عمران مستعفی ہوں:اپوزیشن رہبر کمیٹی،کوئی مائی کا لعل حکومت نہیں گرا سکتا:وزیر داخلہ ن لیگ ،پی پی مشاورتی اجلاس آج

بدھ 09 اکتوبر 2019ء





اسلام آباد،لاہور(سٹاف رپورٹر،خبر نگار خصوصی، نمائندہ خصوصی سے ، این این آئی)وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے واضح کیا ہے کہ کسی کے کہنے پر کوئی ماں کا لعل اس حکومت کو نہیں گراسکتا، بلیو ایریا میں دفعہ 144نافذ ہے ،مولانا فضل الرحمن 27اکتوبر کو نہیں آئینگے ،مدارس کے نصاب میں وہ کتابیں شامل کی ہیں جنہیں پڑھ کر مدرسوں کے طلبہ ڈاکٹر اور انجینئر بنیں گے ،نواز شریف کو باہر بھیجنے کا ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں، کیس عدالت میں چل رہاہے ۔ منگل کو پولیس سہولت سینٹر میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سہولت کاؤنٹر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اعجاز شاہ نے کہا کہ مولانا کے اسلام آباد آنے کا وقت ٹھیک نہیں۔انہوں نے کہا کہ 2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام لے کر آئی، جب تک عوام کا اعتماد ہے حکومت کو کوئی نہیں نکال سکتا۔اعجاز شاہ نے کہاکہ عمران خان اسلام آباد آئے تو وہ وقت اور تھا، صحیح وقت پر غلط کام بھی چل جاتاہے ، مولانا ملک کے خلاف آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پولیس کے ٹارچر سیل کسی جگہ نہیں، اگر کہیں ٹارچر سیل نکلے تو کارروائی کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ناموس رسالت کا وزیراعظم کو پورا پاس ہے ، اس حوالے سے کوئی مارچ درست نہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے یہ بات مخصوص تناظر میں کی تھی کہ تین چار لوگ نواز شریف کے گرد تھے جن کی وجہ سے ان کی حکومت گئی۔دوسری جانب منگل کورہبر کمیٹی کااجلاس اکرم درانی کی صدارت میں ہوا جس میں مسلم لیگ ن کے احسن اقبا ل، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری ، فرحت اللہ بابر اور اے این پی کے میاں افتخار شریک ہوئے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی کہا کہ اس حکومت نے لوگوں کو بے روزگار کیا اور کارخانے بند ہیں،مزدور طبقے کو روزگار نہیں مل رہا، کے پی کے کے تمام ڈاکٹرز 12 روز سے ہڑتال پر ہیں۔22 ہزار اساتذہ احتجاج پر ہیں۔ میڈیا پر قدغن لگائی جا رہی ہیں۔جے یو آئی رہنما نے کہا کہ سٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کا کہہ رہے ہیں، یہ کشمیر کے بعد ملک کے ہر اثاثے کو بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف متفق ہے کہ حکومت کا فوری خاتمہ ہو ،وزیراعظم مستعفی ہوجائیں اور نئے الیکشن فوری کرائے جائیں۔ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا،حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے جبکہ سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہوجا ئیگی،سی پیک کو اتھارٹی نہیں فنڈز کی ضرورت ہے ۔ اے این پی کے میاں افتخار نے کہاخیبرپختونخوا میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے کہ کسی کو کہیں بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے مارشل لاء لگادیا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہاسی پیک اور کے پی آرڈیننس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور سی پیک کو فوج کے حوالے کردیا جائے ،اپوزیشن کے مطالبے پرجمعیت علماء اسلام بھی دھرنے اورمذہبی کارڈ کے استعمال سے دستبردارہوگئی ہے ۔ادھر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے آزادی مارچ میں شرکت کاطریقہ کارطے کرنے کیلئے آج (بدھ )اپنے اپنے اجلاس طلب کر لئے ہیں ۔ (ن) لیگ کا اجلاس میاں شہباز شریف کی زیر صدارت ان کی رہائشگاہ ماڈل ٹائون لاہور میں ہو گا۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں