لاہور؍اسلام آباد(اپنے نیوز رپورٹر سے ؍نامہ نگار) نیب نے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اﷲ زہری، منظور وسان کے خلاف انکوائریوں کی منظوری دے دی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت ہوا جس میں 9انکوائریوں اور 22 انویسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی،جن کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی، ان میں سابق وزیربرائے ریلوے خواجہ سعدرفیق اوروزارت ریلوے کے افسران؍اہلکاران، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اﷲ زہری،ڈپٹی آڈیٹر جنرل غلام محمد میمن،سابق وفاقی وزیر برائے صنعت وپیداوار منظور وٹو،سابق صوبائی وزیر برائے صنعت سندھ منظور وسان،سابق ایم این اے نواب علی وسان،سابق ایم این اے افتخار گیلانی اور احتساب کمیشن کے پی کے افسران؍اہلکاران شامل ہیں،جن کیخلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی گئی، ان میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،سابق وفاقی وزیربرائے آئی ٹی انوشہ رحمان،سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسمٰعیل شاہ،سابق ممبر پی ٹی اے عبدالصمد،سابق ممبر پی ٹی اے طارق سلطان ،سابق ڈی جی پی ٹی اے رضوان احمد ، ڈائریکٹر پی ٹی اے امجد مصطفی ملک ، سابق ڈی جی اے پی ٹی اے وسیم طارق اور میسرز وارد ٹیلی کام، سابق وزیرسعد رفیق، سلمان رفیق ، ندیم ضیائ، قیصر امین بٹ، پیراگون سٹی لاہور کی انتظامیہ، سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری ، سابق ممبر فنانس کامران قریشی ، سابق ممبر ایڈمن شوکت مہمند ، سابق ممبر اسٹیٹ اسد منیر ، سابق ممبر انوائرنمنٹ مظہر حسین ، سابق ممبر انجینئرنگ؍پلاننگ سی ڈی اے معین الدین کاکا خیل، ڈی جی غلام سرور سندھو، ، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ سی ڈی اے منیر جیلانی اورایم ڈی آف میسرز ڈی ٹی ایس محمد حسین ، کریک مرینہ پراجیکٹ کراچی ،راجہ محمد ذرات خان میسرز باون شاہ گروپ آف کمپنیز ، سابق ڈی جی پی ڈی اے سریر محمد، سا بق جی ایم پی ڈی اے محمود طارق ،ڈاکٹر ایوب روز، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز محکمہ صحت حکومت خیبرپختونخواہ ، پروگرام مینجر آئی وی سی ڈاکٹر افسر انور ، ڈائریکٹر ایڈمن محکمہ صحت حکومت خیبر پختونخوا ڈاکٹر جمال ناصر ،یو ای ٹی یونیورسٹی پشاورکے افسران؍اہلکاران شامل ہیں۔سابق چیئرمین لاہور پارکنگ کمپنی لمیٹڈ حافظ نعمان، سابق چیف ایگزیکٹولاہور پارکنگ کمپنی لمیٹڈ تاثیر احمد اور سابق چیف فنانشل آفیسر؍ایم ڈی عثمان قیوم کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی۔سابق سیکرٹری آر اینڈ ایس گل حسن چنا ، سابق ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ افتخار حیدر، سید عمر احمد،سرفراز مرچنٹ،شاہد رسول،سید محمد مجتبیٰ،مرزا افضل بیگ ،اویس مرزا جمیل اور فرید ثریا،نعیم یحییٰ میر، سینئر جنرل مینجر پاکستان سٹیٹ آئل ڈاکٹر سید نظیر احمد زیدی ،سابق سینئر جنرل مینیجر ذولفقار جعفری ر، سابق جنر ل مینیجر اخترظہیر، سابق ڈائریکٹر جنرل آئل صابر حسین ، چیف آپریٹنگ آفیسر بائیکو پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کامران افتخار لاری ، چیف ایگزیکٹو آفیسر بائیکو پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ عامر عباسی ا ور پریذیڈنٹ ریفائنریز میسرز بائیکو پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ قیصر جمال ، ایڈمنسٹریٹر تعلقہ گڑھی خیرو ڈسٹرکٹ جیکب آباد سندھ،انجینئرٹی ایم اے تعلقہ گڑھی خیرو ڈسٹرکٹ جیکب آباد شہزادو کھوکھر عبدالحمید پٹھا ن اور دیگر،سابق چیف انجینئر سکھر بیراج لیفٹ بینک ریجن احمد جنید میمن، سابق چیف انجینئر سکھر بیراج احمد جنید میمن، سابق سپریٹنڈنٹ انجینئر سعید احمد ، سابق ایگزیکٹو انجینئر امجد احمد ،اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سید حسنین حیدر ، چیف ایگزیکٹو؍ڈائریکٹرمیسرزسردار محمد اشرف ڈی بلوچ اینڈکمپنی شہزاد علی کے خلاف بھی بدعنوانی کا ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی گئی۔ سابق وفاقی سیکرٹری کامرس شہزاد ارباب ،سابق سیکرٹری ایکسپورٹ پالیسی ایف بی آر عمران احمد، آفیسرز ؍آفیشلز کسٹم کلیکٹوریٹ پشاور اور فاٹا کے کلیئرنگ ایجنٹس کے خلاف انکوائری بند کرتے ہوئے وزارت کامرس حکومت پاکستان کو واپس بھجوانے کی منظوری دی۔ علاوہ ازیں احتساب عدالت نے شہباز شریف کے دامادعلی عمران کی جائیداد ضبطگی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا، آج سنایا جائیگا۔دریں اثنا سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے صاحبزادے سلمان شہباز نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے ان کو آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے کی مد میں انکوائری کے لئے طلب کر رکھا تھا۔ نیب کی 3 رکنی ٹیم نے ان سے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور قلمبند کیا۔تحقیقاتی ٹیم نے سلمان شہباز کو ایک سوالنامہ جاری کرتے ہوئے ان سے 7 روز میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ذرائع کے مطابق نیب نے شریف خاندان کے دیگر کاروباروں کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے ۔قبل ازیں نیب نے شریف خاندان کی کمپنیوں سے متعلق ایف بی آر سے بھی ریکارڈ حاصل کر لیا ۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں ایف بی آر نے کس کس شعبے کے لئے ایس آر او جاری کیا، اسکا ریکارڈ بھی نیب کوموصول ہوگیا ہے ۔ذرائع کے مطابق سلمان شہباز، شریف خاندان کی 29 سے زائد کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔سلمان شہباز چنیوٹ پاور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں لیگی رہنما مدثر قیوم ناہرا بھی نیب میں پیش ہوئے ۔ نیب لاہور نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈائریکٹر شوکت بلوچ کو گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق شوکت حسین بلوچ اور اسکے 3 ساتھیوں نے 60 ملین کا فراڈ کیا تھا۔ شوکت بلوچ کے ساتھ دو ڈپٹی اکائونٹنٹ اور لینڈ ایکوزیشن کلکٹر حسن محمود، محمد فاروق اور نوید مراد بھی گرفتار کر لئے گئے ہیں۔احتساب عدالت نے صاف پانی کمپنی کرپشن کیس میں قمر السلام اورسی ای اووسیم اجمل وغیرہ کے جوڈیشیل ریمانڈ میں 24 اکتوبر تک توسیع کر دی۔ملتان سے نیوز رپورٹر کے مطابق سینیٹر حافظ عبدالکریم نیب میں پیش ہو گئے اور اپنے تعلیمی ادارے اور جائیدادوں کا ریکارڈ جمع کرا دیا۔