۔ رانا عظیم نے پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکرٹری محمد اشرف مجید، ممبر گورننگ باڈی شاہد چوہدری ، اور ایگزیکٹو ممبر پی یو جے فاروق جوہری کے ہمراہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے ۔ملک و ملت کی سلامتی، ترقی کیلئے بھی دعا کی ۔ انہوں نے ’’92‘‘ نیوز گروپ آف میڈیا کے سربراہان اور ادارے کی انتظامیہ کیساتھ ساتھ ادارے میں کام کرنے والے تمام ملازمین کیلئے بھی دعا کی ۔