معزز قارئین!۔ لاہور میں میرے والدین اور بڑی بیگم اختر بانو چوہان کی قبریں ہیں اور اسلام آباد میں چھوٹی بیگم نجمہ اثر چوہان کی ۔ اِس لحاظ سے مَیں سالہا سال سے لاہور میں حضرت داتا گنج بخش سیّد علی ہجویریؒ اور اسلام آباد میں سیّد شاہ عبداُللطیف کاظمی ، قادریؒ کی کفالت میں زندگی بسر کر رہا ہُوں ۔ تین روز پہلے مَیں نے اپنی بیٹی عاصمہ ، اُس کے شوہر معظم ریاض چودھری اور بیٹے علی امام کے ساتھ اسلام آباد میں سیکٹر "H-8" کے قبرستان میں نجمہ اثر چوہان کی قبر پر حاضری دِی تو، اِسی قبرستان میں ’’ آسودۂ خاک ‘‘ تحریک پاکستان کے نامور مجاہد ’’فاتح سلہٹ ‘‘ اور حکومت پاکستان کے تاحیات وفاقی وزیر جناب محمود علی اور نامور شاعر جناب احمد فراز کی قبروں پر بھی۔ دونوں شخصیات سے میرا تعلقِ خاطر رہا ہے ۔ "Domicile" 1986ء سے میرا ایک گھر اسلام آباد میں تھا ۔ میرے دو دوستوں "C.D.A" کے سیکرٹری سیّد علی تجمل واسطی اور ’’پاکستان کلچرل فورم ‘‘ کے چیئرمین برادرِ عزیز ظفر بختاوری نے باری باری ، اپنی اپنی والدۂ محترمہ کو "H-8" اسلام آباد کے قبرستان میں سپرد ِ خاک کِیا تو، 29 نومبر 2000ء کوروزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں میرے کالم کا عنوان تھا۔ "Domicile" ۔ مَیں نے لکھا تھا کہ ’’ اگرچہ ’’ڈومیسائل ‘‘ کا مفہوم ہے ’’ قیام ، اقامت ، توطن اور جائے بُودو باش‘‘ لیکن، میرے نزدیک ’’ڈومیسائل ‘‘کے سلسلے میں تو، کسی ضلع / شہر کے قبرستان کا حوالہ دینا چاہیے جہاں کوئی اِنسان دفن ہو ‘‘۔ سابق صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء اُلحق مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہُوئے تھے ، ہجرت کے بعد اُنہوں نے پشاور کا ’’ ڈومیسائل‘‘ بنوا لِیا۔ پھر وہ اپنے ’’ڈومیسائل‘‘ کے ساتھ اسلام آباد میں دفن ہوگئے۔ اِسی طرح علاّمہ اقبالؒ سیالکوٹ میں پیدا ہُوئے لیکن ، اُن کا ’’ حقیقی ڈومیسائل تو ، بادشاہی مسجد کے قریب لاہور تھا ۔میری والدہ صاحبہ 70 سال کی عمر میں 3 دسمبر 1991ء کو خالق حقیقی سے جا ملی تھیں۔ اُنہیں لاہور میں دفن کِیا گیا ۔ دراصل اُن کا ’’ڈومیسائل ‘‘ لاہور کا تھا ۔ مَیں نے لکھا تھا کہ ’’ دُنیوی زندگی میں اِنسان اپنے باپ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے اور اُسے فلاں ؔابنِ فلاں ؔکہا جاتا ہے لیکن ، دوسری دُنیا میں ماں کا نام چلے گا، حضرت مریم علیہ السلام کی طرح ۔1915ء میں علاّمہ اقبالؒ نے ’’ والدۂ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ نظم لکھی تھی ۔ مَیں نے بھی اپنی والدہ صاحبہ کی وفات پر نظم لکھی ۔ پاکستان سمیت دُنیا بھر میں ہر سال 10 مئی کو "Mother's Day" ( ماں ، مادر ، والدہ کا دِن) منایا جاتا ہے لیکن، در حقیقت پاکستان سمیت تمام ’’ دیسی‘‘ ملکوں میں تو، ہر روز ہی ’’ماں ، مادر ، والدہ کا دِن ‘‘ منایا جاتا ہے اور "Father`s Day" بھی ۔ اِنسانوں کے رہنے کی جگہ کو وطن کہا جاتا ہے اور احترام کے طور پر ’’ مادرِ وطن‘‘ اور انگریزی میں "Motherland" ۔ مَیں 1988ء میں بلغاریہ کے 15 روزہ دورے پر تھا تو ،مجھے پتہ چلا کہ وہاں ایک سیاسی جماعت کا نام ہے۔ "Fatherland Front" (اب بھی ہے) ۔ علاّمہ اقبالؒ نے ’’ مادرِ وطن ‘‘ سے زیادہ ’’ مادرِ گیتی‘‘ ( ہندی میں دھرتی ماں) کا درجہ دِیا ہے ۔ اُن کی نظم ’’ گورستان ِ شاہی‘‘ کا ایک شعر ہے کہ … ہے نگینِ د ہرکی زینت ، ہمیشہ نامِ نو! مادرِ گیتی رہی ، آبستن، اقوام ِ نو! یعنی۔ ’’ زمانے کا نگینہ ؔ ، ہر وقت نئے نام سے زینت پاتا ہے اور جہان کی ماں نئی نئی قومیں جنتی رہی ہے‘‘۔ معزز قارئین!۔ قیام پاکستان سے قبل ہم پاکستانیوں کی مادرِ وطن ہندوستان تھی ۔ 1947ء کے بعد پاکستان ہی ہماری ’’ مادرِ وطن ‘‘ ہے ۔1992ء سے میرے دوست ، سابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات ،نشریات و صحت (92 میڈیا گروپ کے ایڈوائزر) سیّد انور محمود اپنے دوستوں سے اکثر کہا کرتے تھے / ہیں کہ ’’ مَیں نے پاکستان کے لئے دو بار ہجرت کی ہے ۔ پہلی بار بھارت کے صوبہ بہار سے ڈھاکہ تک ، اپنے والدین کے ساتھ ، جب مَیں 6 ماہ کا تھا اور دوسری بار دسمبر 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد ڈھاکہ سے کراچی تک‘‘۔ "Food For Thought" ریٹائرمنٹ کے بعد سیّد انور محمود گذشتہ 12 سال سے یکم رمضان اُلمبارک کو دوست ،احباب کے اعزاز میں ’’دعوتِ افطار و گفتار ‘‘ سجاتے ہیں ۔ موصوف اِس شاہ ؔخرچی کے اِس لئے متحمل ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اُنہوں نے ’’ ملٹی نیشنل کمپنیوں ‘‘ کے مسائل حل کرنے کے لئے "Consulting and Advocacy" کا ادارہ قائم کر رکھا ہے ۔یکم رمضان (8 مئی 2019ئ) کو مَیں بھی اسلام آباد میں اُس محفل میں تھا ۔ کئی دوستوں سے ملاقاتیں ہُوئیں ۔ اردو اور پنجابی کی نامور شاعرہ و ادیبہ بیگم نیئر انور محمود سے بھی جو ، میری بہن / بھابھی ہیں ۔ بیگم نیئر محمودنے سیّد انور محمود صاحب کے سماجی ، ثقافتی ، علمی و ادبی پروگراموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کِیا ہے ۔ ’’امام ؑضامن کی یاد میں !‘‘ اِس بار سیّد انور محمود صاحب نے مجھے ، میری بیٹی عاصمہ ، داماد معظم ریاض چودھری اور نواسے علی امام سمیت عصرانے پر اپنے گھر مدّعو کِیا۔بھابھی نیئر محمود صاحبہ نے عاصمہ اور اُس کے بیٹے علی امام پر شفقت کے پھول نچھاور کئے اور معظم ریاض چودھری کو ڈھیر سارا آشیر باد دِیا۔ دوران گفتگو مجھے پتہ چلا کہ ’’ بھابھی صاحبہ کی ’’خود نوشت ‘‘(Autobiography) تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اردو شاعری کا انتخاب بھی ‘‘۔ مَیں نے بھابھی صاحبہ کو اُن کی پنجابی شاعری کے انتخاب کی "Proofreading" کی پیشکش کی تو ، وہ مان گئیں۔ سیّد انور محمود اور بھابھی نیئر محمود نے میرے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی شادی میں شرکت کی ۔ جنوری 1999ء میں میرے بڑے بیٹے ذوالفقار علی چوہان کی شادی میں اسلام آباد سے باہر باراتی بن کر گئے۔ بارات کی روانگی سے پہلے بھابھی نیئر محمود صاحبہ نے مجھ سے پوچھا کہ اثر چوہان بھائی!۔ کیا آپ کے ہاں دُولھا کو امامؑ ضامن باندھنے کا رواج ہے ؟‘‘ ۔مَیں نے کہا کہ ’’ جی نہیں؟‘‘ تو، اُنہوں نے کہا کہ ’’ مَیں تو امام ؑضامن اپنے ساتھ لائی ہُوں؟‘‘۔ مَیں نے کہا کہ ’’ آپ شوق سے باندھ دیں‘‘۔ معزز قارئین!۔جب میرے بیٹے کے بازو پر امام ؑضامن باندھا جا رہا تھا تو، میری دونوں بیگمات کی آنکھوں میں خُوشی کے آنسو آگئے اور مجھے اپنی مرحومہ والدہ صاحبہ یاد آگئیں ۔ گذشتہ دِنوں معظم ریاض کے تایا ابو ، میرے دوست ، تحریک ِ پاکستان کے سرگرم کارکن اور ریٹائرڈ ایس۔ ایس۔ پی ۔چودھری غلام حیدر اقبال ؔ(جن سے مَیں نے بہت کچھ سیکھا) کی اہلیہ محترمہ نذیر بیگم کا انتقال ہُوا تو ، مَیں بھی نقاہت کے باعث دیر سے پہنچا ۔ مرحوم اور مرحومہ کے تینوں بیٹوں کرنل (ر) وقار حیدر اور ماہرین تعلیمات ذوالفقار حیدر اور جواد حیدر سے میرے خوشگوار تعلقات ہیں ۔ مَیں نے اُن سے ٹیلی فون پر تعزیت کرلی تھی ۔مرحوم اور مرحومہ کی چاروں بیٹیاں، ثمینہ حیدر، شیریں حیدر، لبنیٰ حیدر اور اسماء حیدر ماہرینِ تعلیمات ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ اور کالم نویس شیریں حیدر نے اپنے والدِ مرحوم کی علمی و ادبی وراثت سے زیادہ حصّہ حاصل کِیا ہے ۔ مَیں اُن سے ملا اور اُن کے شوہر ( پھوپھی زاد ) میجر جنرل مختار احمد سے بھی ، جنہوں نے 1995ء سے 1999ء تک پاکستان ہائی کمشن برطانیہ میں "Defence Attache" کی حیثیت سے برطانیہ کے بہت سے ’’ فرزندان و دُخترانِ پاکستان‘‘ کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کِیا ۔ مَیں نے اسماء حیدر اور اُن کے شوہر چودھری تنویر شہزاد کو بھی بالمشافہ پُرسا دِیا۔ مرحوم چودھری غلام حیدر اقبال اور اُن کی اہلیہ محترمہ نذیر بیگم کی قبریں ضلع گجرات میں اُن کے آبائی گائوں موضع ’’بھدر ‘‘ میں ہیں ۔ تین دِن قبل میرے سمبندھی چودھری محمد ریاض اختر اپنی اہلیہ سے کہہ رہے تھے کہ ’’ مَیں 42 سال سے اِسلام آباد میں سرگرم عمل ہُوں ۔ مَیں تو اسلام آباد ہی میں دفن ہونے کو ترجیح دوں گا ‘‘۔ یعنی چودھری صاحب چاہتے ہیں کہ ’’ اُن کا "Domicile" اسلام آباد کا ہو‘‘۔ میری بھی یہی خواہش ہے ۔ بھلا اتنے بڑے قبرستان میں میری اہلیہ اکیلی کیوں رہیں ؟۔