اسلام آباد (خبر نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں پچاس لاکھ گھربنانا خالہ جی کا گھر نہیں، اتنے گھر صرف اعلان سے نہیں بن جائیں گے ،اس کے لیے وقت اور پیسہ درکار ہوگا، کئی لوگ ایک گھر میں چار خاندان رجسٹرڈ کرا لیں گے تاکہ زیادہ گھر ملیں،کبوتروں کا پنجرہ بنایا جائے تو بھی دیکھا جاتا ہے کتنے کبوتر آئیں گے ،حد ہو گئی، پھر کہتے ہیں تبدیلی آگئی ہے ۔سپریم کورٹ میں میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس نے کہاکیا حکومت نے کچی آبادیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے ؟، وزیراعظم جاکر کچی آبادیوں کے حالات دیکھیں،وہاں حالات رہنے کے قابل نہیں، حکومت کا کام ہے کچی آبادی کے مکینوں کو سہولیات دے ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے کہا پچاس لاکھ گھر بنانے کا وزیراعظم نے اعلان کیا ہے ، عدالت تھوڑا وقت دے ،عملدرآمد رپورٹ دیں گے ، بلوچستان میں بھی کچی آبادیوں کوریگولر ائزکیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا اصل مسئلہ ہی وقت کا ہے ، حکومت کی نیت پر شک نہیں، نئے گھروں کے تعمیر تک کچی آبادیوں کی حالت بہترکریں،معلوم کر کے بتائیں وزیراعظم کب فارغ ہیں، خود چل کر کچی آبادیوں کے حالات دیکھیں،میں تو دیکھ آیا ہوں،خود یکھ لیں کتنے لوگوں کو جگہ دی جاسکتی ہے ،معلوم نہیں وزیراعظم کو یہ بات قبول ہو گی یا نہیں،انہیں حکم جاری نہیں کر رہا، بطورچیف ایگزیکٹو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کچی آبادی میں کتنے مکین رہتے ہیں،اسلام آباد کی کچی آبادیاں رہنے کے قابل نہیں،سی ڈی اے کے پاس کچی آبادی کے مکینوں کا ریکارڈ بھی نہیں ہو گا ، سی ڈی اے کے حکام تو کچی آبادی کے لوگوں کو نکالنے کے چکر میں ہیں،کیا کچی آبادی کے لوگوں نے صرف کیڑے ہی رہنا ہے ۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا پشاور میں کچی آبادی کو ریگولرائز کرکے پکے گھر بنا دیے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کمیشن بنا کر دیکھ لیتے ہیں کہ پشاور میں کیا کرشمہ دکھایا ،کیا پشاور میں تبدیلی آگئی اور سارے مسائل حل ہوگئے ،اگر کسی نے کچی آبادیوں کے لوگوں کی حالت زار کو دیکھنا ہو تو ہچکی فلم دیکھے ،پھر معلوم ہوگا غریبوں کیساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی سے آگاہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا سندھ حکومت کی کچی آبادی کا وزٹ کر لیتے ہیں، وزیر اعلی سندھ اور چیف سیکرٹری میرے ساتھ ہوں گے ۔سپریم کورٹ نے کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کے بارے عدالتی معاون کے مجوزہ مسودہ قانون پر اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز سے چار ہفتوں میں رائے طلب کرلی۔