لاہور(جوادآراعوان)ملک کی اعلی انٹیلی جنس ایجنسی نے کرپٹ بیوروکریٹس کو ٹریک کرنے کے لئے 30سے زائد افسران کے اثاثوں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے تحقیقاتی اداروں کے حوالے کر دیا تا کہ انکے خلاف باقاعدہ انکوائریاں شروع کی جا سکیں اور جن پر الزامات ثابت ہوں ان پر مقدمات قائم کرکے عدالتوں سے سزائیں دلوائی جا سکیں۔ اعلی حکومتی ذرائع نے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ ملک کے انٹیلی جنس ادارے نے جن بیوروکریٹس کے اثاثوں کا ڈیٹا شیئر کیاہے وہ گریڈ 19سے لیکر 22تک میں کام کر رہے ہیں،ان بیوروکریٹس میں سے زیادہ سابق مرکزی حکومت،پنجاب اور سندھ حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر تعینات رہے ہیں جبکہ تین سابق بلوچستان حکومت اور ایک خیبر پختونخوا میں تعینات رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی مختلف اداروں سے کرپٹ بیوروکریٹس کو تلاش کرنے کی ہدایت کے بعد ایک ٹاپ انٹیلی جنس ادارے کو ٹاسک کیا گیا تھا جس نے آپریشن ہنٹ فار دی کرپٹ کے ذریعے کرپٹ افسران کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا اور گریڈ 20سے 22تک کے بیوروکریٹس کو بلیو کیٹیگری،گریڈ 17سے 19کو ریڈ کیٹیگری اور گریڈ 17سے نیچے کے افسران کو بلیک کیٹیگری میں ڈالا گیا تھا۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت اہم پوزیشنز پر تعیناتیوں کے لئے ٹاپ انٹیلی جنس ایجنسی کی سوٹیبلٹی رپورٹس(Suitibility Reports)کو مد نظر رکھ کر تعیناتیاں کرے گی،سابق حکومت ٹاپ انٹیلی جنس ایجنسی کی سوٹیبلٹی رپورٹس کو نظر انداز کیا کرتی تھی اور اہم پوزیشنز پر من پسند بیوروکریٹس کو تعینات کرتی تھی ۔حکومتی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مختلف سفارتخانوں اور سفارتی تعینایتوں کے لئے انٹیلی جنس اداروں کی سوٹیبلٹی رپورٹس کو خصوصی اہمیت دی جائے گی،سفارتکاری اور دیگر سفارتی ذمہ داریاں نہایت حساس معاملہ ہو تا ہے جس میں انٹیلی جنس اداروں کی سوٹیبلٹی رپورٹس کو نظر اندار کرنے سے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔