اسلام آباد(نامہ نگار) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے دھیلے کی نہیں بلکہ کروڑوں ،اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی جس کے باعث مبینہ طور پر پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہوا، ملک میں غربت، افلاس، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہے ، جب زیادہ کرپشن ہوگی تو زیادہ کیس بنیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مفتی احسان مضاربہ کیس کے متاثرین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں نیب راولپنڈی کی جانب سے 2698 متاثرین میں 24 کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد رقم تقسیم کی گئی۔چئیرمین نیب نے کہا مضاربہ کیس میں اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر سادہ لوح اور معصوم لوگوں کو لوٹاگیا۔لوگوں کو بھاری شرعی منافع کا لالچ دیکر عمر بھر کی جمع پونجی لوٹی گئی۔ مضاربہ کیسز ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہیں۔ نیب کی موثر پیروی کے باعث اس کیس میں مفتی احسان او رساتھیوں کو 10 سال سزا اور 10 ارب جرمانہ ہوا۔ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ نیب نے اپنے قیام سے لیکر ابتک 466 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جبکہ گزشتہ 3 سال کے دوران 364 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جو نمایاں کامیابی ہے ۔نیب کے مختلف عدالتوں میں 1240 کیسز زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 1200 ارب روپے ہے ۔ ملک سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی جس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ فالودہ والے اور چھابڑی والے کے نام پر اربو ں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ انہوں نے یکطرفہ احتساب کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کچھ لوگ 30 سال اور کچھ لوگ چند سال سے اقتدار میں ہیں۔ وہ صاحب اقتدار بھی ضمانتیں کرا رہے ہیں ۔ ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے ۔تمام سکینڈلز کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔