آرمی چیف جنرل قمر باجوہ ، وزیراعلی پنجاب کی ملاقاتیں، ایران سعودیہ فوجی تنازع پاکستان کیلئے تباہ کن ہوگا: وزیراعظم

جمعه 17 جنوری 2020ء





اسلام آباد(سپیشل رپورٹر، 92 نیوزرپورٹ ) وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں علاقائی سکیورٹی سمیت سرحدی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا۔ایل اوسی کی صورتحال سے بھی وزیراعظم کوآگاہ کیاگیا۔مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستانی کاوشوں ، خطے کے دیگرممالک سے رابطوں پربھی بات چیت کی گئی۔وزیراعظم سے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارنے بھی ملاقات کی اور صوبے کی صورتحال سے آگاہ کیا۔وزیراعلی نے وزیراعظم کو(ق) لیگ کے مطالبات سے بھی آگاہ کیا۔ذرائع نے بتایا وزیراعلیٰ بزدار کا کہنا تھا ق لیگ کا مطالبہ ہے ان کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز دیے جائیں اور وفاقی کابینہ میں مونس الہی کو شامل کیا جائے ۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ق لیگ کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی کابینہ کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی ۔ وزیر اعظم نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول اور عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا موجودہ حکومت کی واحد ترجیح عام آدمی کوریلیف کی فراہمی ہے ۔ اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر موثر کنٹرول اور مہنگائی کیخلاف کم آمدن والے اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا حکومت کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ معیشت کی بہتری کیلئے اصلاحاتی عمل میں عوام خصوصاً کم آمدن والے اور غریب طبقے کیلئے مشکلات ہیں۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہے مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ وظیفے میں اضافہ کرنے کی تجویز کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اس پر حتمی فیصلہ کیا جاسکے ۔ وزیرِاعظم نے مشیر تجارت کو ہدایت کی کہ کھاد کی قیمت میں چار سو روپے تک کمی لانے کے حوالے سے تجاویز اور مطلوبہ اقدامات کو جلد حتمی شکل دی جائے ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی تمام متعلقہ وزارتیں دو روز میں عوام کو ریلیف کی فراہمی کے ضمن میں اقدامات پر عملدرآمداور ان کے نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس میں سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں اتحادیوں کے تحفظات پر بات چیت کی گئی، اپوزیشن سے نمٹنے کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی اور آئی جی سندھ کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے نجی ٹی وی پروگرام میں غلط رویہ اختیار کرنے پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی سخت باز پرس کی ۔ وزیراعظم نے شرکا کو 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز سے منانے کی ہدایت کی اور کہا اس میں حکومتی اور پارٹی کی سطح پر زیادہ سے زیادہ تقریبات کا اہتمام کیا جائے ۔وزیراعظم نے کہا وہ مہنگائی میں کمی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ،اس حوالے سے جلد بہتر نتائج سامنے آئیں گے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پنجاب سے اراکین اسمبلی کی شکایات کے ازالے اور مرکز اور پنجاب میں معاملات میں بہتری کیلئے دو رکنی کمیٹی شکیل دیتے ہوئے اراکین اسمبلی کو عوامی سطح پر رابطوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ کمیٹی پارٹی کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی اور چیف ویب عامر ڈوگر پر مشتمل ہوگی جنہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے دفتر سے رابطے میں رہیں گے اور ارکان اسمبلی کے مسائل براہ راست وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کو پہنچائیں گے ۔ اسلام آباد (نیٹ نیوز ) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے سعودی عرب اور ایران کے درمیان فوجی تنازع پاکستان کیلئے تباہ کن ہوگا،بھارت پر آر ایس ایس کا قبضہ المیہ ہے ، بھارت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایک ایسا ملک ہے جسے انتہا پسند چلا رہے ہیں۔جرمن خبررساں ادارے کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھایہ درست ہے کہ ہم مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں اور ہمیں اپنے اقدامات کو متوازن رکھنا ہی ہے ۔مثال کے طور پر سعودی عرب پاکستان کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک ہے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے ۔ پھر ایران ہے جس کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان فوجی تنازع پاکستان کیلئے تباہ کن ہوگا۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب نہ ہوں۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جو ایک اور تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی بہترین کوششیں کر رہا ہے ۔ امیدہے امریکہ اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا میں وہ پہلا لیڈر تھا، جس نے دنیا کو خبردارکیا تھا کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے ۔ بھارت پر ایک ایسی خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ غالب آ چکی ہے ، جو 'ہندتوا‘ کہلاتی ہے ۔ یہ بھارت کیلئے المیہ ہے اور اس کے ہمسایوں کیلئے بھی کہ اس ملک پر آر ایس ایس نے قبضہ کر لیا ہے ، وہی آر ایس ایس جس نے عظیم مہاتما گاندھی کو قتل کرایا تھا۔ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایک ایسا ملک ہے جسے انتہا پسند چلا رہے ہیں۔جب میں وزیر اعظم بنا تو میں نے بھارتی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کیساتھ مکالمت کی کوشش کی۔ میں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم اپنے باہمی اختلافات دور کرنے کیلئے دو قدم آگے بڑھیں گے ۔ لیکن جلد ہی میں نے یہ دیکھ لیا کہ بھارت نے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے اس پر کوئی بہت اچھا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ بات اس وقت بھی پوری طرح ظاہر ہو گئی تھی، جب بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کواپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین متنازعہ علاقہ ہے ۔ پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کیلئے تیار ہے ۔ یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کیساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزادی۔ایک اور سوال پرانہوں نے کہا بدقسمتی سے مغربی ممالک کیلئے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔ بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور یہی وجہ ہے آٹھ ملین کشمیریوں کیساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ، اور جو کچھ بھارت میں مجموعی طور پر اقلیتوں کیساتھ بھی، اس پر بین الاقوامی برادری کے رویے میں قدرے سرد مہری پائی جاتی ہے ۔ بھارت کا شہریت ترمیمی قانون واضح طور پر اقلیتوں کیخلاف ہے ، خاص طور پر بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کیخلاف۔ ان تمام امور پر دنیا کے خاموش رہنے کی وجہ زیادہ تر تجارتی مفادات ہیں۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں