اسلام آباد (وقائع نگار؍ اے پی پی)وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کی منظوری دیدی جس کے تحت 4 فیصد ٹیکس دے کر کالے دھن کو سفید کیا جاسکے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر غور ٹیکس ایمنسی سکیم 2019 کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان نے کابینہ کو بین الاقوامی عدالتوں؍ثالثی فورمز میں زیرالتوا مقدمات میں پیشرفت کے بارے میں پریذنٹیشن دی ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2008 سے لیکر 2018ء تک حکومت پاکستان نے مختلف مقدمات میں وکلا کو فیس کی مد میں 100ملین ڈالرز ادا کئے ہیں جبکہ اس سال ابھی 10ملین ڈالرز مزید ادا کرنے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت پٹرولیم ، وزارت بجلی اور وزارت مواصلات وغیرہ سمیت بڑی بڑی وزارتوں میں لیگل ایڈوائزرز کی تقرری کی جائے گی۔ کابینہ نے ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ کابینہ نے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ کی تجدید اور میسرز پی آئی اے سی ایل کے فضائی کام اور چارٹر کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی)کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوامی جمہوریہ الجیریا کی حکومتوں کے درمیان تجارتی معاہدہ کی بھی توثیق کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز نے کابینہ کو مختلف ادویات کی قیمتوں میں کمی کے بارے پیشرفت پر بریف کیا اور بتایا کہ ادویات کی پرچون قیمتوں میں کمی سے صارفین کے 9ارب روپے بچانے میں مدد ملی۔ کابینہ نے میجر جنرل عمراحمد بخاری کی بطور ڈی جی پاکستان رینجرز سیکنڈمنٹ کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے بیرونی ممالک میں قید اور زیر حراست پاکستانیوں کو قونصلر معاونت کی فراہمی کے بارے پالیسی کی بھی منظوری دی۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے ۔مشیر خزانہ نے کہا30 جون تک سکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس سکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا جو ان پر انحصار کرتے ہیں، وہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔انہوں نے کہا اس سکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور رئیل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں کو 4 فیصد کی شرح دے کر اثاثے ظاہر کرنے والی سکیم میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا ملک یا بیرون ملک موجود نقد اثاثے ظاہر کرنے پر شرط یہ ہے کہ انہیں کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھا جائے جبکہ رئیل اسٹیٹ کے معاملے میں اس کی قیمت ایف بی آر کی مقرر کردہ قیمت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کی قیمت کے قریب آسکے ۔انہوں نے بتایا پاکستان سے بیرون ملک لے جائے گئے پیسوں کو اگر سفید کرنا ہے تو اسے بھی کیا جاسکے گا اور انہیں 4 فیصد دینا ہوگا اور بقایا رقم کو پاکستان میں لاکر یہاں کے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا پڑے گا، تاہم وہ اگر پاکستان میں پیسے نہیں لانا چاہتے اور بیرون ملک ہی اسے سفید کروا کر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں 4 فیصد کے ساتھ مزید 2 فیصد دینا پڑے گا۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ سال 2000 کے بعد سرکاری عہدہ رکھنے والے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے اور یہ سکیم تمام افراد اور کمپنیوں پر لاگو ہوگی۔این این آئی کے مطابق حفیظ شیخ نے کہا ہمارے پاس 28 ممالک میں پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ اکاؤنٹس کی تفصیلات ہیں۔حفیظ شیخ نے کہا ایمنسٹی سکیم کے تحت اگر بے نامی یا کالے دھن سے بنائی گئی جائیداد کو قانونی دائرے میں لاتے ہوئے وائٹ نہ کیا گیا تو ایسی تمام جائیداد حکومت اپنی تحویل میں لے لے گی۔ بریفنگ میں مشیر خزانہ نے بتایا اثاثے ظاہر کرنے کی ان ڈیکلیئر سیلز ظاہر کرنے پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں کچھ بنیادی نقص ہیں جنہیں درست کرنا ہے ، شروع سے لے کر اب تک برآمدات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، ٹیکس وصولیوں پر کام نہیں کیا گیا، بڑے نقائص کو درست نہ کیا تو پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے والوں کو ’’پاکستان بناؤ‘‘ سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی جبکہ غیر ملکی اثاثے پاکستان واپس لانے کی بھی تجویز شامل ہے ۔ ذرائع کے مطابق سکیم کا اطلاق بے نامی بینک اکاؤنٹس پر بھی ہوگا جس کے تحت بے نامی اکاؤنٹس کی یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک کی ٹرانزیکشنز پر اطلاق ہوگا۔وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ پچھلے سال جو سکیم آئی تھی اس میں ٹیکس فائلر بننے کی کوئی شرط نہیں تھی ، لیکن اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ہر صورت ٹیکس فائلر بننا ہوگا۔چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا جائیداد پر ٹیکس کیلئے تین ریٹ ہیں اور ظاہر کرنے کیلئے اصل ریٹ پر ٹیکس وصول ہو گا،سرکاری عہدہ رکھنے والے اس سکیم میں شرکت نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا مختلف اداروں کے ڈیٹا کو یکجا کیا جا رہا ہے جس سے بے نامی اثاثے رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ شبر زیدی نے کہا کسی ٹیکس ادا کرنے والے آدمی کو ڈی ٹیکس نہیں کیا جائے گا،ٹیکس ادا کرنے والے آدمی یا ادارہ پر ریڈ نہیں کیا جائے گا ۔