کشمیر اورفلسطین کی حمایت جاری رکھیں گے: علوی، اسلام امن کا مذہب،دہشتگردی سے تعلق نہیں: پیغام اسلام کانفرنس

پیر 15 اپریل 2019ء





اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کا پیغام ہمدردی اور مساوات ہے ،ہم کشمیر اورفلسطین کے مسلمانوں کی حمایت جاری رکھیں گے ۔اس موقع پر انہوں نے اپنے گلے میں فلسطین کا پرچم گلے میںپہنا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے دنیا کو پاکستان کی افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور قربانیاں دے کر ملکی بقاء کیلئے کام کیا۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر دنیا کو بتایا کہ انسانیت کیا ہوتی ہے ۔پاکستان کشمیری اور فلسطینی بھائیوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے ، دہشت گردی،مذہبی منافرت اور تشدد پسندانہ رحجانات کو اسلام کے ساتھ منسوب کرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔ سعودی سفیر نواف المالکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کا قیام اسلامی اصولوں پر ہوا، ارض حرمین شریفین کی حکومت مسلمانوں کی خدمت کیلئے پیش پیش ہے ۔سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، ہم مسلم امہ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں۔ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداﷲ عواد الجہنی نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی امت کے حوالے سے سب سے زیادہ خدمات ہیں۔ اسلام مکمل دین ہے اور خیر کا دین ہے ، یہ اخلاق کا دین ہے ، اس نبی کا دین ہے جو اخلاق کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے ، اس دین کیخلاف سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔بعد ازاں حافظ طاہر اشرفی نے پیغام اسلام کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایاجس میں کہا گیا کہ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ اسلام کا دہشت گردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں، اسلام محبت اعتدال اور رواداری کا مذہب ہے ۔ اسلامک فوبیا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت قابل مذمت ہے ، کسی بھی مذہب کی توہین کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ قانون سازی کرے ۔پیغام اسلام کانفرنس نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کیلئے امن پیغام ایوارڈ کا اعلان کیا۔اعلامیے کے مطابق مسائل کا حل مذاکرات سے ممکن ہے جس کیلئے دنیا میں مکالمے کو فروغ دینا چاہیے ۔کانفرنس کے اعلامیے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو پاکستان سے تعلقات کیلئے کردار پر سال کی شخصیت قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف خدمات کو احسن انداز میں دیکھتی ہے اور افواج پاکستان کیلئے پیغام اسلام کانفرنس شیلڈ کا اعلان کرتی ہے ۔ اعلامیے میں افغانستان میں امن کیلئے آگے بڑھنے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئیے ہم قاتلوں کے معاون بننے کی بجائے امن کے معاون بنیں اور ہم انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ پرستی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں۔اعلامیے میں نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر عمل درآمد کرانے ، کشمیر اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ بھی کیا گیاجبکہ یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں، برطانیہ اور دیگر ممالک میں مساجد پر حملوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کوشش کی جائیگی۔ 

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں