سب جانتے ہیں ، نہیں جانتے، تو جان جانا چاہیے کہ 2019ء میرزا اسداللہ خاں غالب کی وفات کا ۱۵۰ واں سال اور گزشتہ روز یعنی 27دسمبر کو اسی میرزا نوشہ کی ۲۲۲ ویں سالگرہ تھی۔ آئیے آج اسی اہم موقع پہ اپنے میرزا کی چند انوکھی ادائیں یاد کرتے ہیں۔ اٹھارھویں صدی اپنی کم مائیگی اور بانجھ پن کے احساس سے نڈھال آخری ہچکولے لے رہی تھی کہ اس کے ضعیف بطن سے خوابوں اور تعبیروں کی سرزمین آگرہ میں ایک ایسے انوکھے بچے نے جنم لیا جو اپنی عمر کی پون صدی کا لمحہ لمحہ وقت، زمانے اور حالات کے ہاتھوں مغلوب رہنے کے باوجود ’’غالب‘‘ بنارہا۔روایتی دانائوں کا خیال ہے کہ مالی پسماندگی رفتہ رفتہ ذہنی پستی کا سبب بن جاتی ہے۔ بڑے بڑے لوگ ان حالات میں کاسہ لیسی اور چاپلوسی پر اتر آتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسمپرسی میں تو بڑے بڑے سورمائوں کے دُم اُگ آتی ہے۔ یہ شخص عمر بھر پائی پائی کو ترستا رہا مگر زمانے کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا اور رفعتِ تخیل میں روز بروز غالب تر ہوتا چلا گیا۔ روایتی انداز میں گلیوں میں کنچے کھیلنے، چھتوں پر کبوتر اڑانے اور نوعمری میں سہرے باندھنے والے اس نوجوان پر خدا جانے کیا بپتا پڑی کہ آنے والے وقت میں روایت کا سب سے بڑا باغی قرار پایا۔ یہ اتنی کم عمری میں دلھا بن گیا تھا کہ لوگوں کو یقین دلانے کے لیے اس کا باقاعدہ نام میرزا نوشہ رکھنا پڑا۔ امراء کی بیٹی امرائو بیگم اور شہنشاہوں کی اولاد اُردو بیگم سے بیک وقت عقد باندھا مگر عمر بھر اکھ مٹکا ایک ستم پیشہ ڈومنی نواب جان اور فارسی زبان سے چلتا رہا۔ کیسا عجیب شخص ہے کہ گھر میں کھانے کو روٹی نہیں ہے، بچے پہ بچہ مرے جارہا ہے۔ چھوٹا بھائی پاگل ہوچکا ہے، عزیز از جان لَے پالک جوانی میں چل بسا ہے، یتیم بچوں کی پرورش سر پر آن پڑی ہے۔ دہلی کے لوگ شاعر ماننے کوتیار نہیں۔ استادِ شہ خاطر میں نہیں لاتا۔ کوتوالِ شہر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ مشکل شاعری کے شکوے چین نہیں لینے دیتے، ناقدریِ زمانہ الگ ہے، غدر کے مسائل اس پر مستزاد ہیں مگر یہ ہے کہ چیں بہ جبیں ہونے کے بجائے جا بہ جا خندہ زنی پہ مصر ہے۔ جس بات پہ آنسو نکلنے چاہییں وہاں قہقہے کی آواز سنائی دیتی ہے۔لوگ خطوط میں گالیاں لکھ کر بھیجتے ہیں تو آزردہ خاطر ہونے کی بجائے ان کی کم علمی پہ مسکرا کر ان کے علم میں اضافہ کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ: ’’احمقوں کو اتنی خبر بھی نہیں کہ لڑکے کو ہمیشہ ماں کی، جوان کو بہن کی اور بوڑھے کو بیٹی کی گالی دی جاتی ہے۔‘‘ خود عمر بھر احساس کی اسی سولی پہ لٹکتا رہا اور سولی پہ برابر پھبتیاں کستا رہا۔ گئے گزرے حالات میں بھی دہلی کالج میں پڑھانے کی نوکری محض اسی وجہ سے چھوڑ کے آگیا کہ پرنسپل دروازے پہ لینے نہیں آیا۔ بلکہ اس کی خود سری تو یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ خانۂ خدا تک پہ دستک دینے کو تیار نہیں: الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا انا کا یہ گھمنڈ کہیں بھی چین نہیں لینے پاتا۔ خدا سے لے کر خلقِ خدا تک کو ایک ہی جیسے شریر جملوں سے نمٹاتا چلا جاتا ہے۔ اس حیوان ظریف کا ذوق لطیف اسے کہیں بھی نچلا نہیں بیٹھنے دیتا۔ عام لوگوں کی طرح زندہ رہنا تو کجا، وہ تو روایتی انداز میں مرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ تندرستی کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت مانتا ہے مگر اس نعمت کو گلے لگانے کے لیے محض اس وجہ سے تیار نہیں کہ کہیں دوا کا احسان مند نہ ہونا پڑ جائے۔ اس کو تو چھینک بھی آجائے تو علاج کے لیے ابن مریم سے ادھر کی بات ہی نہیں کرتا۔ لوگ آج تک فرہاد کی تیشہ زنی اور عشقیہ موت کے قصیدے پڑھتے آئے تھے مگر یہ اس کی عظمت تسلیم کرنے سے صرف اس لیے انکاری ہے کہ وہ عام لوگوں کی طرح سر میں تیشہ مارکے کیوں مرا؟ اس کی تو شیریں کی بے وفائی کی خبر سن کر ہی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرجانی چاہیے تھی۔ اس لیے وہ دو ٹوک انداز میں فیصلہ دے دیتا ہے کہ: ہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدا سے محبت اور ہم کلامی سے بھلا کسے کلام ہوسکتا ہے مگر چونکہ وہ خدا کے جلوے کی تاب لانے میں کامیاب نہ ہوسکے تھے۔ غالب کو تو بات کرنے کا کوئی بہانہ چاہیے، وہ ان کے اس عجز سے فائدہ اٹھانا بھی نہیں بھولتا: کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب آئو ناں ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی! لوگ عموماً غالب کی اس ساری اکڑ فوں اور احساسِ برتری کی وجہ اس کی رگوں میں دوڑنے والے ترک خون کو ٹھہراتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ غالب کو آدم کی عظمت کا احساس بڑے اونچے پیمانے پر ہوچکا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اس کی جناب میں فرشتے کی سرتابی بھی گناہِ کبیرہ قرار پاتی ہے۔ وہ فردوس میں انسانی قیام اور پرانی نسبت کو بھی نہیں بھولتا۔ اسی احساسِ تفاخر ہی میں وہ انسان کے بارے میں ملائکہ کی گواہی کو نامعتبر قرار دیتے ہوئے برملا کہہ اٹھتا ہے: پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا! اور تو اور وہ خدا سے چھیڑ خوانیاں کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ کہیں وہ خدا کی طرف سے ملنے والے دونوں جہاں کو اپنے لیے ناکافی قرار دیتا ہے۔ کبھی کوچہ محبوب کی جلوہ گری کوبہشت پہ ترجیح دیتا نظر آتا ہے۔ کہیں حوروں کی عمر کے معاملے میں عدم اطمینان کا شکار ہے اور کبھی کبھی تو وہ قادر مطلق کو اس طرح کے احمقانہ مشورے دینے سے بھی نہیں چُوکتا: کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملالیں یارب سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی قدرت نے بھی اس شخص کو کیا عجیب مزاج بخشا تھا کہ صرف بیرونی دنیا کے بخیے ادھیڑ کے ہی اس کی تسلی نہیں ہوتی بلکہ اکثر مقامات پر تو خود کو بھی ذلیل و رسوا کرکے مزے لیتا نظر آتا ہے۔ کہیں ستم ظریف محبوب کی محفل سے اٹھائے جانے پر شاد ہے۔ کبھی کوچہ محبوب سے بے آبرو ہو کر نکلنے پر پھولا نہیں سماتا۔ کبھی اپنے پرزے اڑائے جانے کی خبر مزے لے لے کر سناتا ہے۔ کہیںکعبے کا سامنا نہ کرسکنے پر خود کو شرم دلا کے دل کو لبھاتا ہے۔ محبوب کی اپنے بجائے رقیب سے وفاداری دیکھ کے ڈوب مرنے کے بجائے یہ کہہ کے شانت ہوجاتا ہے کہ: غیر سے دیکھیے کیا خوب نبھاہی اُس نے نہ سہی ہم سے، پر اس بت میں وفا ہے تو سہی دن کے وقت لٹ جانے کو رات کے سکون کا پیش خیمہ قرار دے کر مسکراتا نظر آتا ہے اور اکثر مقامات پر محبت کی ناکامی پرکڑھنے کے بجائے ناکامی کا قرعہ اپنے ہی نام نکال کر دوسروں کو بھی اپنے قہقہوں میں شریک کرلیتا ہے: چاہتے ہیں خوبروئوں کو اسد آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے