لاہور(اپنے نیوز رپورٹر سے ،کرائم رپورٹر،سپیشل رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) احتساب عدالت لاہور کے ڈیوٹی جج جواد الحسن نے چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار نائب صدر ن لیگ مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو مزید 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوا دیا۔ عدالتی حکم پرمریم نواز اور یوسف عباس روسٹرم پرآئے اور حاضری کا عمل مکمل کیا گیا، عدالت کے بار بار منع کرنے کے باوجود لیگی کارکن عدالت میں نعرے بازی کرتے اور مریم نواز کے ہمراہ سیلیفیاں لیتے رہے ،جس پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اورتمام لوگوں کو فون بند کرنے کا حکم دیا، فاضل جج نے کہا عدالت میں کیا تماشہ لگایا ہوا ہے ، کارکنوں کو کیوں اندر آنے دیاگیا؟، عدالت نے حکم دیا سکیورٹی اہلکاروں کو بلوایا اور عدالت میں سماعت کا ماحول بنایا جائے ۔عدالت نے مریم نواز کی وکلا ء کے ساتھ مشاورت کی درخواست منظور کرلی اور کہا ملاقات میں کوئی غیر متعلقہ شخص موجود نہ ہو۔جج نے نیب پراسکیوٹر سے پوچھامریم نوازاور یوسف عباس کا ریفرنس کب دائر کیا جائے گا؟، نیب پراسیکیوٹر نے بتایادونوں کے خلاف تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مکمل ہونے پر ریفرنس دائر کردیا جائے گا۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے موبائل کی برآمدگی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاجنہوں نے الزام لگایا تردید بھی انہی کی طرف سے آئی، جس غلط طریقے سے یہ حکومت آئی اسی طرح سے چلی جائے گی، جس طرح جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اسی طرح دھاندلی زدہ حکومت کے پاؤں نہیں۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا آج محبان وطن عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں ، ان کا گناہ صرف اتنا ہے کہ وہ آئین پاکستان اور جمہوریت سے پیار کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کا خط نواز شریف کو پہنچا تھا اور نواز شریف کا پیغام مولانا کو، اب آپ تیاری کریں،اب کی بار پورا پاکستان دھرنے میں آئے گا۔ادھرانسداد منشیات عدالت کے جج خالد بشیر نے منشیات سمگلنگ کیس میں لیگی رہنما رانا ثنا اﷲ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 9 روز کی توسیع کرکے 18 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتی حکم پررانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے وقت سیف سٹی کی بننے والی فوٹیج اور رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، عدالت نے مدعی مقدمہ کو طلب کرلیا۔وکیل رانا ثنا نے کہا مقدمہ کا مدعی اور تفتیشی اے این ایف سے ہیں،قانون کے مطابق تفتیش آزادانہ ہونی چاہئے ۔سرکاری وکیل نے کہا فرد جرم عائد کی جائے تاکہ ٹرائل شروع ہو،سی ڈی آر کا ریکارڈ ایک سال تک محفوظ رہتا ہے ، اس وقت منگوانے سے کیس میں تاخیر ہوگی۔ اس دوران اینٹی نارکوٹکس پراسیکیوٹر اور رانا ثنائاللہ کے وکلاء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی،کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی درخواست پرعدالت نے وکلاء کو نوٹس جاری کردئیے ، وکلاء کے کمرہ عدالت میں نعرے بازی پرعدالت نے اظہار برہمی کیا۔میڈیا سے گفتگو میں رانا ثنا اﷲ نے کہافوٹیج نے سب واضح کردیا کہ میرے خلاف جھوٹی کاروائی کی گئی،شہریار آفریدی قوم سے معافی مانگے ،آرمی چیف سے پہلے بھی اپیل کی تھی کہ میرے خلاف جھوٹامقدمہ بنانے کا نوٹس لیا جائے ،حکومت نے گھٹیا سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا،آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے پارٹی کے فیصلے کے ساتھ ہوں،پارٹی مولانا کے آزادی مارچ میں شرکت کرے گی۔مریم نواز اور رانا ثناکی پیشی کے موقع پر پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے ،فیروز پور روڈ کوکنٹینرز لگا کر بند کیا گیاتھا۔