منی بجٹ میں نئے ٹیکس لگیں گے ،آئی ایم ایف شرائط سخت، متبادل انتظام کر لیا:اسدعمر

جمعه 11 جنوری 2019ء





اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ منی بجٹ میں نئے ٹیکس لگیں گے ،تمام تر انحصار آئی ایم ایف پر نہیں کر رہے ،آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں اور ناقابل قبول ہیں، اگر آئی ایم ایف پیکیج نہ ملا تو متبادل انتظام کر لیا ہے ۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کیلئے اہم فیصلے کر رہے ہیں، ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے درمیان گیپ پورا کر لیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف معیشت میں بہتری کیلئے صرف ایک آپشن ہے ۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کوئی غیر معاشی شرط نہیں لگائی، ان سے مذاکرات ابھی جاری ہیں،جیسے ہی اچھا پروگرام فائنل ہو گا تو معاہدہ کر لیں گے تاہم متبادل ذرائع سے بھی فنڈز کے حصول کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور یو اے ای کے قرض پر کوئی شرائط نہیں ، دونوں ممالک سے ملنے والے قرض پر سود ادا ہو گا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں صرف امیروں کیلئے بڑھائی گئی ہیں۔اسد عمر نے بتایا کہ برآمدات و ترسیلات زر میں اضافے اور درآمدات میں کمی سے تجارتی خسارے میں کمی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ جولائی تا دسمبر 2018 نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 65 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ پچھلے سال مجموعی طور پر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 21 فیصد بڑھی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ضمنی فنانس بل میں سرمایہ کاری، کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تجویز کیے جائیں گے ، ضمنی فنانس بل میں برآمدات کی حوصلہ افزائی، درآمدات کی حوصلہ شکنی کے اقدامات تجویز کیے جائینگے ۔قبل ازیں پاک چین پبلک آڈٹ سیمینار سے خطاب میں وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ ٹیکس کے پیسے کو ایمانداری سے خرچ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ آڈٹ کے ادارے کا مضبوط ہونا معاشی ترقی اور استحکام کیلئے ضروری ہے ، اس حوالے سے آڈیٹر جنرل کا کردار اہم ہے ، وفاقی حکومت اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے ، سرکاری فنڈز کے بہتراستعمال کو یقینی بنانے کیلئے آڈیٹرجنرل اپنی بھرپور صلاحیت کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے آڈٹ نظام نے کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، چین میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے ذریعے خزانے کی پائی پائی ایمانداری سے خرچ کی گئی۔ 

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں