لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے ) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن کیلئے نئی ڈیل کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے ،چیف جسٹس آف پاکستان نے جو گریٹر ڈائیلاگ کی بات کی ہے ، اداروں کو اس کی طرف جانا چاہئے ۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا اداروں کے درمیان اختیارات کی لڑائی میں نہیں پڑنا چاہئے ، آرمی چیف نے ہمیشہ سول اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے جبکہ وزیراعظم بھی اداروں کا استحکام چاہتے ہیں،اس وقت بڑا اچھا ماحول بن گیا ہے جہاں ہم ملک میں اداروں کے درمیان استحقام لے کر آ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے کردار کو نظر اندا ز نہیں کیا جاسکتا،معاشی پالیسی اور آرمی ایکٹ میں ترمیم پر اتفاق رائے بہت ضرور ی ہے ، اس کے لئے دونوں ایوانوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے ، جب تک اداروں کے درمیان توازن نہیں ہوگا ،نیا میثاق نہیں ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا الیکشن کمیشن کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن میں کوئی اختلا ف نہیں، شہباز شریف کی طرف سے جو نام آئے ، وہ سنجیدہ ہیں اور جو پی ٹی آئی نام تجویز کرے گی، وہ بھی سنجیدہ ہوں گے اور مل کر ایماندار اور غیر جانبدار شخصیت کا تقرر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا پارلیمنٹ عملی طور پر غیر فعال ہیں، اس کو حقیقی معنوں میں فعال کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر رولز آف گیمز طے کر نا ہوں گے ۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کرتاہوں ،طلبہ پر ایف آئی آرز کا جو بھی مشورہ دے رہا ہے ،غلط دے رہا ہے ،دو چار نعروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پرویز مشرف کے حوالے سے انہوں نے کہا جب انسان طاقت میں ہو تو کوئی آواز نہ اٹھائے اور جب کمزور ہوجائے تو چاروں طرف سے حملہ کر دیا جائے ،پرویز مشرف کے ساتھ جن وکیلوں نے پی سی او تیار کیا، ان کے لائسنس معطل نہیں ہوئے ، جو حکومت اس وقت ان کے ساتھ تھی، ان کے خلاف بھی کیس ہونا چاہئے ،جنرل عبدالقادر بلوچ جنھوں نے مارشل لاء عملی طور پر لگایا اور زاہد حامد جن کا ایمرجنسی میں کردار تھا ،وہ ن لیگ کے دور میں وزیر رہے ، یہ ایسے ایشوز ہیں جن کوجتنا کریدیں گے ، تلخیاں بڑھیں گی۔انہوں نے کہا نیب کے حوالے سے تمام تر پارٹیوں کے گلے ہیں ،اس قانون پر ترمیم کی ضرورت ہے ،کیا کیا ترامیم کی ضرورت ہے ، اس پر مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید کہا اگلے سال فروری میں ائیر فورس سپیس مشن کے لئے شارٹ لسٹنگ شروع کر دے گی، اس سال 600 گنا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اضافہ ہوا ، آئندہ برس اس بجٹ کو ایک ہزار گنا تک لے جائیں گے ،روس کے تعاون سے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں مزید جدت لانے کے لئے کمیٹی بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے اپنے کمبسچن انجن بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے ،ہم اپنے پاکستان میں سولر پینل بنانا شروع کر دیں گے ،ملک میں لیتھیم بیٹری بنائیں گے ،اگلے 10 برسوں میں چار ارب ڈالر کی بائیو ٹیکنالوجی سے ایکسپورٹ کریں ،بھارت سے تعلقات خراب ہونے پر ہمیں بھارت سے مختلف ویکسین ملنا بند ہو گئی تھی جسے اب ہم خود بنائیں گے ۔