وزیر اعظم آفس نے حالیہ تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ کی عدم فراہمی پر 27وزارتوں کو سرخ خط جاری کرکے 9ستمبر کو آخری تاریخ دے دی ہے۔ سرکاری خط و کتابت میں سرخ خط آخری وارننگ اور ناپسندیدگی کی علامت ہوتا ہے جس سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ محکمے میں دلجمعی سے کام نہیں ہو رہا یاپھر بیورو کریسی سرکاری امور چلانے میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ حکومت کا کام ٹیکس اکٹھا کرنا یا بیرون ممالک سے رابطے بڑھانا ہی نہیں ہوتا بلکہ داخلی امور کو بھی احسن انداز سے چلانا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم آفس نے 27وزارتوں کو متعدد بار خطوط ارسال کئے کہ وہ خالی آسامیوں اور بھرتیوں کے متعلق تفصیلات فراہم کریں، اس کے علاوہ ملازمین کی ترقیوں اور انضباطی کارروائیوں کے متعلق بھی آگاہ کریں لیکن 27وزارتوں کی بیورو کریسی نے سرے سے کوئی جواب ہی نہیں دیا جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ ان سب نے ایکا کر کے حکومت کو ناکام کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم آفس نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار تو کر دیا ہے لیکن صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ سرکاری امور نہ نمٹانے والے بابوئوں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کرنی چاہیے۔ تاکہ آئندہ کوئی افسر ایسے فعل کا ارتکاب نہ کرے یہ سلسلہ صرف 27وزارتوں میں ہی نہیں بلکہ اکثر سرکاری محکموں میں ایسا ہی ہے۔ اس لئے وزیر اعظم جب تک بیورو کریسی کے عوام کے ساتھ رویے کو درست نہیں کرینگے تب تک مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے، اس لئے بیورو کریسی کو ٹھیک کریں جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔