BN

سپریم کورٹ:بحریہ ٹائون کی کراچی کیلئے 450 ارب کی نئی پیشکش،فیصلہ محفوظ

جمعرات 14 مارچ 2019ء





اسلام آباد (خبرنگار،92نیوزرپورٹ) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کراچی کے منصوبے کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت کرتے ہوئے بحریہ ٹائون کی نئی پیشکش پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور قرار دیا ہے کہ نئی پیشکش کا جائزہ لے کر 21 مارچ کو اس کا فیصلہ کرلیا جائے گا،دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے وضاحت کی کہ یہ تاثر نہ لیا جائے کہ عدالت پیشکش قبول کرلے گی ،پیشکش کا فیصلہ جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا،جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تووکیل علی ظفر نے کہا کہ نئی پیشکش کے بارے میں ایک متفرق درخواست جمع کرائی گئی،متفرق درخواست میں منصوبے کو قانونی بنا نے اور مقدمات کو ختم کر نے کے لیے بحریہ ٹاؤن کراچی کیلئے آفر 440 سے بڑھا کر 450 ارب کر دی جبکہ بحریہ ٹائون نے آفر بڑھا تے ہوئے نیب کیسز ختم کرنے اور زمین منتقلی کی فیس ، ٹیکس استثنیٰ کی بھی استدعا کردی ، بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے استدعا کی کہ پانچ سال 2.25 ارب روپے ماہانہ ادا کرینگے ، بقیہ رقم تین سال میں ادا کی جائیگی جبکہ اسکے علا وہ بیس ارب روپے کی ڈاؤن پے منٹ اور اقساط کی30 فیصد رقم بھی جمع کراتے رہیں گے اسکے بدلے ہم چڑیا گھر، پارکس اور سینما بطور گارنٹی پیش کریں گے ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ زمین کی منتقلی کے قانون کو معطل نہیں کر سکتے ، جو ٹیکس اور سرکاری فیس بنتی ہے وہ دینا ہوگی،وکیل ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے عدالت سے استدعا کی کہ بحریہ ٹاؤن سے سندھ کی حکومتی شخصیات اور افسروں پر بھی مقدمات ختم کیے جائیں جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ڈیل بحریہ ٹاؤن سے ہو رہی ہے سندھ حکومت سے نہیں۔این آئی سی ایل کرپشن کیس میں پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے مرکزی ملزم محسن حبیب وڑائچ کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا،جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سماعت کرتے ہوئے محسن حبیب کے وکیل کی التوا کی درخواست مسترد کردی جبکہ نیب کو دو ہفتے کے اندر اندر محسن وڑائچ گرفتار کرنے اور عدالتی حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ، جسٹس گلزار احمد نے محسن حبیب وڑائچ کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ محسن حبیب نیب میں پیش بھی ہو چکا لیکن نیب نے ملزم کو چائے پلائی بسکٹ کھلائے اور بھیج دیا،کیس کی مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی ، سپریم کورٹ نے وفاقی محکموں کے ڈیلی ویجزکنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے وفاقی حکومت کی اپیلیں مسترد کردیں ، عدالت نے قراردیا کہ ملازمین کی مستقلی سے متعلقہ دیگر کیسز پر مزید سماعت آج ہوگی۔سپریم کورٹ نے فٹبال فیڈریشن کے انتخابات سے متعلق فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ فریقین کو جو اعتراضات ہیں متعلقہ فورم پر اٹھائیں،جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کاآغاز کیا تو جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ فریقین کو الیکشن سے کوئی مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ فیصل صالح حیات کا ہے ، وہ عہدے سے الگ نہیں ہونا چاہتے ۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے لاپتہ افراد کیس کی جلد سماعت کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔ سپریم کورٹ نے پاکستان بار کونسل کی کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت وائس چیئر مین کی عدم موجودگی کے باعث 16اپریل تک ملتوی کردی ۔ 

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں